لوح و قلم تیرے ہیں

منگل 20اکتوبر بعد نمازمغرب قلم کاروان کی ہفت روزہ ادبی نشست اسلام آبادمیں منعقدہوئی۔ پیش نامے کے مطابق آج کی نشست میں معروف دانشور جناب اکرم الوری کامضمون’’مصطفوی کلچراورحالات حاضرہ‘‘طے تھا۔آج کی نشست ماہ ربیع الاول کے حوالے سے مطالعہ سیرۃ النبی ﷺ پر مبنی تھی۔جناب سیدظہیراحمدگیلانی صدر’’ شہراقبال فورم‘‘ نے صدارت کی ۔جناب ارشدنذیربھٹہ ایڈوکیٹ نے تلاوت قرآن مجید،جناب احمدمحمودالزماںنے اپنی ایک نعت بحضورسرورکونین ﷺ پیش کی،ڈاکٹرساجدخاکوانی نے مطالعہ حدیث نبویﷺ، اورجناب عالی شعاربنگش نے گزشتہ نشست کی کارروائی پڑھ کرسنائی۔
صدرمجلس کی اجازت سے جناب اکرم الوری نے اپنامضمون پیش کیا،مضمون کی زبان بہت عمدہ اور عربی و فارسی کے محاورات و تلیمیحات اور دقیق تراکیب سے مرصع تھی،صاحب مضمون بڑی عمدگی کے ساتھ اسلامی کلچراور غیراسلامی کلچر کے مابین فرق کی وضاحت کی ،انہوں نے اسلامی کلچرکو آفاقی تعلیمات ،انسان دوستی اور فلاح دارین کاکلچر گردانااور اپنے تاریخی و فلسفیانہ دلائل سے ثابت کیاکہ غیراسلامی سیکولراورلبرل کلچر دھونس ،دھاندھلی،بدمعاشی،طاقت کے ناجائز استعمال اور دولت کی چیرہ دستیوں کاکلچر ہے۔مضمون پر جناب سبطین رضالودھی،جناب ساجدحسین ملک اور جناب عالی شعاربنگش نے سوالات بھی کئے،صاحب مضمون نے بڑی تفصیل کے ساتھ اور تاریخی حوالوں سے سوالات کے جواب دیے۔مضمون پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب سبطین رضالودھی نے کہاکہ فی زمانہ سیاسی شعبدہ بازوں نے مصطفوی کلچر سے قوم کومحروم کیے رکھاہے،انہوں نے کہا بھوک سے بلبلاتے بچے اورتعلیم سے محروم نسل کاکون ذمہ دارہے؟؟جناب ساجد حسین ملک نے کہاکہ کلچر ایک دوسرے کے اندر دخیل ہوتے ہیں جیسے کیمونزم کے بہت سے اصول اسلام نظم معیشیت سے مستعار ہیں۔جناب عالی شعار بنگش نے کہاکہ کلچرتبدیل ہوتے دیرنہیں لگتی جیسے جناب حر صبح فوج یزیدمیں تھے اور دن ڈھلتے اپناکلچرتبدیل کر کے امام عالی مقام کے جاں نثارون میں شامل ہو گئے۔جناب میرافسرامان نے کہاکہ ہماراکلچر صلح و صفائی اور معافی و درگزر کاکلچرہے،انہوں نے جنگ صفین اور جنگ جمل سے مسلمانوں کے یک جان ہونے کی مثالیں پیش کیں۔ڈاکٹرساجد خاکوانی نے کہا مصطفوی کلچرکاظہور عربستان میں ہوا،وہاں سے نکل کر یہ کلچرپوری دنیامیں گیالیکن عربوں کاکلچر اپنے ساتھ لے کرنہیں گیا،آج بھی ہرجگہ کے مسلمان مصطفوی کلچرکی روشنی میں اپنے مقامی رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزارتے ہیں،لیکن سیکولرازم نے پوری دنیاپر اپنے ظالمانہ کلچر کے ذریعے اپنی بودوباش اورخدابیزار تعلیم کومسلط کررکھاہے۔تبصروں کے بعد معمول کے سلسلوں میں جناب شہزادعالم صدیقی نے مثنوی مولائے روم سے اپناحاصل مطالعہ پیش کیااور جناب عبدالرازق عاقل نے مرزاغالب کی زمین پر لکھی گئی اپنی ایک غزل اوربزرگ شاعر محمدشفیق بیدل جونپوری نے اپنی ایک نظم حاضرین کو سنائی اوردادوصول کی۔پروفیسرآفتاب حیات جوایک حادثہ کے بعد ہسپتال میں زیرعلاج ہیں ان کی صحت یابی کے لیے بھی اجتماعی دعابھی کی گئی۔
نشست کے صدرمجلس جناب سیدظہیرگیلانی نے کہاکہ ماہ ربیع الاول میں سیرۃ النبی ﷺ کے موضوع پر نشست کاانعقاد کرناباعث مبارک بادہے،انہوں مقالے کوبے حدپسندکیااورکہاکہ مصطفوی کلچرسے ہی کل انسانیت کی خیروابسطہ ہے انہوں نے سوالوں کے جواب اورتبصروں کے معیارکوبھی سراہا ۔صدارتی خطبے کے ساتھ ہی آج کی ادبی نشست اختتام پزیر ہو گئی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: