Prof Shamshad Akhtar Today's Columns

اسلامک ورلڈ آرڈرکا عملی خاکہ تیار کرنے کی ضرورت ہے از پروفیسر شمشاد اختر ( پیغام فکر )

Prof Shamshad Akhtar

عالم مغرب اپنے حلیف اور دوست ممالک کے گریڈاونچے اور کم کرنا چا ہتا ہے ، بعض حکمرانوں کوپردہ اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے ، عرب ممالک ،اور غیر عرب مسلم ممالک کو نئی پالیسیاں دینا چاہتا ہے ، اسلامی تحریکوں کے بار ے میں اپنا رویہ نئے سرے سے تشکیل دینا چاہتا ہے ، اور دیگر ممالک کے ساتھ معاملہ بھی نئے تقاضوں کے مطابق کرنا چاہتا ہے ،اس ضمن میں جوخاکہ بنتا ہے اور اسلامک ورلڈ آرڈر کا مفہوم واضح ہوتا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کے نزدیک یورپ اور ایشیا، عرب اور افریقہ، مشرق وسطی اور مشرق بعیدکا کوئی تصور نہیں بلکہ اسلام شروع دن سے ایک عالمی ریاست کا نظریہ رکھتا ہے ، اسلام نسلوں ، قوموں اور خطوںکے مقابلے میں عقیدہ توحید کو عالمی ریاست کا سنگ بنیاد قرار دیتا ہے اور وہ بنی نوع انسان کو صرف اور صرف ( تعاونوا الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم )کی دعوت دیتا ہے یعنی آئو ہم اور آپ اس کلمہ پر متحد ہو جائیں جو ہمارے اور آپ کے درمیان قدر مشترک کا درجہ رکھتا ہے اور وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ،اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلامک ورلڈ آرڈر کسی سے دشمنی اور مخاصمت پر اپنی بنیاد نہیں رکھتابلکہ وہ سب کا حلیف ہے اور پوری انسانیت کے ساتھ عقیدہ توحید کی بناء پردوستی اور بھائی چارے کا حامی ہے اسلام کسی کا حریف نہیں بلکہ سب کا حلیف ہے بشرطیکہ پیش نظرانسانیت کی فلاح کا منصوبہ ہو،اور مد مقابل فورسز کو اپنی غلط فہمی دور کر دینی چا ہیے اگر کوئی اسے اپنا حریف سمجھ کردبانے کی کوشش یا سازش کرے گا تو پھر اسلام اپنے پاس اپنا فلسفہ اور ایک پورا نظام رکھتا ہے جسے وہ انسانی بھلائی کے لئے بروئے کار لانا چاہتا ہے اس کے نزدیک خدا کے بعد مخلوق خدا کی خدمت ا وّ لین ترجیح ہے اور انسانیت کی دشمن قوتوں کووہ دنیا میں آزاد اور کھلا نہیںچھوڑنا چاہتاکہ وہ بر و بحر میں فساد کی سکیمیں تیار کرتے رہیں ۔

اسلام ، حق اور نا حق کا واضح اور متعین معیار رکھتا ہے اسلامک ورلڈ آرڈر میں اس بات کی بھی صراحت ہونی چا ہیے،دوغلا پن ، دوہرا معیار،منافقت، سازش، اور فریب کا اسلامی اقدار و اصول میں کوئی گزر نہیں ، اسلامک ورلڈ آرڈر میں ظالم اور مظلوم کی واضح تقسیم ہے،ظلم اور زیادتی جہاں ہو اسلام اس کا مخالف ہے اور اس ضمن میںکسی مذہب، نسل ، رنگ اور علاقے کا امتیاز نہیں رکھتا اس کی پالیسیاں انسانی مفاد پر استوار ہیں ،اسلامک ورلڈ آرڈر میں یہ واضح کیا جائیکہ فلسطین ، بوسنیا، کشمیر اور جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے وہاں ایک اصول قائم کیا جائے جس کے تحت اس ظلم کے خلاف مزاحمت کی جائے خواہ وہ سیاسی ہو ، یا عسکری ، ان کے لئے الگ الگ اصول اور معیار نہ بنائے جائیں ۔اسلامک ورلڈ آرڈر میں یہودیوں کے بارے میں دو ٹوک اور غیر مبہم بات کی جائے کیونکہ یہودی نسل محض اسلام کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی دشمن ہے،اور خود خالق کائنات نے قرآن میں فرمایا ہے کہ یہود کبھی بھی اسلام اور اہل اسلام کے دوست نہیں ہو سکتے،مسلم ممالک کو اپنی خارجہ پالیسی بناتے وقت قرآن حکیم کے اس مستقل اور دائمی اصول اور تجزیے کوپیش نظر رکھ کریہود اور یہود نواز طاقتوں کے بارے میں لائحہ عمل وضع کرنا چا ہئے۔اسلامک ورلڈ آرڈر میں عالم اسلام کے رہنمائوں کو اسلام کے بنیادی ماخذ کی روشنی میں اپنا علم اصطلاح وضع کرنا چا ہیے خواہ وہ مغرب کو پسند آئے یا گراں گزرے سارا یورپ مل کر بھی ہمیں بنیاد پرست کا طعنہ دے ہمیں اس سے گھبرانا نہیں چا ہیے آخر بنیاد کے بغیر دنیا کی کونسی عمارت قائم ہے۔اسلامک ورلڈ آرڈر میں اس تجویز کو خصوصی اہمیت دی جائے کہ مختلف مسلم ممالک اپنی جغرافیائی حد بندیوں میں نرمی پیدا کریں ، مناسب تحفظات اور احتیاط کے ساتھ یہ نرمی برادر مسلم عوام کے درمیان اخوت اور قرابت کی راہ کھولے گی دوسرے غیر مسلم ممالک کی لیبر اپنے ممالک میں بڑھانے کی بجائے مسلم ممالک کی لیبر بڑھائے تاکہ فحاشی ،عریانی کا پھیلائو کم ہو اور مسلم عوام کی غربت دور ہو لیکن آج حالات اس کے برعکس ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔
اسلامی دنیا جو خام مال کے اعتبار سے کافی دولت منداور با وسائل ہے اسے اسلامک ورلڈ آرڈر میں ایسی پالیسیاں تجویز کی جائیں کہ مسلم ممالک خام مال اپنی طرف سے طے شدہ قیمت پر غیر مسلم دنیا کو فروخت کریں اور ان سے تیار ہو نے والا مال اپنی مرضی کے مطابق لیں نہ کہ ان کی مرضی کے مطابق سب کچھ طے کرتے پھریں۔اسلامک ورلڈ آرڈر میں یہ نقشہ واضح کیا جا ئیکہ مسلمان ممالک اپنی کامن ویلتھ قائم کریں اور زیادہ سے زیادہ رقوم و وسائل اس کے حوالے سے زیر گردش رہیں ، اس سے غریب یا ترقی پذیرمسلم ممالک کو اپنی مشکلات پر قابو پانے اور اپنے ترقیاتی منصوبے کامیاب کرنے میں حد درجہ مدد ملے گی۔اسلام کے تشخص کو نمایاں کرنے کے لئے ضروری ہیکہ مسلم دنیامیں ’’ امہ ‘‘ کا تصور اجاگر کیا جائے اور ان تمام تحریکوں سے لا تعلقی کااعلان کیا جائے جو مسلم دنیاکے کسی بھی خطے میں رنگ ، نسل ،وطن اور کسی بھی جاہلی عصبیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں ۔کیونکہ خطبہ حجۃ الوداع میں ان تمام جعلی تعصبات کی یکسر نفی کی گئی ہے ۔
اقوام متحدہ میں یہ اصول طے کرایا جائے کہ جس مسئلے پر تمام مسلمان ممالک کا اتفاق رائے ہو اس پر اسلامی کا نفرنس یا مسلم دنیا کو ’’ ویٹو پاور ‘‘ حاصل ہونی چا ہیئے، آخر کس بنیاد امریکہ ،روس ،چین اور فرانس وغیرہ کو ’’ ویٹو پاور ‘‘حاصل ہے اور وہ جب چا ہیں جنرل اسمبلی کے اجماع کو رد کر دیں اور بنا بنایا معاملہ الجھا کر رکھ دیں ۔اسلامک ورلڈ آرڈر کے حوالے سے یہ چند بنیادی اشارات ہیں ان کو ملحوظ خاطر رکھ کر تفصیلات طے کی جائیں تاکہ مسلم تشخص نمایاں ہو اور امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے ان کا ممکنہ حل ہو سکے۔
٭…٭…٭

About the author

Prof Shamshad Akhtar

Prof Shamshad Akhtar

Leave a Comment

%d bloggers like this: