غازی علم دین شہید رحمۃ اﷲ علیہ

امت مسلمہ وہ عظیم الشان ملت ہے جس نے دورغلامی میں بھی اپنی مایہ ناز روایات کو سربلند رکھاہے،اورطوق غلامی کے باوجود اس امت کی کوکھ سے ایسے سپوت جنم لیتے رہے ہیں جن کے کارہائے نمایاں پر ایک زمانہ حیران و ششدر اور انگشت بدنداں رہا ہے اورامت کا پرچم ہمت واستقامت بلندوبرتر رہا۔حب رسولﷺاس امت کا خاصہ ایمان ہے اوریہ واحد جذبہ ہے جس نے غلامی کی اندھیری غاروں میں ،جہاں قومیں اپنا وجود گم کر بیٹھتی ہیںاور ان کے نام و نشان تک مٹ جاتے ہیں ،امت مسلمہ اس روشن چراغ کی بدولت ایک بار پھر شاہراہ آزادی پربام عروج زمانہ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔بنی اسرائیل پرچارسوتیس سال تک مصریوںکی غلامی مسلط رہی اور انبیاء علیھم السلام کی قیادت اور کتب آسمانی کانزول بھی انہیں آج تک اس غلامی کے اثرات سے نکال نہیں سکے اور خدائی ذلت و مسکنت اب بھی ان کا مقدر ہے جبکہ یہ فیض محمدی ﷺ ہے کہ امت مسلمہ پر جہاں شرق تا غرب بدیسی آقامسلط رہے اور اپنی حتی المقدور مساعی کے باعث اس امت کا سب مال و اسباب چھین چکنے کے باوجود عشق نبیﷺان کے سینوں سے سلب نہ کرسکے۔تعلیم سے دفاع تک اور معاشرت سے معیشیت تک اور اقتدارکے ایوانوں سے گلیوں ،سڑکوں اور بازاروں کی عامی اصطلاحات تک ،ان بدیسی آقاؤں نے سب کچھ بدل ڈالاحتی کہ ہماری قوم میں اپنا ذہنی پسماندہ غلام طبقہ بھی انڈیل دیاجوآزادی کے بعد بھی آج تک اپنے گزشتہ آقاؤں کے رنگ میں رنگاہواہے لیکن اس سب کے باوجودالحمداﷲ ایمان کی دولت سے وہ اس امت کو محروم نہ کر سکے ۔مسلمان کے سینے میں جب تک حب نبیﷺ موجود ہے وہ دنیاکے سارے معاملات پرمصلحت سے کام لے لے گالیکن ذات نبویﷺ پر وہ کسی طرح کادباؤبرداشت نہیں کرے گا،یہی ہماراماضی ہے ،یہی ہمارا حال ہے اور جب تک یہ سورج چاند ستارے موجودرہیں گے یہی ہمارا مستقبل ہوگا،اس دنیامیں بھی محسن انسانیت ﷺسے تعلق خاطر ہماری پہچان ہے اور اس دنیامیں بھی خدائی کارکن اسی نسبت سے ہمیں پہچانیں گے،انشاء اﷲ تعالی۔
غازی علم دین شہید امت مسلمہ کی عظیم الشان تاریخ کا دمکتاہوا ماہتاب ہے۔3دسمبر1908ء کو لاہور کے ایک محلے کوچہ چابک سواراں میں پیداہوئے،خوش قسمت والد ’’صالح مند‘‘پیشے کے اعتبار سے لکڑی کے ماہر کاریگر تھے۔شہید نے ابتدائی تعلیم اسی محلے کے ایک مدرسے میں حاصل کی اور عنفوان شباب میں قدم رکھتے ہی اپنے آبائی پیشے سے وابسطہ ہو گئے اور اپنے والد محترم اور بڑے بھائی میاں محمدامین کی شاگردی اختیار کر لی۔1928ء میں آپ نے سنت انبیاء علیھم السلام تازہ کی اور ہجرت کر کے تو کوہاٹ منتقل ہو گئے جہاں بنوں بازار میں لکڑی کی باختہ سازی کاآغاز کیا۔مشاہیرتاریخ اسلام میں سے ایک’’غازی علم دین شہید‘‘کے یہ کل حالات زندگی ہیں۔علامہ اقبال نے فیضان نظر اور مکتب کی کرامت کے فرق کے ساتھ ایک بہت بڑے فکروفلسفے کو گویادریاکو کوزے میں بندکر دیاہے۔نہ معلوم کس ماں نے کس کس طرح کی لوریاں سناتے ہوئے اس بطل حریت کو اپنے سینے کے بہشتی چشموں سے سیراب کیاتھا اور مقدس باپ نے خون پسینہ ایک کر کے کس کس طرح سے رزق حلال کے لقمے اس کے حلق میں ٹپکائے تھے کہ ایمان وعمل کاایک سمندر اس نوجوان کے قلب سے جاری و ساری ہوااور عشق نبیﷺنے اس مرد مجاہد سے وہ کام لے لیا کہ دنیاو آخرت کے وعدے اس کے لیے صادق ہو گئے ۔
سرزمین ہندوستان پر صدیوں سے مسلمان اور ہندو اقوام باہم شیروشکر ہوکر آباد تھے اور ایک دوسرے کے مقدسات کااحترام کرتے تھے۔ایک زمانے سے چونکہ مسلمانوں کی حکمرانی تھی اور ہندو رعایاکی حیثیت سے ریاست کے باشندے تھے اسی لیے کوئی خون خرابہ،بگاڑ ،انتشار یادھینگامشتی نہیں ہوئی۔بلکہ تاریخ شاہد ہے ہندو قومیتوں کو خوش کرنے کی خاطر مسلمان حکمران بعض اوقات ایسی حدود سے بھی آگے گزر گئے کہ ان کے اپنے ہم مذہب ان سے نالاں و گریزاںرہنے لگے۔گردش ایام کو یہ امن و آشتی شاید پسند نہ آئی اور ایک فتنہ پرورقوت نے اس جگہ پر اپنا گھرکرلیااور ’’لڑاؤاورحکومت‘‘کرو کے عنوان سے یہاں کی ملتوں اور قومیتوں کو جوباہم یک جان دوقالب تھیں انہیں باہم دست و گریبان کر دیا۔مسلمان چونکہ اصول ہائے جہاں بانی سے واقف حال تھے اور گزشتہ ایک ہزار سالوں سے دنیاکے تخت اقتدارپر جلوہ افروز رہے تھے اس لیے بدیسی حکمرانوں کی ان چالبازیوں کو سمجھ گئے لیکن ہندوقومیتیںبوجوہ نابلد رہیں اور انہوں نے بدیسیوںکی آشیربادکی خاطراپنے ہم وطنوںسے نازیبا چھیڑچھاڑ شروع کر دی،شومی قسمت کہ یہ مشق ستم تادم تحریرجاری ہے۔اسی کھیل کاایک کردار’’کمار پرسادپریت‘‘ایک ہندوتھا جس نے ’’چامی پتل لاچی‘‘کے قلمی یافرضی نام سے ایک شرانگیزکتاب لکھی جس میں محسن انسانیتﷺکی شان میں گستاخی کرکے تومسلمانوں کی دل آزاری کی گئی تھی۔اگرچہ کسی نازیباتحریرکاوقوع پزیرہونا بھی ایک قابل مواخذہ امر ہے لیکن ایسی قابل اعتراض تحریرکاشائع ہوجانا اس سے بھی زیادہ موجب دل آزاری ہے۔’’مہاشے راج پال‘‘لاہورکا وہ مکروہ کردارہے جس نے1923ء میں اس بدبودارکتاب کی اشاعت جیساشرانگیزکام کیا۔ہندوتنگ نظری ملاحظہ ہوکہ 1912ء میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اپنے کرتوتوں کے باعث شاید اپنی موت مر جاتالیکن 1947ء کے بعداس ادارے کو دہلی منتقل کردیاگیااور آج یہ ادارہ’’راج پال سنز‘‘کے نام سے ہندوستان کے صف اول کے اشاعتی اداروں میں اس کا شمار ہوتاہے۔
اس کتاب کی اشاعت مسلمانوں کی غیرت ایمانی پر بجلی بن کر گری اورہندوستان کی ملت اسلامیہ میں اس کتاب نے بہت بڑااضطراب پیداکردیا۔مسلمان راہنماؤں نے پہلے قانون کاسہارالیااورانگریزکی عدالت میں اس کتاب کی ضبطی کی درخواست جمع کرائی،نتیجہ، کتاب کے ناشرکوچندماہ کی قید۔اس سزاکے خلاف ناشر نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تو جسٹس دلیپ مسیح نے اس کتاب کے ناشرکورہاکردیا۔گویابدیسی استعمار چاہتاتھاکہ یہ معاملہ طول پکڑے اور ہندؤںاورمسلمانوں کے درمیان کشت و خون کی ہولی کھیلی جائے۔فطری ردعمل کے باعث مسلمانوں نے جمہوری راستے اختیارکیے اورمظاہروں کاسلسلہ چل نکلا۔انگریزسرکارنے مسلمانوں کی دل شکنی کامداواکرنے کی بجائے ایک طرف تومسلمان راہنماؤں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی تودوسری طرف راجپال کی حفاظت کے لیے پولیس کی نفری فراہم کر دی،گویا آگ کو مزید بھڑکادیا۔مسلمان آج بھی انگریزکی اس سازش کو سمجھتے ہیں لیکن صدافسوس کی ہندو اس وقت بھی اس سے نابلد رہے۔اب مسلمان مجبور تھے کہ خود ہی کچھ کریںچنانچہ 24ستمبر1928کولاہور کے ایک شیردل غازی خدابخش نے راجپال پر حملہ کیالیکن وہ بچ نکلا،غازی خدابخش کو سات سال قید کی سزاہوگئی،افغانستان کے غازی عبدالعزیزنے راجپال پر حملہ کیالیکن وہ راجپال کو پہچاننے میں ناکام رہے تو اس کی جگہ اس کادوست ماراگیااورراجپال بچ گیا،غازی عبدالعزیزکوچودہ سال قیدکی سزاہوگئی۔ان حملوں کے باعث راجپال کچھ عرصے کے لیے شہرچھوڑ گیا۔واپس آیا تو غازی علم دین شہیدنے اس پر خنجرکے وار کرکے تواسے جہنم رسید کردیا۔پولیس نے غازی علم دین شہیدکودھرلیااس لیے کہ غازی نے فرارہونے کی کوشش ہی نہ کی تھی۔22مئی 1929ء کوسیشن کی عدالت نے غازی کو پھانسی کی سزا سنادی۔
اعلی عدلیہ میں اپیل دائر کی گئی اورقائداعظم محمدعلی جناح نے اس مقدمے کی پیروائی کی اوربیرسٹر فرخ حسین نے آپ کی معاونت کی اوران شہرہ آفاق اعلی قانون دان وکیلوںنے فیس میں کچھ بھی قبول نہ کیااور خالصتاََیہ مقدمہ فی سبیل اﷲ لڑا۔قائداعظم ؒ اپنے زمانے کے مہنگے ترین وکیل تھے اور بڑے بڑے امیر لوگ بھی ان کی خدمات لیتے ہوئے ایک بار نہیں سو بار سوچتے تھے۔اس موقع پر قائداعظم ؒ نے اپنے سچے مسلمان ہونے کا اور پکے عاشق رسولﷺ ہونے کا لازوال ثبوت دیااور بمبی سے لاہور آتے رہے ،لاہور میں قیام کرتے رہے اور عدالتی پیشیوں میں مقدمہ لڑتے رہے لیکن معاوضے کے طورپر ایک پائی بھی وصول کرنے کے روادار نہ ہوئے ۔15جولائی1929کوعدالت عالیہ نے بھی اسی سزاکوبرقراررکھا۔ان تمام مراحل میں غازی علم دین شہید نے کہیں بھی جھوٹ نہ بولااور اپنے تاریخ ساز کارنامے کااقرارہی کرتے رہے۔جیل میں جب انہیں سزائے موت کافیصلہ سنایاگیاتووہ مسکرائے اور اسے اپنی شہادت کے عنوان سے کامیابی قراردیا۔قائداعظم محمدعلی جناح لندن کی قانونی کونسل میں بھی اس مقدمے کولے کر گئے لیکن انگریزکی مسلمان دشمنی سے کسی انصاف کی توقع عبث تھی اور عبث ہے۔غازی علم دین شہید نے اپنی وصیت میں شریعت محمدی پر پابندی کی تلقین کی اور31اکتوبر1929ء کو یہ اکیس سالہ سالہ نوجوان میانوالی کی جیل میں منصب شہادت پر فائز ہیو کر ہمیشہ کے لیے امرہوگیا۔
مسلمانوں کے خوف سے انگریزسرکار نے شہید کاجسدخاکی اس کے ورثاکے حوالے نہ کیااور اسے ایک نامعلوم مقام پر دفنا دیا۔مسلمانوں کاایک وفد علامہ اقبال ؒکی قیادت میں گورنرپنجاب کوملااور امن و امان کی یقین دہانی کرائی جس کے باعث کئی ہفتوں بعدقبر کشائی کی گئی اور وہاں موجود انگریزافسرنے بدبوکے خدشے کے باعث اپنی ناک پر رومال بھی رکھ لیالیکن جسد خاکی انتہائی تروتازہ اور خوشبوکے جھونکوں کے ساتھ قبر سے باہرآیااور لاہور لایاگیا۔۔کم و بیش چھ لاکھ افراد اس بابرکت جنازے میں شامل ہوئے،قاری شمس الدین خطیب جامع مسجدوزیرخان نے نماز پڑھائی اور جنازہ کاجلوس ساڑھے پانچ میل لمباتھا۔یہ خوش قسمت نوجوان اس لحاظ سے بھی خوش بخت نکلاکہ جہاں قائداعظمؒ جیسے محسن امت نے اس کا مقدمہ لڑا تھاوہاں علامہ محمد اقبالؒجیسے عاشق رسول نے اسے اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا۔میانی صاحب کے قبرستان میں یہ شہید نبوت ابدی نیند سے آسودہ راحت ہے،گویا ’’زمیں کھاگئی آسماں کیسے کیسے‘‘۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: