Sarah Omer Today's Columns

سہولیات سے محروم طبقہ از سارہ عمر ( عوام کی آواز )

Sarah Omer
Written by Sarah Omer

ہر سال یکم مئی کو ”عالمی یوم مزدور” یعنی مزدوروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے-مزدوروں کے اس عالمی دن کے موقع پہ نہ صرف عام تعطیل دی جاتی ہے بلکہ مزدوروں کے حق میں آواز بھی بلند کی جاتی ہے-
عالمی یوم مزدور کی ایک جدا گانہ تاریخی حیثیت ہے-یوم مئی کا آغاز 1886ء میں ہوا جب مغربی دنیا میں صنعتی انقلاب کے بعد سرمایہ کاروں کی بدعنوانیاں عروج پہ جا پہنچیں-وہ اپنی مرضی سے مزدور کی اجرت دیتے اور ان سے کئی گھنٹوں لگاتار کام کروایا جاتا-جب صنعتی مراکز اور کارخانوں میں مزدوروں کی بدحالی حد سے زیادہ بڑھ گئی تو 1886ء میں محنت کشوں کی طرف احتجاج کیا گیا۔اس احتجاج کو روکنے کے لیے مظاہرین پہ تشدد بھی کیا گیا اور کچھ مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس واقعے کے بعد شکاگو میں ہونے والے اس احتجاج نے باقاعدہ تحریک کی صورت اختیار کر لی اور اس کا آغاز کام کے لیے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار کے مطالبے سے ہوا۔
مزدوروں نے ٹریڈ یونینز اور مزدور تنظیمیں اور دیگر اداروں، کارخانوں میں ہر دن آٹھ گھنٹے کام کا مطالبہ کیا۔اس اصول پہ اب تک عمل کیا جاتا ہے اور عموماً دفاتر،دکانوں،تدریسی مراکز اور ہر جگہ مزدور یا ملازمت پیشہ شخص کے کام کا دورانیہ آٹھ گھنٹے ہی مقرر ہے-یہ تحریک چلانے کا بنیادی مقصد دن کے تین اوقات کو آٹھ آٹھ گھنٹوں پہ مساوی تقسیم کرنا تھا یعنی دن کے آٹھ گھنٹے کام،آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام کیا جائے۔
بھوک،نیند اور آرام ہر انسان کے لیے ضروری ہے-لگاتار کام اور مشقت توانا و صحت مند انسان کو بھی لاغر کر دیتی ہے-اسی نظریے کی بنیاد پہ تمام مزدوروں اور کام کرنے والے افراد کے اوقات کار مختص کیے گئے تاکہ بحثیت انسان وہ زندگی کی دیگر رنگینیوں سے لطف اندوز ہو سکیں-اپنی توجہ کام کے علاوہ اپنے گھر،خاندان اور دیگر سرگرمیوں کو بھی دے سکیں-
1894 میں کئی ممالک میں باقاعدہ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا-اب بھی بیشتر ممالک میں یکم مئی کو یوم مزدور منایا جاتا ہے اور مزدوروں اور پیشہ ور ملازموں کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں-ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جاتی ہے اور ملازمین کی تنخواہوں کی بڑھوتری کے لیے درخواست بھی دی جاتی ہیں-
ہر سال مزدوروں کے حق کے لیے آواز تو اٹھائی جاتی ہے مگر اس کی سنوائی کبھی نہیں ہوتی۔آج بھی اگر اپنے اردگرد نظر اٹھا کر دیکھا جائے تو مزدور طبقہ اب بھی پریشانیوں کا شکار نظر آتا ہے۔اب بھی کئی بنیادی سہولیات سے محروم یہ طبقہ غربت کی چکی پیسنے پہ مجبور ہے۔ہوش ربا مہنگائی نے اس طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
سال 2020 کے بجٹ میں مزدور کی کم از کم تنخواہ سترہ ہزار پانچ سو روپے تجویز کی گئی مگر اس پہ عملدرآمد تا حال ممکن نہ ہو سکا۔کتنے ہی مزدور اس سے کافی کم اجرت پہ محنت مزدوری کرنے اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے پہ مجبور ہیں۔ان مزدوروں سے نہ صرف کم اجرت پہ کام لیا جاتا ہے بلکہ کام کا دورانیہ بھی آٹھ گھنٹے سے زائد ہوتا ہے۔
پاکستان کے اندر کوئی ایسا منظم ادارہ نہیں جو محنت مزدوری کرنے والے جفاکش مزدوروں کی اجرت اور کام کے دورانیے کے متعلق کارروائی کر سکے۔
حکومت کی جانب سے جب بھی مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے وہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی صورت میں ہوتا ہے۔البتہ پاکستان میں ملازمت پیشہ افراد میں زیادہ تعداد پرائیویٹ ملازمت کرنے والوں کی ہے جن کی نہ تو تنخواہ بڑھتی ہے نہ ہی ان کو پینشن وغیرہ کی سہولیات میسر آتی ہیں۔پرائیویٹ اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے بھی کوئی سہولیاتی پیکج متعارف کروانا چاہیے تاکہ یہ طبقہ بھی اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کر سکے۔اس طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ قرض لے کر ہی اپنے اخراجات کو پورا کرنے پہ مجبور ہوتے ہیں۔
محنت مزدوری کرنے والے دھاڑی دار مزدور،کانوں اور کمپنیوں،فیکڑیوں میں کام کرنے والے مزدور کئی بار ناگہانی حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں مگر ان کے گھر والے ہمیشہ ہی کسی مراعات سے محروم رہتے ہیں۔کسی قسم کی مالی معاونت مہیا نہیں کی جاتی حتی کہ وعدے بھی کیے جائیں تو وفا نہیں کیے جاتے۔مزدوروں کے عمارت سے گرنے،فیکڑی میں جلنے،دھماکے سے یا دم گھٹ کر مرنے کے واقعات کئی بار ہماری آنکھوں سے گزرتے ہیں مگر ہم ان کا درد محسوس نہیں کر سکتے جس گھر کا سربراہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہوتا۔مزدوروں کی ایسی کوئی بیمہ پالیسی متعارف نہیں کروائی جاتی جو بعد میں ان کے گھر والوں کے لیے معاشی سہارا ثابت ہو۔
مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور عام عوام کے لیے ان حالات میں جینا مشکل ہو چکا ہے۔تنخواہیں اب بھی پرانے ہی اعداد و شمار کے مطابق دی جا رہیں جبکہ حکومت کی جانب سے سانس لینے کے علاوہ ہر چیز پہ ٹیکس لگ چکا ہے۔ایسی صورتحال میں ملک میں افراتفری،کرپشن،لوٹ مار،چوری اور بدعنوانی کا بازار گرم ہے۔جب انسان کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہو جائے تو وہ دوسروں کا نوالہ چھیننے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ان حالات میں حکومت کو چاہیے کہ مزدوروں کی اجرت کے متعلق موثر اقدامات کرے۔مہنگائی کا جن قابو کر کے عام عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ محنت مزدوری کر کے حق حلال کمانے والا یہ طبقہ چوری یا خودکشی جیسے گناہ کی جانب مائل نہ ہو۔اس مقصد کے لیے حکومت سمیت بحیثیت ایک شہری ہمارا فرض ہے کہ حسب توفیق ایسے ملازمت پیشہ یا مزدور افراد کی مدد کی جائے تاکہ وہ اپنا گھر چلانے کے قابل ہو سکیں۔
جہاں ایک جانب مغربی دنیا روزگار کے معیار کی بہتری کے لیے کوشاں ہے وہاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ابھی تک اجرت اور کام کے دورانیے پہ بھی کوئی متعلقہ قانون سازی نہیں کی جا سکی۔ملک کی افرادی قوت کو بڑھانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ صرف یکم مئی نہیں،ہر دن ان جفاکش مزدوروں کے متعلق سوچا جائے جو دھوپ میں اپنا پسینہ بہاتے ہیں مگر یا تو اجرت سے محروم رہتے ہیں یا کام کی نسبت کم اجرت وصول کر پاتے ہیں۔
یوم مزدور پہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام چلانے کی بجائے حکومت وقت کو چاہیے کہ مزدوروں سمیت ہر شہری کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ممکن بنائی جائے اور ان کو ان کے کام کے مطابق اجرت بھی ادا کی جائے۔ایسا نظام متعارف کروایا جائے کہ مزدور طبقے کی باقاعدہ رجسٹریشن ہو انہیں مفت راشن اور رہائش کی سہولت میسر کی جائے۔کسی حادثے کی صورت میں اس کے اہل خانہ کی معاشی مشکلات کو حل کیا جائے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔اصل کامیابی تو یہی ہے کہ مزدور طبقہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے اور محتاجی کی زندگی گزارنے سے محفوظ رہے۔صحت اور تعلیم کے حصول کے لیے بھی اس طبقے کو مراعات دی جانی چاہیں تاکہ یہ محنت کرنے والے افراد ملک کی ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور ملک کی معیشت کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال سکیں کیونکہ مستحکم مزدور ہی مضبوط پاکستان کی پہچان ہے

٭…٭…٭

About the author

Sarah Omer

Sarah Omer

Leave a Comment

%d bloggers like this: