Mir Afsar Aman Today's Columns

آزاد کشمیر اسمبلی نے قادیانیوں کو شعار اسلام استعمال کرنے سے روک دیا از میر افسر امان ( مشرقی اُفق )

Mir Afsar Aman
Written by Mir Afsar Aman

کئی عشروں سے کشمیر اور پاکستان کے عوام آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں سے مطالبہ کرتے رہے کہ آزاد کشمیر آزادی کے بیس کیمپپ میں قادیانی پاکستان مخالف سرگرمیوں خصوصاً شعار اسلامی کے ناجائز استعمال سے روکے۔وہ ابھی تک عوام سے ٹھگی کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوںکے کئی فرقوں کی طرح وہ بھی اسلام کا ایک فرقہ ہیں۔ سادہ مسلمان ان کی باتوں میں پھنس جاتے ہیں۔ قادیانی اس آڑ میں ملک دشمن اسلام دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہوتے تھے۔مسلم کانفرنس کے سربراہ عبدالقیوم خان کے دور حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے ایک قراداد اسمبلی میں پیش کی گئی تھی۔ مگر اس پر قانون سازی نہیں کی گئی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان کے آئین میں قادیانیوں کو جھوٹا ثابت کر کے غیر مسلم قررار دیا تھا۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی اسمبلی میں قانون سازی کروا کر اسلام، دشمن قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے۔ مگر پیپلز پارٹی کی آزاد کشمیر کی سابقہ حکومت نے اس پر کان دھرا۔ نہ ہی کسی اور کو اس کی فکر لائحق ہوئی۔ بلا آخر نون لیگ کی موجودہ کے سر اس کا سیرا سجا۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی کے ممبر ،جماعت اسلامی کے سابق امیر ، حالیہ پبلک اکائونٹ کمیٹی کے چیئر مین جناب سرادرعبدلرشید ترابی نے ٰ قادیانیوں کو آزاد جموں و کشمیر، آزادی کے بیس کیمپ کی اسمبلی میں قانون سازی کے لیے قراداد پیش کی۔ اس بل کو منظور کرتے اسمبلی نے قانون سازی کی اور قادیانیوں کو شعار اسلام کو استعمال کرنے سے روک دیا۔
مسلمانوں کے فرقوں کی بات پر ہمیں مرحوم علامہ شاہ احمد نورانی صدر جمعیت علماء پاکستان کے ایک پاکستان ٹی وی پر گفتگو یاد آئی ۔مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب عام الیکشن کا اعلان ہوا تو انہوں نے پاکستان ٹی وی پر پاکستان کی تمام پارٹیوں کو عوام کے سامنے اپنے پروگرام پیش کرنے کا موقعہ فراہم کیا تھا۔پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں نے پاکستان ٹی وی پروگرام میں اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے پیش کیا تھا۔ جب مرحوم علامہ شاہ احمد نورانی صدر جمعیت علماء پاکستان کی باری آئی تو انہوں نے بھی اپنی پارٹی کا منشور پاکستان ٹی وی کے پروگرام کے ذریعے پیش کیا۔ گفتگو کے دوران علامہ شاہ احمد نورانی سے سوال کیا گیا کہ مسلمانوں میں کئی فرقے ہیں۔ تو اس کے جواب میں علامہ شاہ احمد نورانی نے فرمایاتھا کہ مسلمانوں میں صرف شیعہ اور سنی دو فرقے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کوئی فرقہ نہیں۔ کچھ ہیں بھی تو سب پیٹ کے فرقے ہیں۔علامہ شاہ احمد نورانی کی یہ بات درست ہے۔ ملک اور اسلام کے دشمن قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک فرقہ کہہ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ ابھی بھی سادہ لو مسلمانوں سے یہی کہہ کر دھوکا دیتے ہیںکہ وہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں۔جبکہ وہ فرقہ نہیںبلکہ غیر مسلم ہیں۔
ایک دو واقعات بیان کر دینے سے قادیانیوں کے اسلام کے خلاف شازشوں سے پردہ اُٹھتاہے۔انگریزعیسائیوں نے سادہ لو مسلمانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کیسے کوشش کی ۔ اس کا پتہ ایسے لگا کہ جب برعظیم عیسایوں کے قبضہ میں تھا تو لندن کے حکمرانوں نے ایک وفد تحقیق کرنے کے لیے برعظیم بھیجا تھا۔ تحقیق کے بعد اس وفد نے ایک خط کے ذریعے لندن کو باور کرایا گیا کہ عام مسلمان پیر پرست اور روحانیت پسند ہیں۔یہ خط جو برصغیر سے لندن کے حکمرانوں کو لکھا گیا تھا۔ آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے ۔کوئی بھی اس کو دیکھ سکتا ہے۔ اس خط میں لندن کے حکمرانوں کو سفارش کی گئی تھی کہ برعظیم کے مسلمانوں میں ان کے اندر کوئی بزرو نبوت کا اجرا کیا جائے تو مسلمان جوق در جق اس کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیں گے۔ انگریزوں نے بڑی سوچ بچار کے بعد مرازغلام احمد قادیانی کو اس غرض کے لیے چنا۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس زمانے میں سیالکوٹ میں انگریزوں حکومت کے عدالتی نظام میں ملازم تھا۔مراز غلام احمد قادیانی کا والد عیسائیوں کا ٹائوٹ تھا۔ اس نے سید احمد شہید کے خلاف بالاکوٹ میں سکھوں کا ساتھ دیا تھا۔ اس غداری کے عوض انگریزوں نے اسے قادیان میں زمینیں دیں تھیں۔ محمد خالد متین صاحب کی کتاب’’ قادیانیت انگریزوں کو کا خود کاشتہ پوردا‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ اس کتاب میں مراز غلام احمد قادیانی کے ایک خط کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔ غلام محمد قادیانی ملکہ برطانیہ کو لکھتاہے’’ میرے والد نے ہندوستان کی انگریز حکومت کو جنگ آزادی میں پچاس گھوڑے بمع پچاس جنگوئوں کے ساتھ پیش کیے تھے اور کہا تھا کہا اگر جنگ نے تول پکڑا تو مذیدپچاس گھوڑے بمعہ جنگی جو سواروں کے پیش کروں گا‘‘۔ عیسائیوں نے مسلمانوں میں داڑیں ڈالنے کے لیے قادیانیت پیدا کی تھی۔ اس کا ایک اور ثبوت ہارون آباد کے رہائشی ایک سیاسی پارٹی سربراہ اور کالمسٹ ڈاکٹر میاں احسان باری صاحب جو نہایت شفقت سے اپنے مضامین اخبارات کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ای میل کرتے رہتے ہیں۔ میاں صاحب اپنے قادیانیوں کے بارے ایک مضمون میںلکھتے ہیں کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو جس نے اپنے دور حکومت میں قادیانیوں کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا تھا۔ ایک دفعہ انہوںنے مشہور صحافی اور احراری لیڈر شورش کاشمیری کو بتایا کہ وہ جب امریکا کے دورے پر گئے تو اس دوران امریکی حکمرانوں نے مجھے کہا تھا کہ قادیانی ہمارے لوگ ہیں۔ پاکستان میں آپ کو ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔
صاحبو! لندن اور امریکا کی سازش سے برصغیر میں قادیانیت کو مسلمانوں میں دھراڑیں ڈالنے کے لیے بنایا گیا تھا۔اس وجہ سے جب پاکستان بنا تو قادیانی وزیر خارجہ سر ظفراللہ کو وزیر خارجہ بنایا گیا۔اسی سر ظفراللہ نے بائودنڈی کمیشن میں سازش کے ذریعے مسلمانوں کی اکثریت والے ضلع گرداس پور کو اقلیت میں تبدیل کروا کر بھارت میں شامل کروا دیا۔اس کا ذکر پاکستان بننے کے بعد ایک مسلم لیگی لیڈر نے یہ کہہ کر کیا تھا کہ کیا تھا کہ’’ سرظفراللہ کو اقوام متحدہ میںپاکستان کا نمایدہ بنا کر ہم نے غلطی کی تھی‘‘ عیسائیوں نے پاکستان بننے سے پہلے ہی قادیانیوں کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جب پاکستان بنا تو پاک فوج کے جنرل اور برگیڈیئر کے عہدوں تک قادیانی تھے۔پاکستانی فوج کے افسران جب امریکا یا برطانیہ فوجی ٹرینگ لینے جاتے ہیں توسازش کے تحت ان کو زیادہ نمبر دے پر پاس کرتے ہیں یہ قادیانی پھر فوج کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ بھٹو دور میں ایئر فورس کا چیف ظفر چوہدری، نیوی کا چیف حسن حفیظ احمد اور بری فوج کا ڈپٹی چیف عبدا لعلی قادیانی تھے۔ بھٹو کی حکومت ختم کرنے کی سازش بھی قادیانیوں نے کی تھی۔ تاریخ میں قادیانیوںکی لیڈر شپ کا یہ بیان بھی موجود ہے کہ ہم پاکستان بننے کو بادل ناخواستہ قبول کیا ہے ہم پاکستان کو توڑ کراسے دوبارہ بھارت میںشامل کرنے میں مدد گار بنیں گے۔
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کا قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے تاریخی موقعہ پر اس واقعات کو بیان کرنے کا مقصد عوام مسلمانوں کو باور کرنا ہے کہ یہ قادیانی ملک اور اسلام کے دشمن ہیں۔قادیانیوں کو شعار اسلامی استعمال کرنے سے روکنے اور غیر مسلم قرار دینے کا یہ اعزاز بھی جماعت اسلامی کو ہی ملا۔ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں موجود جماعت اسلامی کے سابق امیر اور پبلک اکائونٹ کمیٹی کے سربراہ جناب سرادار عبدلریشید ترابی نے ایک قرادادپیش کی تھی۔ جس کو اسمبلی نے منظور کرتے ہوئے آزاد کشمیر اسمبلی نے قانون سازی کر کے قادیانیوں کو شعار اسلام استعمال کرنے سے روک دیا۔آزاد کشمیر کے عوام سے درخواست ہے کہ آزادی کے بیس کیمپ میں آنے والے الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدواروں کو بھاری اکژیت سے کامیاب کرائیں۔ جماعت اسلام ہی کشمیریوں کے مسائل اچھی طرح سمجھتی ہے اور حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

About the author

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

Leave a Comment

%d bloggers like this: