Dr Abdul Qadeer Khan Today's Columns

شیخ سعدیؒ کی نصیحتیں از ڈاکٹر عبدالقدیر خان ( سحر ہونے تک )

DR Abdul Qadeer Khan

شیخ مصلح الدین سعدی شیرازیؒ کے بارے میں اکثر آپ کی خدمت میں معروضات پیش کرتا رہا ہوں۔ دیکھئے میں اس لئے ان کی حکایات اور نصیحتیں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ یہ بے حد مفیداور سبق آموز ہوتی ہیں اور نہ صرف حکمرانوں بلکہ عوام کے لئے بھی ان میں نہایت مفید ہدایتیں موجود ہوتی ہیں۔ سیاست پر تو ہرایک ہی لکھ لیتا ہے میں یہ حکایتیںاور نصیحتیں عوام اور حکمرانوں کی اخلاقی اصلاح کے لئے پیش کرتا ہوں کہ ممکن ہے کہ ﷲ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور ان کی دین و دنیا سنور جائیں۔ آئیے چند حکایتیں بیان کرتا ہوں:

(1)حکمران اور رعایا: حضرت شیخ سعدی ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓکی انگوٹھی میں ایک ایسا نگینہ جڑا ہوا تھا جس کی اصل قیمت کا اندازہ کوئی جوہری بھی نہیں لگاسکتا تھا۔ وہ نگینہ دریائے نور تھا اور رات کو دن میں بدل دیتا تھا۔ ایک مرتبہ سخت قحط کی صورتحال ہوگئی اور لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ حضرت عمربن عبدالعزیزؓ نے جب حالات کی سنگینی کا مشاہدہ کیا تو آپؓ نے اپنی انگوٹھی کے اس نگینے کو لوگوں کی مدد کے لئے فروخت کردیا اور اسسے جو قیمت ملی اس سے اناج خرید کر لوگوں میں تقسیم فرمادیا۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ کے رفقا کو جب اس نگینہ کی فروخت کا علم ہوا تو ان میں سے ایک نے آپ ؓ سے کہا کہ ایسا بیش قیمت نگینہ آپؓ نے فروخت کردیا؟ آپ ؓ نے اس کی بات سن کر فرمایا کہ مجھے بھی وہ نگینہ بے حد پسند تھا لیکن میں یہ کیسے گوارا کرلیتا کہ میری رعایا بھوک سے مررہی ہو اور میں اتنا قیمتی نگینہ پہنے رکھوں۔ کسی بھی حاکم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی رعایا کا خیال رکھے اور جب لوگوں کو تکلیف میں مبتلا دیکھے تو اپنا آرام بھول جائے۔ یہ فرماکر آپؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ شیخ سعدیؒ اس حکایات میں بیان کرتے ہیں کہ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ عوام کی فلاح و بہبود کے کام کریں اور ان کے سکھ کی خاطر اپنے آرام کو پس پشت ڈال دیں۔ ضروری ہے کہ حاکم عوام کو ان کی ضرورت کی تمام چیزیں مہیا کرے۔ عوام کی حفاظت ، ان کی اخلاقی و دینی اقدار کو بہتر بنانا حاکم کی ذمہ داری ہے وہ عوام کی بہتری کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے اور ایک اچھا حاکم وہی ہوتا ہے جو عوام کی خدمت کو اپنا شعار بناتا ہے۔

(2) بدکار حکمران:حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک وزیر نے بادشاہ کے خزانے کو بھرنے کے لئے لوگوں کے گھروں کو برباد کرنا شروع کردیا۔ دانائوں نے کہا کہ جو شخص ﷲ عزوجل کو ناراض کرے اس لئے کہ مخلوق اس سے راضی ہو ﷲ عزوجل اسی مخلوق کو اس کی تباہی پر مامور فرما دیتا ہے۔ بھڑکتی ہوئی آگ بھی کالے دانے کا وہ حشر نہیں کرتی جو کسی کا دل جلانے کے بعد اس دل جلے کے دل سے اٹھنے والے دھوئیں سے ہوتاہے۔ اس بات پر سب متفق ہیں کہ گدھا تمام جانوروں میں سب سے زیادہ ذلیل ہے اور اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ شکار کر کے کھانے والے شیر سے گدھا بہتر ہے۔ گدھا بدبخت ہونے کے باوجود چونکہ بوجھ اٹھاتا ہے اس لئے اچھا لگتا ہے اور مخلوق کو ستانے والا انسان بوجھ اٹھانے والے گدھے اور بیل سے بدتر ہے۔

آمدم برس مطلب۔ بادشاہ کو اس وزیر کی کوئی بات پسند نہ آئی اور اس نے اسے قید خانے میں ڈلوادیا اور طرح طرح کی اذیتیں دے کر اسے ہلاک کردیا۔ ﷲ کی رضامندی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک مخلوق کی دلجوئی نہ کی جائے۔ اگر ﷲ عزوجل کی مہربانی چاہتے ہو تو مخلوق پر مہربان ہوجائو۔جب وہ وزیر قید خانے میں تھا اس کے پاس رعایا میں سے کوئی آیا اور اس کی حالت دیکھ کر کہا کہ بازوئوں میں طاقت ہونے کے باوجود عہدے کے بل بوتے پر مخلوق کا مال ہڑپ کرنا صحیح نہیں۔ سخت ہڈی کو گلے سے تو نگلا جاسکتا ہے مگر وہ ناف میں پہنچ کر پیٹ کو ضرور پھاڑ دے گی۔ بدکار ظالم کے مرنے کے بعد بھی لعنت اس پر ہمیشہ برستی رہتی ہے۔

حضرت شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ ﷲ عزوجل نے جب تمہیں طاقت دی ہے تو تم اس کو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرو نہ کہ ان پر ظلم کرو۔ ظالم کا انجام بہت برا ہے اور ظالم بدبخت پر ﷲ عزوجل کی لعنت ہمیشہ برستی رہتی ہے اور ظالم کو ﷲ عزوجل عبرت کا نشان بنادیتا ہے۔ ہمارے لئے نمرود، فرعون اور شداد کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے اپنے ظلم و ستم سے عوام کا جینا دوبھر کردیا پھر جب ﷲ عزوجل کا قہر ان پر نازل ہوا انہیں کہیں پناہ نہ ملی۔

(3) ﷲ قادرومطلق:حضرت شیخ سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص امیرالمومنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ؓ کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور ان سے کسی علمی مسئلے سے متعلق دریافت کیا۔ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ؓ جو کہ حضور نبی کریم ﷺ کے فرمان کے مطابق کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہے، اس کے علمی مسئلے کا شافی جواب دے دیا۔حضرت سیّدنا علی المرتضیٰؓ کے پاس اس وقت تک محفل میں اور بھی کئی لوگ موجود تھے، ان میں سے کسی نے کہا کہ یاامیرالمومنین آپ ؓ کا فرمان بالکل درست ہے لیکن اس سوال کا یہ جواب بھی ہوسکتا تھا۔ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ؓ نے اس کی بات نہایت غور سے سنی اور اسے اجازت دی کہ وہ اس مسئلے کا جواب دے۔ اس شخص نے اپنی علمی قابلیت کی بنا پر اس مسئلے کا جواب دیا تو حضرت علی المرتضیٰ ؓ کو اس کایہ جواب پسند آیا۔

(4)حضرت شیخ سعدیؒ اس حکایت کو بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ ؓ کی جگہ کوئی دنیاوی بادشاہ ہوتا تو وہ اس شخص کو اس کی گستاخی کی سزا دیتا کہ اس نے اس کے جواب پر اعتراض کیا۔ عام دنیاوی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو بزرگوں کے آگے بولنے کو اخلاق سے گری ہوئی حرکت اور گستاخی قرار دیا جاتا ہے لیکن حضرت سیّدنا علی المرتضیؓ نے بجائے ناراض ہونے کے اس شخص کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے جواب کو سراہا۔ آپؓ چونکہ غرور و تکبر سے پاک تھے اور جو شخص متکبر ہو وہ کسی دوسرے کی بات خواہ وہ بھلائی کی ہی کیوں نہ ہو سننا گوارا نہیں کرتا۔ اس کی مثال اس پتھر کی سی ہے جس پر خواہ کتنی ہی بارش برسے اس پر پھول نہیں کھلتے اور پھول تو اس زمین پر کھلتے ہیں جو عاجز ہوتی ہے۔

حضرت شیخ سعدیؒ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی صاحب منصب کسی ماتحت کی بات جو بھلائی پر مبنی ہو اسے مان لے تو اس سے اس کے منصب میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور اپنی علمی قابلیت کو دوسروں سے اعلیٰ جاننا جب کہ علم کا محور و مرکز صرف ﷲ عزوجل کی ذات ہے غرور کی نشانی ہے۔ ﷲ عزوجل کو متکبر پسند نہیں اور وہ عاجزی کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا کسی کی اچھی بات کو قبول کرنے سے کسی کی عزت میں کوئی فرق نہیں آتا جیسا کہ حضرت سیّد علی المرتضیٰ ؓ کے قول سے ظاہر ہے حالانکہ وہ شہر علم کا دروازہ ہیں اور آپ ؓ نے دوسرے شخص کی دلیل کو سراہا اور اسے قبول کیا۔

About the author

Dr Abdul Qadeer Khan

Dr Abdul Qadeer Khan

Leave a Comment

%d bloggers like this: