M Sarwar Siddiqui Today's Columns

زندہ قوموں کا فلسفہ از ایم سرور صدیقی ( جمہور کی آواز )

M Sarwar Siddiqui
Written by M Sarwar Siddiqui

ایک وقت تھا میاںنوازشریف نے پیپلزپارٹی کے موجودہ چیئرمین کو مسٹرٹین پرسنٹ قراردے کر ان کا ناقطہ بندکردیا تھا پھر مفاہمی سیاست کا دور آیا تو ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک گرداننے والے نوازشریف اور بے نظیر بھٹو بہن بھائی بن گئے چندسال پہلے جب پانامہ لیکس نے دنیا بھرکی اڑھائی سو سے زائد شخصیات کا بھانڈہ عین چوراہے میںپھوڑدیا جس سے ان کی نیک نامی اڑن فو ہو گئی کبھی جھوٹے لوگوں سے منہ چھپاتے پھرتے رہے اور کبھی وکٹری کا نشان بناکر یوں اترلتے رہے جیسے کشمیر فتح کرلیا ہو پاکستان میں میاں نوازشریف کی فیملی کی آف شور کمپنیاں انہیں لے ڈوبیں حسن نواز اور حسین نواز کو عدالت نے اشتہاری ڈکلیئر کردیایہی کہرام کیا کم تھا کہ میاں نوازشریف کو اسی کرپشن کے الزام میں نااہل قراردیدیا یعنی میڈ ان پاکستان کی اس عاشقی میں عزت ِ سادات بھی گئی
مریم نواز جو کہتیں تھیں میری بیرون ملک تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں اب اربوں کھربوںکی سینکڑوں کنال اراضی منظر ِ عام پر آئی تو انہیں اپنے کہے پر آج بھی کوئی شرمندگی نہیں پھر چھوٹے میاں صاحب کے آمدن سے ڈھیروں زیادہ اثاثے، منی لانڈرنگ کی ہوشربا کہانیاں ان کے دونوں بیٹوں ،دامادکی کرپشن کے غضب ناک قصے تادم ِ تحریر پوری فیملی کے بیشتر افراد کے خلاف نیب عدالتوںمیں مقدمات چل رہے ہیں اور زیادہ تر لوگ اشتہاری ہیں اسے کہتے ہیں مرے کو مارے شاہ مدار
پانامہ لیکس کے قیامت خیز انکشافات کے بعد کئی عالمی لیڈر مشکل میں آئے آئس لینڈ کے وزیر ِ اعظم عوامی دبائو کے پیش ِ نظرمستعفی ہوکر گھر چلے گئے ہیں والد کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں جھوٹ بولنے اور مالی فوائد حاصل کرنے کے اعتراف پر برطانوی وزیر ِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اپنے خلاف ہزاروں افراد مظاہروں کے بعد استعفیٰ دے کر گھرچلے گئے وطن عزیز میں عوام گم صم ہیں شاید وہ کرپشن کو کوئی برائی سمجھتے ہی نہیں ہیں حالانکہ ہم جس مذہب کے پیروکارہیں اس میں کرپشن بہت بڑا گناہ ہے لیکن پاکستان میں حکمرانوںکی کرپشن پر کوئی خاص رد ِعمل دیکھنے میں نہیں آیا میاں نوازشریف ، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر نااہل ہوچکے ہیں لیکن ان کے چاہتے والے عدالتوں میں پیشی کے موقع پر آج بھی میاںنوازشریف کے حق میں نعرے لگاتے ہیں کچھ تو اہلکاروںسے الجھ بھی پڑتے ہیں تاکہ وفاداری کے ثبوت ریکارڈپرآجائے کیونکہ اس معاشرہ میں یہی تیزبہدف نسخہ ٔ کیمیاہے سوال یہ ہے کہ میاںنوازشریف فیملی کی آف شورکمپنیاں غیرقانونی ہیں یا قانونی ۔ میاںشہبازشریف خاندان کے آمدن سے زائد اثاثے کیونکرہیں؟ اس بارے میں حقیقت کتنی ہے افسانہ کتنا یہ جاننا عوام کا حق ہے ویسے تو مشہور یہی ہے کہ غیرقانونی سرمائے سے بنائی جانے والی کمپنیوں کی اصطلاح آف شور کمپنیاں کیلئے استعمال کی جاتی ہے یہی حال سابق صدر کی فیملی کاہے ڈونوں سابقہ حکمرانوںکی کرپشن،منی لانڈرنگ اور مال بنانے کا طریقہ ٔ کار ایک جیسا ہے بے نامی اکائونٹ اور ملازمین کے نام پر بینک اکائونٹس میں کروڑوں اربوں کی ٹرانزیکشن دی گئی ہے مطلب پاکستان کو بڑے سائٹیفک طریقے سے لوٹاگیاہے۔ ایک شخص نے کسی دانشور سے دریافت کیا حضرت !کرپشن کی تعریف کیا ہے؟ ۔اس نے بلا تامل جواب دیا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا کرپشن ہے۔۔۔ اگر اس فارمولے پر عمل کیا جائے تو ہماری پوری کی پوری بیوروکریسی اور سارے کے سارے سیاستدان کرپٹ ہو جاتے ہیں ہمارا مذہب تو ہر قسم کی کرپشن کے خلاف ہے ہمارے مذہبی، سیاسی و سماجی ،مذہبی رہنمائوں اور اداروںکو کرپشن کے خلاف میدان میں آنا چاہیے جرأت مندی سے اس فتنے کا مقابلہ کیا جا سکتاہے علماء کرام حلال و حرام کے فلسفہ کو اجاگر کرنے کیلئے بڑے ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں یہ بات سب سے اہم ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے ۔ حکمرانوں کو اس سلسلہ میں بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے سابقہ وزیر ِ اعلیٰ پنجاب کی ایک اہلیہ تہمینہ درانی نے سچ کہا تھا آف شور کمپنیاں غیر اخلاقی ہیں ملکی سرمائے کی غیر قانونی ذرائع سے غیرممالک میں منتقلی انتہائی خوفناک بات ہے دنیا کے کئی ممالک میں منی لانڈرنگ بہت بڑا جرم تصورکیا جاتاہے کیونکہ اس سے بہت سی معاشرتی برائیاں اور جرائم جنم لے سکتے ہیں اسلام نے ہر قسم کی کرپشن کو حرام قرار دیا ہے اس کیلئے حرام اور حلال کا ایک وسیع تصور ا س کے مفہوم ومعانی کااحاطہ کرتاہے جس مذہب میں اختیارات سے تجاوز کرنا کرپشن تصورکیا جاتاہو اس کے حکمران کے لئے کیسا معیار ہونا چاہیے اس کا خود تصورکیا جا سکتاہے یہ الگ بات کہ اب پاکستانی معاشرے میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہو تی جارہی ہے یہی مسائل کی اصل جڑ ہے دولت کی ہوس ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ، معاشرہ میں جھوٹی شان و شوکت اورراتوں رات امیربننے کی خواہش نے اکثریت کو بے چینی میں مبتلا کرکے رکھ دیاہے۔۔انہی خواہشات نے اختیارات سے تجاوز کرنے پر مجبور کررکھاہے میاں نوازشریف کی فیملی کی آف شور کمپنیوں ،لندن کے فلیٹ ان کے سمدھی اسحق ڈار کے دوبئی میں عالیشان پلازے اورمیاںشہبازشریف خاندان کے آمدن سے زائد اثاثے ،منی لانڈنگ کا انکشاف ہونے سے عوام کو بہت بڑا دھچکا لگاہے کیونکہ میاں نوازشریف میاںشہبازشریف کروڑوں عوام کیلئے ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں ماضی میں آصف علی زرداری کی کرپشن کے قصے مشہور تھے دونوں جماعتوںکا اپنا ووٹ بینک بھی ہے پھر سادہ دل عوام کس پر اب یقین کریںکس پر اعتماد کریں شاید اب راہبرکے روپ میں راہزن ہی لوگوں کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔ سچ میں بڑی طاقت ہوتی ہے جھوٹ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے ہزار جھوٹ بولنا پڑتے ہیں حکمرانوںکو اس حقیقت کو ادراک کرنا ہوگا قوم کو ادھورے سچ قبول نہیں ہیں زندہ قومیں ہی فتحیاب ہوتی ہیںزندہ قوموںکو سچائی سے پیارہوتاہے ہمیں بھی ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔

About the author

M Sarwar Siddiqui

M Sarwar Siddiqui

Leave a Comment

%d bloggers like this: