Today's Columns

سید ظفر پیرزادہ ہمیشہ زندہ رہیں گے از عابد حسین مغل

زندگی میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کے ساتھ کوئی خونی رشتہ تو نہیں ہوتا لیکن زندگی کے سفر میں اپنے حسن اخلاق اور کردار کے ساتھ دوسروں کے دل میں گھر کر لیتے ہیں اور انسان ان کے بغیر اپنے آپ کو نا مکمل سمجھنے لگتا ہے دنیاکی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ کسی تحریک کا ایک کارکن ہی اس تحریک کی کامیابی کا ستارہ بن جاتا ہے وہ اپنی زندگی میں ایسا کام کر جاتاہے کہ تحریک اس کے نام پر متحد ہو کر زندہ رہتی ہیںاس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ تحریکیوں کو چلانے والے ہمیشہ پس پردہ ہوتے ہیں بہت سے کامیاب لوگوں کی اصل کامیابی کے پیچھے محنت اور وفاداری سے کام کرنے والے تحریکی ساتھی ہوتے ہیں جو قیادت تو نہیں کر رہے ہوتے لیکن قیادت کو درست سمت میں چلانے میں ان کا اہم کردار ہو تا ہے ۔موبائل کی گھنٹی نے آنکھ کھولی تو ایسی خبر سننے کو ملی جس نے پائوں تلے سے زمین نکال دی خبر کی تصدیق کے لیے ریجنل یونین آف جرنلسٹس سینٹرل پنجاب کے صدر ڈاکٹر محمد زکریا سے رابطہ کیاتو انہوں نے بڑے دکھی انداز میں خبر کی تصدیق کی لیکن دل و دماغ خبر کو تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے اسی لیے ڈویژنل صدر فیصل آباد ڈاکٹر امتیاز ڈار اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ساجد مجید انور سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی خبر کی تصدیق کی اور افسوس کا اظہار کیا لیکن دل نے پھر بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو اپنے عظیم تحریکی ساتھی سید ظفر پیرزادہ کے موبائل نمبر پر کئی بار کال کی کچھ ہی دیر بعد ان کی بیٹی نے فون اٹھایا تو اس کی آواز نے ہی تما م دوستوں کی بات پر مہر لگا دی کچھ دیر کے لیے جیسے وقت رک گیا ہو اور دماغ نے کام ہی چھوڑ دیا ہو کل تک تنظیم کی بہتری سے لے کر زندگی کے ہر موڑپر ساتھ دینے والا تنظیم کو قصبوں تحصیلوں اور چھوٹے اضلاع سے نکا ل کر اسلام آباد تک لے جانے والا سید ظفر پیرزادہ آج ہم کو چھوڑ کرجاچکا تھا دل ودماغ تسلیم ہی نہیںکر رہے تھے چند لمحوںمیں کیا سے کیا ہو گیا تھا گزرے وقت کی ایک ایک بات یاد آر ہی تھی وہ اس قد ر وفادار ساتھی تھے کہ تنظیم کی بہتری کے علاوہ کوئی دوسری بات ہی ان کے پاس نہیں ہوتی تھی ان سے پہلی ملاقات ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کے سابق سیکرٹری جنرل رائے سجاد حسین کھرل مرحوم کے ساتھ 2015میں ہوئی تھی سید ظفر پیرزادہ کا پورا نام سید ظفر عباس زیدی تھا ان کا تعلق ملتا ن کے زیدی سید گھرانے سے تھا۔وہ 18اکتوبر 1965کو ملتان میں پیدا ہوئے ،فیڈرل بوائز ہائی سکول ملتان کینٹ سے میٹرک کرنے کے بعد ایف اے اور بی اے ایمرسن کالج ملتان سے کیا 1990؁ٗ میں بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان سے ماسٹر کیا ۔بیسٹ اتھلیٹ رہے 400میٹر اور 1000میٹر کی دوڑ میں اب تک ان کا ریکارڈ کالج میں کوئی نہیں توڑ سکاانہوںنے گولڈ میڈل بھی حاصل کیا وہ ایمرسن کالج ملتان کی کمیٹی کے بھی رکن تھے۔کرکٹ ٹیم کے کپتان اور پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدربھی رہے جمہور ی جدوجہد کے لیے جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں کچھ عرصہ ملازمت بھی کی 26مئی 1995 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والی اپنی کلاس فیلو سے شادی کی۔ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قصبہ رجانہ میں قائم اپنے سسر کی قدیمی لائبریری کی دیکھ بھال کے سلسلہ میں رجانہ آگئے اور ساتھ ہی ایک بڑے تعلیم ادارے کی بنیاد رکھی ۔سید ظفر پیرزادہ ایسی شخصیات کے مالک انسان تھے کہ جو بھی ایک باران کو ملتا ان سے گفتگو کرتا وہ ان کا ہی ہو جاتا۔ وہ ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن تھے تنظیمی طور پر پنجاب کی دوحصوں میں تقسیم ،تنظیم کی رجسٹریشن ،قوائد و ضوابط اور آئین کی تیاری ،سینٹرل ایگزیکٹو اورصوبائی ایگزیکٹو کمیٹیاں کا قائم ،7نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ ،پنجاب کے 10اضلاع سے احتجاجی تحریک کا آغاز سمیت تحریری اور مذاکراتی طور پر صوبائی اور وفاقی سطح پر اعلیٰ افسران کو علاقائی صحافیوں کے موقف کو دلیل کے ساتھ پیش کرنا ان کا ہی کام تھا۔ان کے ساتھ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے چند مفاد پرست سیاستدانوں اور رجانہ میں ان کے حواریوں نے جو کیا اس کو بھی کسی صورت بھلایا نہیں جاسکتا انشاء اللہ وقت بہتر فیصلہ کرے گا ۔ آج وہ ہمارے درمیان میں نہیں رہے لیکن تنظیم کی رکنیت سازی بڑی تیزی سے جاری ہے تنظیم کو جس جگہ پر وہ دیکھنا چاہتے تھے انشاء اللہ اس مقام پر لے جانے کے لیے اپنی آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھوں گا علاقائی صحافیوں کو انکے حقوق دلانا ہی ان کا مشن تھا جس کو ہمیشہ جاری رکھا جائے گا اور ریجنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کا نام جب تک رہے گا ساتھ ہی سید ظفر پیرزادہ کا نام بھی ہمیشہ زندہ رہے گا۔

٭…٭…٭

About the author

Peerzada M Mohin

M Shahbaz Aziz is ...

Leave a Comment

%d bloggers like this: