Today's Columns

شب قدر کی فضیلت از ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

شبِ قدر کو مندرجہ ذیل ناموں سے پکارا گیا ہے:
1۔ لیلۃ القدر 2۔ لیلۃ المبارکہ (سورۃ الدخان آیت ۳)
قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں۔ سورۃ قدر میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’بے شک ہم نے اس ’’قرآن‘‘ کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف) شب قدر میں اتارا اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے۔لیلۃ القدر (کی عبادت اور نیکی) ہزار مہینوں ( متواتر عبادت اور نیکی) سے بہتر ہے۔ (یعنی اس سے بھی زائد ہے)۔ فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر ’’امر خیر‘‘ کے لیے اس ’’رات‘‘ میں اترتے ہیں۔ یہ سلامتی اور امن کی رات ہے اور یہ کیفیت امن و خیر صبح کے نکلنے تک رہتی ہے۔‘‘ (ترجمہ: فیوض القرآن، ڈاکٹر سید حامد حسین بلگرامی، صفحات 1486-87)
اس کو شب قدر اس لیے کہتے ہیں کہ اس شب میں سال بھر کے احکام نافذ کیے جاتے ہیں اور ملائکہ کو سال بھر کے وظائف و خدمات پر مامور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات کی شرافت و قدر کے باعث اس کو شب قدر کہا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایاـ: وہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہے۔ دوسری روایت حضرت ابوہریرہؓ سے یہ ہے کہ وہ رمضان کی آخری رات ہے۔ حضرت ابی بن کعبؓ سے رز بن جیش نے شب قدر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ ستائیسویں رات ہے۔ بحوالہ: احمد، مسلم، ابودائود، ترمذی، نسائی)
حضرت ابوذرؓ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمرؓ، حضرت حذیفہؓ اور اصحابؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں سے بہت لوگوں کو اس میں کوئی شک نہ تھا کہ وہ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ شبِ قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات ہے، اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا انتیسویں یا آخری۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ اسے رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو جب کہ مہینہ ختم ہونے میں نو (9) دن باقی ہوں، یا سات دن باقی یا پانچ دن باقی۔ حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ نو دن باقی ہوں یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن یا آخری رات۔ مراد یہ تھی کہ ان تاریخوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ (بحوالہ: مسند احمد، بخاری، ترمذی، نسائی)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں سے طاق رات میں تلاش کرو۔ (بحوالہ: بخاری، مسلم، احمد، ترمذی)۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تازیست رمضان کی آخری دس راتوں میں اعتکاف فرمایا۔
عبداللہ یوسف علی رقمطراز ہیںکہ شب قدر 23 رمضان یا دیگر طاق راتوں میں سے ہے۔
(بحوالہ: The Holy Quran, Text & Translation, 1983 edition, page 1765)
سورۃ قدر میں شب قدر کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا ہے۔ ہزار مہینے کے 83 سال اور 4 مہینے ہوتے ہیں، پھر شب قدر کو ہزار مہینے کے برابر نہیں بتایا بلکہ ہزار مہینے سے بہتر بتایا ہے، ہزار مہینے سے شب قدر کس قدر بہتر ہے، اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
حدیث مبارک ہے:
مَنْ حُرِمَھَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہُ وَلَا یُحْرَمَ خَیْرَھَا اِلَّا کُلِّ مَحْرُوْمٍ
’’جو شخص شب قدر سے محروم ہوگیا، گویا پوری بھلائی سے محروم ہوگیا اور شب قدر سے وہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔‘‘ (ابن ماجہ)
پہلی امتوں کی عمریں زیادہ ہوتی تھیں، اس امت کی عمر زیادہ سے زیادہ 80,70 سال ہوتی ہے۔ اللہ پاک نے یہ احسان فرمایا کہ ان کو شب قدر عطا فرمادی اور ایک شب قدر کی عبادت کا درجہ ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ کردیا، محنت کم ہوئی، وقت بھی کم لگا اور ثواب میں بڑی بڑی امتوں سے بڑھ گئے۔
حدیث شریف میں آتا ہے: مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَلَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (بحوالہ: بخاری و مسلم) ’’جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔‘‘
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ مکاشفۃ القلوب کے صفحات 690-91 پر ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبریل علیہ السلام فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر ذکر اللہ کرنے والے کے لیے دعا کرتے اور اس کو سلام کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ کا فرمان ہے: لیلۃ القدر میں زمین پر کنکر سے زیادہ تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں، چنانچہ ان کے نازل ہونے کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جیسے کہ مروی ہے کہ کثرت سے انوارات ہوتے ہیں اور عظیم تجلیات ہوتی ہیں اور اس میں فرشتے اور لوگ متفرق طور پر عیاں ہوتے ہیں۔ بعض کو آسمانوں اور زمین کے فرشتے نظر آتے ہیں، تو آسمان کے حجاب کھل جاتے ہیں۔ وہاں فرشتوں کا مکاشفہ ہوتا ہے، بعض کھڑے ہیں، بعض بیٹھے ہیں، بعض رکوع میں ہیں، بعض سجدہ میں ہیں، بعض شکر کررہے ہیں، بعض سبحان اللہ پڑھ رہے ہیں اور بعض لاالہ الا اللہ پڑھ رہے ہیں اور بعض کو جنت کا مکاشفہ ہوتا ہے کہ اس میں محلات، مکانات، حوریں، نہریں، درخت اور پھل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش کا مکاشفہ ہوتا ہے اور اس کی چھت کا کشف ہوتا ہے اور انبیائ، صدیقین، شہداء اور اولیاء کے مراتب کا پتہ چلتا ہے۔ وہ عالم ملکوت کی سیر کرتا ہے۔ دوزخ کا مشاہدہ کرتا ہے اور اس کی وادیاں دیکھتا ہے۔ اس طرح کفار کے حالات سے آگاہ ہوتا ہے۔ بعض سے اللہ تعالیٰ کے حجابات جمال کھل جاتے ہیں، چنانچہ اسے صرف اسی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔
یحییٰ بن صالح، بنی اسرائیل میں سے ایک شخص گزرا ہے جس نے ایک ہزار ماہ تک اللہ کی راہ میں لگاتار جہاد کیا اور کبھی اسلحہ نہیں اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک دفعہ ان کا ذکر صحابہ کرامؓ سے فرمایا۔ ان کاذکر سن کر صحابہ کرامؓ کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ تمہارے لیے شب قدر کی عبادت ان کی ایک ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔ جن میں اس اللہ کے بندے نے اسلحہ نہ اتارا اور برابر جہاد کرتا رہا۔ کہتے ہیں ان کا نام شمعون یا شمسون تھا۔ یہ اسرائیلیوں کے ایک مشہور عابد ہیں۔ پھر فرمایا کہ اس رات میں سورج ڈوبتے ہی فرشتے اترتے ہیں اور حضرت جبریل بھی صبح صادق تک رہتے ہیں۔ (بحوالہ: حضرت عبدالقادر جیلانی ؒ، غنیۃ الطالبین، صفحات 13-12)
امام غزالیؒ مکاشفۃ القلوب کے صفحہ نمبر 691 پر فرماتے ہیں: ’’حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ماہ رمضان کی ستائیسویں شب صبح تک زندہ کی (یعنی عبادت کی) تو وہ مجھے رمضان کے قیام سے زیادہ عزیز ہے۔‘‘ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لیلۃ القدر کو شب بیداری کی اور جس رات میں دو رکعت پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگی، اللہ تعالیٰ اسے معاف کردے گا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہ لگالیا۔ اسے جبریل علیہ السلام اپنا پر لگائیں
گے اور جس کو حضرت جبریل ؑپر لگائیں گے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر مجھے شب قدر معلوم ہوجائے تو اس میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو:
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا
’’یعنی اے اللہ! تو معاف فرمانے والا ہے۔ معاف کرنا تجھے پسند ہے تو مجھے معاف فرمادے۔‘‘

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: