Ghulam Murtaza Bajwa Today's Columns

عمران خان سے اپوزیشن اتحادی پریشان کیوں؟ از غلام مرتضیٰ باجوہ ( ایوان اقتدار سے )

Ghulam Murtaza Bajwa

جدید دور نے سیاست دانوں کے لئے جھوٹ بولنا مشکل ترین کردیا ۔آج پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پرملکی ترقی اور کرپشن کی داستان زیر بحث ہیں۔یہ سلسلہ پی ڈی ایم کی حکومت مخالف مہم کے بعد شروع ہوگا ۔لیکن اب تک نوجوانوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر حکومتی کارناموں کی تفصیلات شیئرکی گئی ہیں۔ن لیگ ، پیپلزپارٹی کی جانب سے خاموشی سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن پریشان ہیں ۔ ان کا خیال ہے اگر تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال پورے کرتی ہے تو آئندہ بھی کارگردکی بناء ملک بھر میں حکومت قائم کرلے گی ۔ سوشل میڈیا پر زیربحث رپورٹ یہ ہے ۔1۔ پاکستان کی ترقی کی شرح %3.94 ہوگئی۔ اس پر اپوزیشن کو آگ لگی تو موڈیز نامی بین الاقوامی غیر جانب دار ادارے نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں انہوں نے پاکستان کی ترقی کا تخمینہ %4.4 فیصد لگایا۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی اس معاشی ترقی اور GDP کے فگرز کو درست قرار دے دیا جس کی وجہ سے اپوزیشن پر شدید غشی کے دورے طاری ہیں یہ خبر ان پر ایٹم بم بن کر گری ،2۔ پاکستان میں گندم، گنے، کینو، چاول اور دالوں سمیت کئی بمپر فصلیں پیدا ہوئی ہیں۔ صرف کپاس کی دس ملین بلیز پیدا ہونے کا امکان ہے۔ جو کسانوں کو غیر معمولی رعایتیں دینے کا نتیجہ ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ فصلیں آنے کے بعد پاکستان کی شرح نمو 1.5% مزید بڑھ جائیگی۔ کسانوں نے اس بار 3 گنا زیادہ اور بروقت اجرت پائی اور عمران خان کو دعائیں دے رہے ہیں۔ 3۔ پاکستان نے 3 ارب ڈالر ملیت یعنی 450 ارب روپے کے روز ویلیٹ ہوٹل نیویارک اور 1 ارب ڈالر کے سکرائیب ہوٹل پیرس ٹیتھان کمپنی سے چھڑا لیا۔ اور کروڑوں ڈالرز ( اربوں روپیہ) جو PIA کے اکاؤنٹس میں منجمند پڑا تھا وہ بھی کیس جیتنے کی صورت میں واپس پاکستان کو مل گیا کیس کے اخراجات بھی ٹیتھان کمپنی ادا کرے گی۔ (2017ء میں ن لیگ پی آئی اے کے واجبات کے عوض یہ ہوٹلز بیچنے پر آگئی تھی۔)4۔ عمران خان حکومت نیدو سال میں ن لیگ حکومت کا چھوڑا 19.2 ارب$ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم کرکے 950 ملین ڈالر (لگ بھگ 1 ارب ڈالر) منافع میں بدل دیا۔5۔ کراچی میں ایٹمی بجلی گھر کی تکمیل ہوئی اور قومی گرڈ میں 1100 میگاواٹ بجلی شامل ہوگئی۔ پہلی بار کراچی میں لوگ گرمی سے نہیں مرینگے۔ ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر پر سرخوں کی تنقید جاری ہے۔6۔ پاکستان نے ’’پاک ویک‘‘کے نامی سے اپنی کرونا ویکسین بنا لی۔ یوں ماسک اور وینٹی لیٹرز کے بعد کرونا ویکسین بنانے والے دنیا کے چند ممالک میں شامل ہوگیا۔ اب کسی کو بل گیٹس کی ویکسین سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ایکسپورٹ کلاس ماسک بنا کر ایکسپورٹ کرنے لگ گیا ور وینٹیلیٹر بنانے میں خود کفیل ہوگیا ۔7۔ سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ ایک ہی دن میں دو ارب حصص کا کاروبار ہوا۔ 8۔ اس سال کی پاکستان کی انڈسٹریز نے %9،کنسٹرکشن نے %8، زراعت نے %2.8 اور سروسز سیکٹر نے %4.4 ترقی کی۔9۔ مسئلہ فلسطین پر پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر بھرپور اور کامیاب سفارت کاری کی۔ پوری دنیا میں فلسطین پر پاکستان اور ترکی کا نام لیا گیا۔ فلسطینیوں نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
10۔ روس نے قصور سے پورٹ قاسم تک 1122 کلومیٹر نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا 74% نفع پاکستان اور 24% روس لے گا۔ یہ روس کی پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے دروازے کھولے گا۔ 11۔ واپڈا گرین بانڈ کے ذریعے 500 ملین ڈالر جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن عالمی مارکیٹ میں اس پر 1.8 ارب ڈالر یا 1800 ملین ڈالر تک بڈ گئی۔ یعنی پاکستانی بانڈ پر عالمی مارکیٹ کا بھروسہ بڑھ گیا۔12۔ فیس بک نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے 8 شہروں میں ڈیڑھ کروڑ صارفین کے لیے اپنی فائبر آپٹک بچھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 13۔ پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس 1.7 ارب ڈالر ہوگئی ہیں اور جلد ہی 2 ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کرنے کا امکان ہے۔جو کہ ادوار میں محض چند لاکھ ڈالرز تھیں کسی نے توجہ نہ دی تھی
14۔ وزیراعظم پاکستان عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی صدارت کے لیے چنا گیا۔ 15۔ نیب نے گزشتہ 19 سالوں میں 240 ارب روپے اور عمران خان کے صرف 3 سالوں میں 480 ارب روپے لٹیروں سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے۔ 16۔ پاکستان میں فی کس آمدن (per capita income) 1361$ سے بڑھ کر 1543$ ہوگئی ہے۔ جو 13 فیصد اضافہ ہے۔ 17۔ مہمند ڈیم پشاور اپنی تکمیل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ جب کہ دیگر 10 ڈیموں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ 800 میگا واٹ سستی ترین بجلی اور پختونخواہ کا ڈیڑھ لاکھ ایکڑ رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا وہاں پانی کے مسائل حل ہوں گے ۔18۔ شیخو پورہ میں نواز شریف کی 90 کروڑ روپے کی زمین نیلام۔ یہ شائد اس بدمعاش خاندان سے پہلی ریکوری ہے۔ اور کروڑوں روپیہ جو اکاؤنٹس میں۔ پڑا تھا وہ بھی ضبط کر کے قومی خزانے میں جمع کروا دیا گیا ۔کچھ جمہورے گماشتے کہتے ہیں ان سے کچھ نکلوایا تو جا نہی سکا۔19۔ جاوید ہاشمی کے قبضے سے کروڑوں روپے مالیت کی سرکاری زمین چھڑا لی گئی۔
20۔ پاکستان میں آٹو موبائل کمپنیوں کو پروڈکشن پلانٹ لگانے کی اجازت۔ 21۔ 19 موبائل کمپنیوں کو پاکستان میں موبائل تیار کرنے کی اجازت۔22۔ ڈی جی خان میں لادی گینگ اور کچے کے علاقے میں ڈاکؤوں کے خلاف وزیراعظم کے حکم پر رینجرز آپریشن کرنے کا فیصلہ۔ 23۔ بلوچوں کا پیسہ لوٹنے والے مشتاق رئیسانی کو 10 سال قید برآمد شدہ 73 کروڑ روپیہ ضبط اور ساری جائیداد ضبط کرنے کی سزا۔ سابق مشیر خزانہ میر خالد لانگو کو 26 ماہ قید کی سزا۔ ور کروڑوں کے جرمانے ۔24۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ریکارڈ اضافہ کرنے کا فیصلہ۔ 25۔ اس سال بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا۔ نہ ہی بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا۔26۔ کے پی کے اور بلوچستان کے بعد پنجاب میں پنجاب کے ڈیرہ غازی خان اور ساہیوال ڈیوژن میں مفت پرائیویٹ علاج کی سہولت دینے کا فیصلہ۔ محض آپ کو شناختی کارڈ پر 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا علاج کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال سے کرانے کی سہولت جس کے پیسے حکومت ادا کرے گا۔27۔ایف آئی اے نے اور ایف بی آر نے بجٹ مہینے سے ایک۔ ماہ پہلے تک 4143 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو گزشتہ حکومتوں کا نفسیاتی خواب رہا – 28۔ ملک کے مختلف شہروں میں پناہ گاہیں پاکستانی غریب مزدور اور سفید پوش طبقے کے لیے انتہاء تاریخی عمدہ سہولتیں اور رہائیشیں۔29۔ نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم دہاڑی داری مزدور کے لیے انتہاء سستے گھروں کی فراہمی یقیناً ملکی تاریخ کی بڑی سہولت ہے۔ بے گھر افراد کے لیے۔ 30۔ بیوروکریسی سمیت دنیا بھر کے سفارت خانوں پر ایکشن اور سختی تارکین وطن کے مسائل کے فوری حل کے لیے ایکشن۔ یقیناً ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا۔ 31- مفت میں عوام کو کرونا ویکسین کی فراہمی ۔32- ٹیکسٹائل انڈسٹری میں 1990 کے بعد 31 سال بعد طوفانی عروج،لاتعداد بند ٹیکسٹائل ملز کے چلنے سے 10 لاکھ مزدوروں کو روزگار میسر آیا ۔33- غریب غربا کو روزانہ کی بنیاد پر لنگر خانوں سے خوراک مہیا کرنے کا منصوبہ جو کامیابی سے جاری و ساری ہے
34- چوروں ڈاکووں کو مافیاز کے چہروں۔ سے شرافت کے نقاب ہٹا کر ننگا کر کے عوام کی آنکھیں کھول دیں ۔35- الیکشن ترامیم کر کے اورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے دیا ور جدید امریکی طرز کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے پولنگ کے لئے قانون سازی ۔36 – رسول ﷺ اللّہ کی ناموس کے لئے عالمی سطح پر گستاخی کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کرنے کا مطالبہ اور انھیں گستاخی کرنے پر روکنے کے لئے عالمی فورمز پر بھرپور آواز اٹھائی جو آج تک کوئی اسلامی ملک نہ اٹھا سکا ۔37-کشمیر کے معملے پر بھارت کو ننگا کر کے رکھ دیا اسکے منہ پر شرافت کا چڑھا نقاب اتار کر دنیا کو اسکا گھناونا چہرہ دکھا دیا
38 – افغان مجاہدین ور امریکا کے مابین امن مزاکرات کروا کے امریکی انخلا کو یقینی بنایا ۔39 – قبائلی علاقہ جات کی بھرپور تعمیر و ترقی اور انھیں قومی دھارے میں لے آیا گیا جنہیں کسی زمانے میں علاقہ غیر کہا جاتا تھا ۔40- پاکستان ترقی کے لحاظ سے عالمی رینکنگ میں 127 ویں نمبر سے 63 ویں نمبر پر گیا۔41- تاریخ میں پہلی بار اقوام متحدہ میں اسرئیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کی قرداد بھاری اکثریت سے منظور ہو گئی مطلب اسرئیل ایک آفیشلی وحشی درندہ ثابت ہو گیا جسکی اب تحقیقات ہوں گے ۔42- تمام اسلامی ممالک سے بہترین تعلقات استوار کے گئے ،ایران اور سعودیہ کو امن مزاکرات پر قائل کر کے انکے بغداد میں امن مزاکرات کا آغاز ۔43- سعودیہ کو درکار 30 لاکھ لیبر میں سے 10 لاکھ ہنر مند افراد پاکستان سے بھجوانے کا تاریخ ساز معاہدہ۔44- دس سال بعد کویت کے ویزے عام پاکستانیوں اور بزنس مین افراد کے لئے کھلوا دیے ۔45- قطر سے لاکھوں افراد کی لیبر بھجوانے کا معاہدہ۔46- امریکا کے پاکستان میں ایئر بیس مانگنے پر امریکا کو کورا جواب ۔47 – انڈیا کا حقیقتن منہ توڑ جواب دیتے ہوئے انڈیا میں داخل ہو کر پہلے انکے اسلحہ ڈپوؤں پر اپنے جہازوں سے بمباری اور پھر انکے ہمارے پیچھے انے پر دو جہاز مار گرا گئے۔48- دسویں جماعت تک کے نصاب میں رسول ﷺ اللّہ کی زندگی مبارک پر مضامین شامل کئے گئے ۔49 – تمام تر تعصب کو بالا طاق رکھ کر دہائیوں سے بنی تخم اور مفاد پرست روایات کو توڑتے ہوئے پچھلی حکومتوں بشمول مشرف زرداری اور نواز ادوار کے ادھورے منصوبے بلا تاخیر مکمل کرواے گئے ۔50- میڈیا کو جو سالانہ غریب قوم کے خزانے سے سالانہ 40 ارب یعنی چار ہزار کروڑ دیے جاتے تھے اس رسم کو توڑا اور سالانہ اربوں روپیہ بچایا
51 – ائی پی پیز یعنی بڑے بڑے جنریٹرز سے پرائیویٹ بزنس مین (جو کہ حقیقت میں شریف اور زرداری خاندان کے فرنٹ مین ہیں) ان جنریٹروں سے بجلی بنا کر 36 روپے میں حکومت کو اور حکومت وہی بجلی 12 سے 18 روپے مختلف ٹیرف کی شکل میں عوام کو فروخت کر کے ماہانہ اربوں کھربوں کا خسارہ خزانے کو ڈال رہی تھی ان 50 کومپنیوں میں سے 42 کومپنیوں کے ساتھ دوبارہ معاہدے ری شیڈول کر کے وہی 36 روپے میں ملنے والی بجلی کا ریٹ 13 روپے کیا گیا جس سے سالانہ 866 ارب روپوں کے گردشی قرضے سے بچا جا سکے گا 866 ارب روپے کی بچت ہوگی ۔52- کراچی کے لئے تاریخی 1100 ارب روپوں کا پیکج جسے سن سندھ حکومت حواس باختہ ہو گئی اور آج تک اٹھارویں ترمیم کی آڑ میں ان فنڈز سے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔53- کورونا وبا میں جہاں ساری دنیا کی معیشت زمین بوس ہو گئی وہاں حکومت کی بہترین حکمت عملی سے ملکی معیشت ڈوبنے اور ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ۔54-زر مبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ 23 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئے ۔55- سابقہ ادوار سے تین گنا زیادہ سڑکوں کے منصوبوں کی بنیادیں رکھ کر کم شرو کروا دیا گیا۔56- جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے سارے معملات مکمل کر دیے گئے حکومت کی مدت پوری ہونے پر بہاولپور صوبہ کا علان کر دیا جائے گا۔57- جنوبی پنجاب کی تاریخ میں سب سے زیادہ ترقیاتی بجٹ اور پروگرام لاؤنچ کیے گئے کسی قسم کی شوبازی کے بغیر ۔ یہ ساری کامیابیاں ایک حقیقت اور تاریخ بن چکی ہیں جو خالصتاً پی ٹی آئی حکومت عمران خان کی ذاتی کوششوں سے ہوئ۔ اس کو آپ کسی صورت اگنور نہیں کرسکتے۔

About the author

Ghulam Murtaza Bajwa

Ghulam Murtaza Bajwa

Leave a Comment

%d bloggers like this: