Mazhar Barlas Today's Columns

صرف دس سال از مظہر برلاس ( چہرہ )

Mazhar Barlas
Written by Mazhar Barlas

بہت دنوں بعد بودی سرکار ملنے آئے۔ غصہ اور نخرہ عروج پر نظر آیا۔ میں نے بڑے احترام سے پوچھا، خیر تو ہے؟ جلالی پیر بولا ’’….. تمہیں ملنا خیر کی بات نہیں، ایسے ہی فضول باتیں کرتے رہتے ہو، سنا ہے تم نے بھی اچھے خاصے مرید بنا لئے ہیں، یہ بات ناقابلِ برداشت ہے کہ میرے ہوتے ہوئے لوگ تمہارے مرید بنیں۔ پیروں کا خاص حلیہ ہوتا ہے، تمہاری مونچھوں کو دیکھ کر تو لوگوں کو ڈرنا چاہئے‘‘۔ جلالی درگت کے بعد میں نے عرض کیا سرکار! آج کل یہی تو مسئلہ ہے جو دیانتدار ہیں وہ دیانتدار نظر نہیں آتے اور جو لوگ ملکی دولت لوٹتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، لوگ انہیں دیانتدار سمجھتے ہیں، معصوم چہروں والے ہی کرپشن کرتے ہیں۔ کڑوے بندوں کے لئے کرپشن کرنا مشکل کام ہے۔ میں نے تبدیلی سرکار کے آتے ہی آپ کا نام بودی سرکار رکھ دیا تھا۔ سرکار! میں خالصتاً وطن کی محبت میں لکھتا ہوں، کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوا، کوئی سیاسی پارٹی یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں نے ان سے کبھی لفافہ لیا، میں تو اکثر ان معاشرتی برائیوں کا تذکرہ کرتا ہوں جن سے معاشرہ بدصورت بنا، مثلاً جھوٹ ایک بیماری ہے، مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا، آپ خود اندازہ لگائیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ برائی کس طرح پھیل چکی ہے۔ سیاستدانوں کی پریس کانفرنسیں دیکھتا ہوں تو خوب ہنستا ہوں کہ وہ کس ہنر مندی سے جھوٹ بولتے ہیں۔ اب تو نوبت یہ ہے کہ ’’چور بھی کہے چور، چور‘‘ پتہ نہیں یہ سیاسی لوگ قوم کو بے وقوف سمجھتے ہیں؟ پہلے کچھ کہتے تھے، اب کچھ کہتے ہیں، لوگ ان کے کونسے جھوٹ کوسچ سمجھیں؟

بودی سرکار نے میری باتیں بڑی مشکل سے برداشت کیں پھر کہنے لگے …. ’’خیر لفافہ تو تمہیں کوئی سیاسی جماعت نہیں دے گی، تم اپنی مرضی کرتے ہو، لفافہ لے کر اپنی مرضی نہیں چلتی، بلکہ میں تو اکثر یہ کہتا ہوں کہ تم صحافیوں کے نوابزادہ نصر ﷲ خان ہوں، تمہاری کسی حکومت کے ساتھ بن نہیں سکتی، تم سچ سے باز نہیں آتے، وہ صرف جھوٹ چاہتے ہیں، تم جھوٹ کے خلاف ہو، اس سلسلے میں میری چند گزارشات ہیں….‘‘ یہ کہہ کر بودی سرکار بالکل خاموش ہوگئے، لمبی چپ کے سبب مجھے بولنا پڑا، پیر صاحب! یہاں موجود لوگ آپ کو دیکھ رہے ہیں، آپ کچھ بول ہی نہیں رہے، بولیں تاکہ لوگ آپ کی گزارشات تو سن سکیں۔ میری اس گستاخی پر بودی سرکار نے مجھے غصے سے دیکھا اور پھر بڑبڑ کرتے ہوئے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، کہنے لگے …. ’’ہماری خاموشی بھی ایک راز ہوتی ہے، کئی معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اگر پاکستان کے لوگ دس سال جھوٹ بولنا چھوڑ دیں تو پاکستان تیز رفتاری سے ترقی کرتا ہوا بہت آگے نکل جائے گا۔ دس سال تک بددیانتی اور بدعنوانی چھوڑنا ہوگی، ٹیکس بھی پورا ادا کرنا ہوگا، آپ نے کبھی سوچا پاکستان میں بجلی کے بل پورے ادا نہیں ہوتے۔ بجلی چوروں کے ساتھ محکمے کے اہلکار بھی ملوث ہوتے ہیں، بلوں کی ادائیگی درست ہو، ریڈنگ درست ہو تو پورا پاکستان جگمگا سکتا ہے۔ آپ جج ہیں، جرنیل یا سول بیوروکریٹس یا آپ کا تعلق کسی بھی سرکاری محکمے سے ہے پورے دس سال ایک کام حلفاً کریں کہ آپ کسی بھی کرپشن کا حصہ نہیں بنیں گے، ذاتی مفاد کو بھول کر قومی مفاد کو اولیت دیں گے، آپ کے نزدیک پاکستان کا مفاد سب سے پہلے ہونا چاہئے۔ دس سال تک اپنی آسائشیں بھول جائیں، صرف ملک کا سوچیں اگر آپ جج ہیں تو آپ کے کردار کو یاد رکھا جائے گا۔ اگر آپ کا تعلق فوج سے ہے تو پھر قوم آپ پر فخر کرے گی۔ آپ سول بیوروکریٹ یا ٹیکنوکریٹ ہیں تو لوگ آپ کے کام کے حوالے دیں گے۔ سیاستدانوں سے بھی گزارش ہے کہ پورے دس سال آپ بددیانتی، بدعنوانی اور اپنی تمام تر چالاکیاں بھول جائیں، دس سال صرف ملکی مفاد کا سوچیں، بڑے بڑے معاہدے کرتے وقت ذاتی مفاد کا نہ سوچیں، آپ کی پہلی اور آخری محبت ملکی مفاد ہونا چاہئے۔ اگر آپ صحافی، وکیل، ڈاکٹر یا انجینئر ہیں تو پھر بھی آپ کا پہلا فریضہ ملکی خدمت اور ملکی مفاد ہونا چاہئے، آپ کے تھوڑےسے فائدے کی خاطر ملک کا بہت نقصان ہوتا ہے۔کیا بڑی بڑی فیسیں لینے والے وکلاء ٹیکس دیتے ہیں؟ ہر گلی محلے میں کلینک بنا کرپیسے بٹورنے والے ڈاکٹر ٹیکس کیوں نہیں دیتے، یہی حال انجینئرز کا ہے۔ کیا پاکستان کا زمیندار اور صنعت کار عشر زکوٰۃ اور خمس پوری نیک نیتی سے ادا کرتا ہے؟ ٹیکس اکٹھا کرنے والے محکمے کے افراد لوگوں کو ٹیکس چوری کے راستے دکھانا صرف دس سال کےلئے بند کردیں۔ اسی طرح مولوی اور پیر بھی اپنی کمائی پر پورا ٹیکس ادا کریں، تاجر بددیانتی چھوڑ کر دس سال تک ٹھیک ٹھیک کام کریں، بھاری فیسیں وصول کرنے والے تعلیمی ادارے ٹیکس چوری نہ کریں، اگر پورے دس سال ملک کے سرکاری یا غیر سرکاری کاموں میں بددیانتی نہ کی گئی، جھوٹ اور فریب نکل گیا تو پاکستان دنیا کے سب ملکوں سے آگے نظر آئے گا۔ اگر ذمہ دار افراد نے اچھی عادات اپنا کر ملکی خدمت کی تو ان کی قبریں بھی روشن ہوں گی، صرف دس سال ……‘‘

بودی سرکار لمحہ بھر کے لئے رُکے تو میں نے پوچھا دس سال کیوں؟ بودی سرکار کہنے لگے ….. ’’دس سال اس لئے کہ اس کے بعد یہ تمام لوگ اس کے عادی ہو جائیں گے، پھر لوگ بددیانتی، بے ایمانی، بدعنوانی اور ٹیکس چوری سے خود نفرت کریں گے، پھر ہم ایک قوم بن جائیں گے، ایک ایسی قوم جو جھوٹ نہیں بولے گی، جس کی دیانتداری کی دنیا مثالیں دے گی….‘‘ بقول وصیؔ شاہ:

مجھے یقیں ہے وہ تھام لے گا، بھرم رکھے گا

یہ مان ہے تو دیے جلائے ہیں آندھیوں میں

About the author

Mazhar Barlas

Mazhar Barlas

Leave a Comment

%d bloggers like this: