ہمیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

صلو درانی کی اور میری دوستی 50 سال پلس پر محیط ہے۔ ٹین ایجرز تھے جب ملے، بوڑھے ہوگئے ہیں۔ میں لاہور اور صلو وینکوور میں ہوتا ہے لیکن آج بھی جیسے ہاسٹل نمبر ون میں ساتھ ساتھ ہی رہ رہے ہوں۔ جب بھی فون پر بات ہو، اس کے اوپننگ جملے کا جواب نہیں۔
’’حسناں! میرے پاکستان سے کوئی خیر کی خبر تو نہیں؟‘‘اس ایک جملے میں اپنی پوری تاریخ سمائی ہوئی ہی نہیں، شرمائی ہوئی بھی ہے۔ کسی میں دیانت نہیں، کسی میں فطانت نہیں، کوئی سنتا نہیں تھا، کوئی سمجھتا نہیں، کوئی گھنا میسنا بہت، کوئی بڑبولا بہت، کوئی تاجر کوئی فاجر، کسی کا تجربہ مار گیا کسی کی ناتجربہ کاری نے ناکوں چنے چبوا دیئے۔ نارمل شے شاید ہمارے نصیب میں ہی نہیں۔
میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہےمیں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں دعا میں اثر نہیں صدا یاد نہیں کبھی کبھی اک عجیب منحوس لیکن ذرا منطقی سا سوال خالی دماغ میں سرسراتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہی ٹھیک ہے۔ اتنے مانوس صیاد سے ہوگئے اب رہائی ملی بھی تو مر جائیں گے اگر کسی معجزہ کے نتیجہ میں ’’سب اچھا‘‘ ہو جائے تو قیامت نہ آ جائے گی؟
یہ سوچ کر میرے تو اعصاب ہی جواب دینے لگتے ہیں کہ اسلامی جمہوری پاکستان میں اسلام بھی آگیا، جمہوریت بھی آگئی اور پاکیزگی بھی چھا گئی تو ہم کریں گے کیا؟ جائیں گے کہاں؟
ہمارے آپس میں اور ریاست کے ساتھ رشتے کیسے ہوں گے؟ بھوک ننگ، جہالت، غربت کے بغیر گزر بسر کیسے ہوگی؟ رشوت، کمیشن، کک بیک لئے بغیر جیئے جانا ہمیں راس کیسے آئے گا؟
گھر کی دہلیز پر انصاف ملتے ہی سائل کی سانس نہیں اکھڑے گی تو کیا ہوگا؟ اللہ نہ کرے کبھی تھانہ کلچر تبدیل ہو کر اگر کبھی سچ مچ ایسا ہوگیا تو لوگوں پر دیوانگی کے دورے پڑیں گے اور علاج کرنے والا بھی کوئی نہ ملے گا۔
باقی تو چھوڑیں ٹھنڈے دل سے صرف اتنی سی بات پر ہی غور کرلیں کہ اگر کل آبادی کو پیٹ بھر کے تین وقت سوفیصد خالص خوراک ہی ملنی شروع ہو جائے تو کتنے گھنٹوں کے اندر اندر ہسپتال لبا لب بھر جائیں گے جبکہ ڈاکٹرز خود پیٹ پکڑ کر لوٹ پوٹ ہو رہے ہوں گے۔
یہ افراتفری، دھینگا مشتی، سر پھٹول، گالی گلوچ، آپا دھاپی، نفسا نفسی، جھوٹی جپھیاں، جعلی مصافحے، خوشامد، حسد، ہوس مال و منصب، مقدس منافق پریکٹسز، فحاشی کی حد تک پھیلی ہوئی خود نمائی اور اسراف، غیبت، جھوٹ، ٹینشن، غیر یقینی پن، بدکاریاں، بدفعلیاں ختم ہو جائیں تو اس معاشرہ میں باقی کیا رہ جائے گا؟
یہ ساری رونقیں ختم ہو جانے پر چاروں طرف سکوتِ مرگ جیسی کیفیت طاری ہوگئی تو کیا سب نفسیاتی مریض نہیں بن جائیں گے؟ اور تو اور مجھے ڈر ہے کہ خود ماہرین نفسیات بھی نفسیاتی مریض نہ بن جائیں۔
خود ہم لوگ کن موضوعات اور کیسی شخصیات پر کتنی دیر تک کیا کچھ لکھ لیں گے؟
نہ کوئی آئی جی اغوا ہوگا نہ کسی ایکسائز انسپکٹر کے گھر سے کروڑوں روپیہ کیش برآمد ہوگا، نہ توشہ خانہ میں نقب لگے گی، نہ کوئی سرے محل نہ ایون فیلڈ، نہ کوئی وسط شب تنظیم سازی کر رہا ہو گا، نہ ٹی ٹیوں کی یلغار، نہ کوئی ہار سیکنڈل نہ قرضے نہ خسارے، نہ کہیں گجر پورے نہ نعرے، نہ مہنگائی نہ مزار قائد پر جگ ہنسائی بے شرمی ڈھٹائی، نہ کوئی یوٹرن نہ وعدہ خلافی نہ کوئی وعدہ معاف گواہی، نہ چائنا کٹنگ نہ قبضہ گروپ نہ کوئی وی آئی پی مجرم، نہ ملزم نہ مفرور، نہ عربوں کا منت ترلا، نہ اربوں کا گھپلا، نہ فیٹف نہ فسادی اتحادی نہ جلسے نہ جلوس، نہ ریلوے ٹریکس پر مارکیٹیں، نہ تھانوں اور امتحانی مراکز کی نیلامی، نہ اداروں کی پامالی، نہ پاکستان خطرے میں نہ کسی کا ایمان خطرے میں، جمہوریت آزاد، معیشت مادر پدر آزاد، تو برادران ملت!
یہ بھی کوئی زندگی ہے نہ کوئی ایکشن نہ تھرل نہ ایڈونچر تو یہ جینا کیا جینا ہے۔ الٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنالہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ ہمارا لہو ہمیشہ یونہی گرم بلکہ ابلتا رہنا چاہیے کیونکہ سکون صرف قبرستانوں پہ سجتا ہے اور ہم سب چشم بددور اک زندہ قوم ہیں اور ہمارے لیڈرز اپنے عوام سے کہیں زندہ تر……. چاہے مفرور ہوں یا موجود، اپنے محلات میں ہوں یا جیل اور حوالات میں ……. گزارش صرف اپنی ’’برادری‘‘ سے ہے کہ سکون کی تلاش میں اپنا سکون اور کیریئر خراب نہ کریں اور سنجیدگی سے سوچیں کہ سب اچھا ہوگیا تو ہمارے ساتھ کیا ہوگا؟
کس موضوع پر لکھیں گے کہ ……..’’ہمیں تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا‘‘

Leave a Reply

%d bloggers like this: