Today's Columns

یوم مئی، مزدوروں کا عالمی دن از جہانذیب ارشاد چٹھہ

یکم مئی مزدوروں کا عالمی دن ہے، یہ دن منانے کا مقصد مزدوروں، محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کے حل کرنے کیلئے آواز اٹھانا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا دن منایا جا رہا ہے، یہ دن 1886میں شکاگو کے مقام پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والے احتجاج کا نتیجہ ہے، اس موقع پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز کانفرنسز اور ریلیاں منعقد ہوتی ہیں۔یوم مئی کا آغاز 1886 میں محنت کشوں کی طرف سے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا جس میں ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں، اور دیگر سوشلسٹک اداروں نے کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا تھا۔سن 1989 میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890 کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا، یوم مزدور کے ضمن میں ابتدا دراصل شکاگو(امریکہ) سے ہوتی ہے۔ جہاں پہلی بار 1886 میں مزدوروں نے باضابطہ طور پر کام کے اوقات کو آٹھ گھنٹے کرنے اور ہفتہ میں ایک دن کی تعطیل کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جنھیں نہیں ماننے پر مزدوروں نے پہلی بار احتجاج بلند کی اور ہڑتال کردیا ۔ اس ہڑتال اور مظاہرہ کے دوران کسی انجان شخص نے ایک بم بلاسٹ کر دیا ، جس سے ناراض ہو کر وہاں پر موجود پولیس نے فائرنگ شروع کر دی اور اس فائرنگ میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے۔ اس حادثہ کے بعد 1889 میں پیرس میں عالمی جنرل اسمبلی کی دوسری میٹنگ میں فرنچ انقلاب کو یاد کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کیا گیا کہ اس سانحہ کی تاریخ یعنی یکم مئی کو عالمی سطح پر یوم مزدور کے طور پر منایا جائے ۔ اس قرارداد کے منظور ہوتے ہی اسی وقت 80 ممالک نے یوم مئی یا یوم مزدور کے موقع پر قومی تعطیل کا بھی اعلان کر دیا ۔ اس طرح یوم مزدور وجود میں آیا اور اس وقت نعرہ دیا گیا تھا دنیا کے مزدور ایک ہوں ۔اس کے بعد یہ دن عالمی یوم مزدور کے طور پر منایا جانے لگاعالمی وبا مزدوروں کی زندگیوں میں بہت بڑا بحران لے کر آئی ہے اور آج لیبر ڈے کے موقع پر ہزار ہا محنت کشوں کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے، اس سرمایہ دارانہ نظام میں زندگیوں اور معاش کی کوئی ضمانت نہیں ہے، کووڈ 19 نے سرمایہ دارانہ نظام کی اصلیت واضح کر دی ہے۔ ہر سال یکم مئی کو آج کے دن بیشتر ممالک میں شکاگو میں شہید ہونے والے مزدوروں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی فلاح و بہبود ، ان کی بہتر طرز زندگی اور ان کے حقوق کے لیے سیمنار ، سمپوزیم، اورمزاکرے کے انعقاد کے لیے قومی سطح پرتعطیل بھی ہوتی ہے ۔ لیکن افسوسناک اور المناک پہلو یہ ہے کہ اس دن کی اہمیت او راپنے حقوق سے خود مزدور طبقہ ہی لاعلم ہوتاہے ۔ وہ آج کے دن بھی روز مرہ کی طرح صبح ہوتے ہی اپنے گھر سے مزدوری کے لیے نکل جاتا ہے اور شام گئے تھکا ، ماندہ، ٹوٹا ، بکھرا ہواگھر لوٹتا ہے ، کہ وہ اگر تعطیل منائے گا ، تو کھائے گا کیا ؟ اس لیے کہ مزدوروں کو تو روز کنواں کھودنا ہوتا ہے اور اپنی اور اپنے بال بچوں کی بھوک پیاس بجھانی ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مزدوروں کی فلاسھ وبہبود کے لیے یوم مزدور وجود میں آیا ضرور ، لیکن جب تک سوویت یونین کا دور دورہ یا یوں کہیں کہ عروج رہا ، ا سوقت تک یقینی طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں مزدوروں کی بہتر طرز زندگی کے لیے اور ان کی حقوق کی پامالی پر قد غن لگانے کے لیے طرح طرح کے پروگرام ، منصوبے اور قوانین بنتے رہے اور ان پر عمل بھی ہوتا رہا ۔ مزدوروں کی اس تحریک کو بین الاقوامی سطح پراس زمانے میں اس قدر اہمیت دی گئی کہ ایک وہ زمانہ بھی آیا جب ترقی پسند تحریک کے رہنما شاعر فیض احمد فیض نے یہاں تک مطالبہ کر دیا تھا کہ۔ (ہم محنت کش جگ والوں سے جب اپنا حصہ مانگیں گے ۔ اک کھیت نہیں ، اک دیش نہیں ، ہم ساری دنیا مانگیں گے۔) گزشتہ چند برسوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں جس طر ح مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ، اس سے ان ممالک میں پناہ لینے والے مہاجرین بھی اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ گھر سے چل پڑتے ہیں کچھ پیسے کمانے کے لیے منور رانا کا یہ ایک شعر تو زبان زد خاص و عام ہے کہ ۔( سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے) مزدوروں کا یہ بڑا المیہ ہے کہ ان کا ہر سطح پر استحصال ہو تا ہے ۔ ان کے لیے کوئی فکر کرنے والا نہیں ۔ ہم اس امر سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ مزدوروں کے حقوق اور ان کی بہتر طرز زندگی کے لیے پہلی بار جہاں سے یہ آواز اٹھی تھی ، یعنی امریکہ ( شکاگو)سے ، وہاں کے مزدور دوسرے ممالک کے مقابلے بہت بہتر ہیں امریکہ میں وہاں کے مزدوروں کے حقوق ، ان کی بہتر طرز زندگی کے لیے جو قوانین ہیں ، ان پر پوری طرح عمل کیا جاتا ہے ۔ دوسری طرف اس کے ٹھیک برعکس ہمارے ملک میں صبح صبح جس طرح بھیڑ بکریوں کی طرح، ٹرکوں اور ٹریکٹروں میں لد کر مزدور اپنے گاوں سے شہر کی جانب مزدوری کرنے جاتے ہیں ، انھیں دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ بھی انسان۔پاکستان سمیت دنیا بھر کے اسی سے زائد ممالک میں ہر سال یکم مئی کا دن محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں گی اور ان کا استحصال بند کیا جائے گا۔ یکم مئی 1886 کو امریکہ کے شہر شکاگو کے مزدور، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی جانب سے کئے جانے والے استحصال کے خلاف سڑکوں پر نکلے تو پولیس نے اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے والے پرامن جلوس پر فائرنگ کر کے سینکڑوں مزدوروں کو ہلاک اور زخمی کردیا جبکہ درجنوں کو حق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا، لیکن یہ تحریک ختم ہونے کے بجائے دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی جو آج بھی جاری ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینار، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،ملک کے مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو تیز کرنے، مہنگائی وبے روزگاری کے خاتمے، قومی اداروں کی نجکاری کے خاتمے، مزدور دشمن قوانین کی منسوخی، ٹھیکیداری نظام کے خاتمے، تنخواہوں و اجرت میں اضافے سمیت مزدوروں، محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں قومی سطح پر یوم مئی منانے کا آغاز 1973 میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا، ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کے حقوق کیلئے انقلابی لیبر پالیسی نافذ کی جس کے مطابق مزدوروں کو روزگار کا تحفظ دیا گیا او ر انہیں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان کے دور حکومت سے یکم مئی کو سرکاری تعطیل قرار دیاگیا، اس دن تمام سرکاری و غیر سرکا ری ادارے اور بنک بند رہتے ہیں۔ بے شک محنت کش اللہ تعالی کا دوست ہوتا ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدور کے حقوق پر بہت زور دیا۔ ایک بار ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اسکے ہاتھ کھردرے اور سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا کہ محنت اور مشقت کرتے ہو اس شخص نے بتایا کہ پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کر روزی کماتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محنت کش کے ہاتھ چوم لیے۔ یکم مئی کے دن دنیا بھر کا دانشور طبقہ مزدوروں کے مسائل حل کرنے کیلئے بڑے بڑے جلسے کا انعقاد کرتا ہے، لیکن افسوس کہ ان مزدوروں کو اس کی خبر ہی نہیں ہو تی، اور تقریبا 99 فیصد مزدور اس بات سے بالکل ناواقف رہتے ہیں کہ سال میں ایک دن ایسا بھی آتاہے جو ان کیلئے خاص ہے، ان کیلئے خوشیاں منانے کا موقع ہے، چھٹیاں کرکے بال بچوں کے ساتھ گزارناہے جسے دنیا بھر میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتاہے، لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے، صبح مزدوری کرتا ہے تو رات کو اس کا چولہا جلتا ہے، کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ چھٹی کے ساتھ ہی اس کے گھر میں فاقے کی آمد ہوتی ہے، یکم مئی یوم مزدور بھی اس کے لئے محض فاقہ کا ہی دن ہوتاہے۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے مزدوروں کی مجبوری کو ان اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔

تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان مزدوروں کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ حکومت کو چاہئے کہ مزدور وں کے حالات میں بہتری کے لئے اقدامات اور ان کی اجرت و تنخواہوں میں مناسب اضافے کا اعلان کرے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں مزدور تحریک ہمیشہ کمزور رہی ہے ، مزدور رہنمائوں کی جانب سے مزدور تحریک کو منظم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مزدور رہنماں کو قومی سطح پر ایک مضبوط فیڈریشن قائم کرنے کیلئے جدوجہد کرنا چاہئے، تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں اور ان کا استحصال ختم ہوسکے ۔ بلاشبہ مزدور ایک ایسی طاقت اور قوت ہیں کہ اگر متحد اور منظم ہوجائیں تو کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مزدور اگر دوسروں پر بھروسہ کرنے کی بجائے خود پر زیادہ بھروسہ کریں اپنے بچوں کی خاطر ایثار و قربانی دے کران کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں تو، اتنا ضرور ہے کہ ان کے بچوں کا مستقبل ضرور سنو رجائے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کم از کم ہر یوم مزدور کے موقع پر ایسے تمام ممالک میں ، جہاں مزدوروں کی حالت حیوانوں سے بھی بدتر ہے ، وہاں ان کی اور ان کے بال بچوں کی بہتر طرز زندگی کے لیے بہت سنجیدگی سے لائحہ عمل تیار کیا جائے ، تاکہ زندگی کے دوڑ میں یہ بہت پیچھے نہ رہ جائیں ۔

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: