Today's Columns Umer Farooq

شیخ ابوالحسن شاذلیؒ ریسرچ سنٹر از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

وزیراعظم کی اہلیہ بشری عمران نے گزشتہ دنوں لاہورمیں شیخ ابوالحسن شازلی ریسرچ سنٹرکاافتتاح کیا انہوں نے ریسرچ سنٹر میں آڈیٹوریم، لائبریری اور کانفرنس روم کا دورہ کیا، اس ریسرچ سینٹر میں اسلام ،صوفی ازم ،مذہبی افکار ،رواداری ، سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید علوم پر تحقیق کی جائے گی، رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں ریسرچ مراکز قائم کرکے ان ریسرچ سینٹر کو عالمی سطح پر جے اسٹور، آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ جیسے جدید تحقیقاتی اور تعلیمی اداروں کی ای لائبریریز سے منسلک کیاجائے گا۔ ان ریسرچ سینٹر تک عوام کو ریموٹ رسائی دی جائے گی تاکہ عوام اپنے گھروں میں بیٹھ کر مستفید ہوسکیں ۔ملک میں بے شمارریسرچ سنٹرہیں مگرحکومت کی طرف سے شیخ ابوالحسن شاذلی ؒکے نام سے ریسرچ سنٹرقائم کرنابہترین قدام ہے،
خیرالقرون کے بعدجب ممالک اسلامیہ میں انتشار پھیلا ہوا تھااندرونی اور بیرونی سازشیں اپنے عروج پر تھیں۔ مسلمان فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو رہے تھے۔ نئے نئے مسائل سر اٹھا رہے تھے۔ ایسے میں عابدوں اورزاہدوں کا ایک بڑاطبقہ دینداری اورتحفظ ایمان کے تعلق سے فکر مند تھا۔ ان کی فکرتھی کہ ایسی تحریک شروع کی جائے، جس سے عام لوگوں کی اصلاح کی راہیں ہموارہوں اور بندگان خداکو خدا کی طرف موڑا جا سکے۔ اللہ والوں نے عام لوگوں کی اصلاح کا کام شروع کیا۔ ان کا زور باطنی اصلاح پر زیادہ تھا، کیونکہ اگرباطن کی اصلاح ہوگئی تو ظاہر کی خود بخود ہو جاتی ہے۔ اسی طریقے کو بعد میں تصوف کہا جانے لگااور اس طریقے پر چلنے والوں کو صوفی کہا گیا۔
اس کی اشاعت ایران اور عراق سے نکل کر پورے عرب وعجم میں ہو گئی اورآج دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جہاں تصوف کے سلاسل نہ پائے جاتے ہوں ایک اندازے کے مطابق ان سلاسل کی تعداد119کے قریب ہے مگرہمارے ہاں صرف چشتیہ،نقشبندیہ ،سہروردیہ ،قادریہ مشہورہیں یہی وجہ ہے کہ ان چارسلاسل کے علاوہ دیگرسلاسل اوربزرگوں سے نہ تولوگ واقف ہیں اورنہ ہی انہیں ماننے کوتیارہیں حالانکہ تصوف کے دیگرطریقے بھی اسی طرح کے سلسلے ہیں انہی سلاسل میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ بھی ہے ۔
قطب الزماںشیخ ابوالحسن شاذلی ؒکا نام ابوالحسن علی بن عبد اللہ تھا آپ سلسلہ شاذلیہ کے بانی ہیں ۔آپ کی ولادت باسعادت593ھ،مطابق 1197 کو بمقام قصبہ”عمارہ”مراکش،مغرب میں ہوئی ۔ وہاں سے آپ کے خاندان نے قصبہ”شاذلہ”تیونس کی طرف رہائش اختیار کی ،اسی کی نسبت سے آپ “شاذلی”کہلائے گے۔آپ حضرت سیدنا عبدالسلام بن مشیش علیہ الرحمہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اورمجاہدات وسلوک کی منازل طے کرنے کے بعد خلافت واجازت سے مشرف ہوئے۔حضرت شیخ ابو الحسن شاذلی نسبا سادات بنی حسن سے ہیں آپ کا 17 واسطوں سے نسب حسن بن علی کے ساتھ جا ملتا ہے اورآپ کا طریقہ شاذلیہ بھی بواسطہ حضرت جابر جعفی سے ہوتا ہوا حضرت سیدنا حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے
شیخ الوالحسن شاذلیؒ کی پیدائش اگرچہ شیخ عبدالقادرجیلانی ؒکی وفات کے تقریبا تیس سال بعدہوئی مگرشیخ ابوالحسن کے پیر طریقت حضرت شیخ عبد السلام مشیش نے حضرت شیخ ابو مدین مغربی سے کسب فیض کیا تھا، حضرت شیخ ابومدین مغربی کی ملاقات سفر حجاز کے دوران حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے بھی ہوئی تھی جنہوں نے انہیں خرقہ خلافت بھی عطا کیا اس لحاظ سے سلسلہ شاذلیہ سلسلہ قادریہ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ واضع رہے کہ حضرت شیخ ابومدین کو شیخ مغرب کہا جاتا ہے(حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کو شیخِ مشرق کہا جاتا ہے)۔
آپ نے تحصیل علم کی ابتدائی بنیادی تعلیم اورحفظ قرآن مجید اپنے قصبے”عمارہ”میں حاصل کی،پھرشاذلہ میں تحصیلِ علم کیا۔شاذلہ سے”فاس”کی طرف مزید حصول علم کے لئے سفرکیا۔یہاں تمام علوم شرعیہ اور فقہ مالکی کی تحصیل فرمائی، فقہ اورعربی ادب کے اساتذہ میں شیخ نجم الدین بن اصفہانی کانام آتاہے،اورعلم الاخلاق وتزکیہ کی تحصیل صوفی ِکبیر عبداللہ بن ابوالحسن بن حرازم تلمیذ رشید سیدی ابومدین غوث علیہ الرحمہ سے حاصل کی۔پھر آپ عراق تشریف لائے اس وقت عراق علوم اسلامیہ کامرکزتھا،یہاں مختلف شیوخ سے تحصیل ِعلوم کیا،آپ علیہ الرحمہ تمام علوم ظاہرہ میں کمال رکھتے تھے اور بعدہ طریقت میں تیونس کے شیخ المشائخ حضرت عبدالسلام بن مشیش سے فیضیاب ہوئے۔آپ کا وصال حج کے سفر کے دوران 20/ذوالقعدہ 656ھ،مطابق 18/نومبر1258بروزپیر،کو ہوا۔آپ کامزار وادیِ “حمیثرا” مصرمیں مرجعِ خلائق ہے
بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت شیخ ابو الحسن شازلی رحمتہ اللہ علیہ کے قلب پر دوران سفر ایک خاص دعا سمندر میں القا ہوئی جو صوفیوں میں دعائے حزب البحرکے نام سے مشہور ہے۔بہت سے اولیاء کرام اس دعا کی فضیلت سے مقام ولایت کی منازل طے کرگئے ہیں۔ یہ دعا صوفیامیں بہت مقبول ہے اور تمام سلاسل کے بزرگوں نے اس کو اپنایاہے. آپ فرماتے ہیں اس دعا کے الفاظ میں نے نہیں تراشے بلکہ ایک ایک حرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عطاہوا اورمیں نے نہ صرف یہ کہ خود اس کو اپنے ورد میں رکھا اور اس کے ذریعے روحانی فیوض و برکات حاصل کئے بلکہ راہ سلوک طے کرنے والوں کے لئے اس کو عام کیا ۔ آپ نے اپنے مریدین ومعتقدیں کو اس حزب کے بارے میں وصیت کی کہ اپنی اولادوں کو یہ حزب زبانی یاد کرائو ، بے شک اس میں اسم اعظم ہے ۔
برصغیرمیں پاک وہندمیں یہ سلسلہ صرف حزب البحرمخصوص ایام میں پڑھنے تک محدودتھا حزب البحر جنات کے ہاں بھی بہت مقبول وظیفہ ہے اور بڑے بڑے عالم فاضل جنات اس کو پڑھتے . ہیںحضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی حزب البحر کے بہت بڑے عامل تھے،آپ نے فارسی میں اسکی عالمانہ و عارفانہ شرح لکھی تھی جو ہوامع کے نام سے طبع ہوکر مقبول خاص و عام ہوئی ہے،یہ دعا ہر کوئی مانگ سکتا ہے۔ البتہ اولیا اللہ کا معمول رہا ہے کہ اجازت لی جائے اور دی جائے۔ اس سے برکت بھی ہوتی ہے، تاثیر میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور توجہ بھی حاصل ہوتی اس لیے کسی صاحب اجازت سے اس دعا کے پڑھنے کی اجازت لے لی جائے تو مناسب ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہی صوفی کامل بنتاہے جس نے حزب البحرکاچلہ کیاہواورحزب البحرکی باقاعدہ سندبھی ہے ۔
پاکستان میں سلسلہ شاذلیہ کے مجددمیرے پیرومرشدابوالحسن ،خادم الامت سیدنورزمان شاہ شاذلی ہیں اس مردقلندرنے چندسالوں میں ہی سلسلہ شاذلیہ کانہ صرف احیاء کیابلکہ ملک وبیرون ملک سلسلہ شاذلیہ کی خانقاہیں قائم کیں دعائے حزب البحرکاسالانہ اجتماع شروع کیا جس سے ہزاروں افرادمستفیدہورہے ہیں سیدنورزمان شاذلی درحقیت صوفیاء کے اس قول کی تصویرہیں کہ جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا۔ یعنی خود آگہی سے خدا آگاہی کا راستہ کھلتا ہے۔
حضرت سیدنورزمان شاہ کی شخصیت بہت مبارک، بہت سادہ، تکلفات سے پاک، تواضع او رانکساری سے بھرپور، بہت مضبوط علمی، عملی ، روحانی شخصیت ہے ۔ آپ کو اللہ تعالی نے یہ اعزاز عطا فرمایاکہ آپ نے روحانی علم کوچھپایانہیں بلکہ پھیلایاہے یہی وجہ ہے کہ چندسالوں میں ہی آپ نے ہزاروں شاگردتیارکیے جولاکھوں افرادکوسیراب کررہے ہیں ،اورروحانی دنیامیں ایک انقلاب برپاکررہے ہیںہم امیدکررہے ہیں کہ حکومت کی طرف سے قائم کردہ شیخ ابوالحسن شاذلی سنٹرکومکمل فعال کیاجائے گااوراس کادائرہ کاروسیع کیاجائے گا ۔

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: