Mir Afsar Aman Today's Columns

غزوہ فتح مکہ از میر افسر امان ( مشرقی اُفق )

Mir Afsar Aman
Written by Mir Afsar Aman

مغربی ابلاغ ایک ایسا ہتھیار ہے جو قوموں کو ان کے ماضی سے ناآشنا کر دیتا ہے۔اسی لیے شیطان اسے ہمیشہ کا رگر ہتھیا رکے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ پوری کیمونسٹ تاریخ میں باہر کی دنیا کو وہی جھوٹی خبر دی گئی جو اس کے موافق تھی حتہ کہ ہم مسلمانوں کو ترکی سے لیکر چین تک کے اپنے مسلمان علاقوں کی خبر تک نہ تھی کہ وہ حالت رہ رہے ہیں۔ ماضی قریب کی دنیا میںایک وقت شیطان نے کیمونسٹوں میں حلول کیا تھا اور انہوں نے ابلاغ کو اپنی جابرانہ پالیسیوں کے حق میں بہت اچھی طرح استعمال کیا اور پروپگنڈے کے زور پر آدھی سے زائد دنیا کو ۷۰ سال تک اپنی جبرانہ تسلط قائم کر کے دبائے رکھا۔اللہ بھلا کرے فاقہ کش افغانوں کہ انہوں نے اس طلسم کو توڑہ اور دیکھتے ہی دیکھتے ترکی سے چین تک چھ اسلامی ریاستیں، قازقستان،کرغیزستان،اُزبکستان،ترکمانستان، آزربائیجان ، اور تاجکستان آزاد ہوئیں۔ مشرقی یورپ کی کیمونسٹ ریاستوں نے بھی آزدی کا اعلان کر دیا۔مشرقی اور مغربی جرمنی آپس میں ملیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مشین سیٹ یونین چپک کر لینن گراڈ تک محصور ہو گئی۔ابلاغ یہ کام پہلے بھی یہودیوں کے دماغ نے کیا تھا اور اب بھی اسی ابلاغ کی نکیل یہودیوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ دنیا کے سارے بڑے الیکٹرونک جینلز یہودیوں کے قبضہ میں ہیں۔ وہ بڑی مہارت سے اسے استعمال کر رہے۔ ابلاغ کے ذریعے، سب سے پہلے اپنے کٹر دشمن عیسائیوں کو رام کیا۔ وہ عیسائی جنہوں نے یہودیوں کو جرمنی میں مولی گاجر کی طرح کا ٹا تھا جو تاریخ میں ہولو کاسٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہودیوں نے اس دشمنی کو ابلاغ کے ذریعے دبا دیا۔ نوبت یہاں پہنچی ہے کہ یورپ کے کئی ملکوں کے آئین میں اس کے خلاف بولنے پر پابندی ہے اور قابل جرم ہے۔ مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسایوں کا مشرکہ دشمن بنا دیا۔ دونوں مل کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ ابلاغ سے دوسرا کام فہاشی کو عام کرنے کا کیا گیا۔ میڈیا کے ذریعے فحاشی پھیلائی گئی۔فحاحشی کی جڑوالنٹائن ڈے کوعام کیا گیا۔ والنٹائن کیا ہے ایک مذہبی پاردی کی عشق کی داستان ہے۔ فلموں،مال فروخت کرنے میں اور کھیل کے میدانوں شائقین کے تفریع کے لئے عورت کو نیم عریاں کر کے پیش کیا جارہا ہے۔ تیسرا کام دنیا میں ڈیز منانے کا ہے۔ اس کا مقصد دنیا کو اس کی تاریخ سے نا آشنا کرکے ایک نئی شیطانی تہذیب کی بنیاد رکھنا ہے۔کیا مسلمان ملک اور عام مسلمان اس کا شکار نہیں ہو رہے ہیں؟ کیا مسلمانوں نے اپنے تاریخی دنوں کو بھلا نہیں دیا؟ اسلامی یاد گار دنوں میں ایک دن ’’غزوہ فتح مکہ‘‘ کا دن بھی ہے ۔ مغرب کے ایک بڑے محقق نے لکھا ہے’’ بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا ،مگر بدر کے بعد وہ مذہب ِ ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا‘‘ یعنی ریاست کا مذہب بن گیا تھا۔یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے اسلامی جمہوریہ عرب بن گیا تھا جس میں سب کے حقوق برابر تھے ۔جس میں گورے کو کالے پر اور عرب کو عجم پر، سرداروں کوعوام پر، حاکم کو محکوم پر کو فضلیت حاصل نہیں تھی۔ فضیلت تھی تو اس کے تھی جو زیادہ متقی تھا۔ جو قانون ریاست کا پابند تھا۔جو ریاست کا وفادار تھا۔ عورتوں کے حقوق رسولؐ اللہ نے متعین کر دیے تھے۔اس کے بعد جب فتح مکہ پر ایک تاریخی بیان ایک اسلامی مفکر امام ابنِِ قیم نے دیا تھا’’ لکھتے ہیں کی یہ دن فتح اعظم ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے دین کو، اپنے رسول ؐکو،اپنے لشکر کو اور اپنے امانت دار گروہ کو عزّت بخشی اور اپنے شہر کو اور اپنے گھر کو، جسے دنیا والوں کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا ہے، کفار ومشرکین کے ہاتھوں سے چھٹکارا دلایا۔ اس فتح سے آسمان والوں میں خوشی کی لہر دوڑگئی اور اس کی عزّت کی طنابین جوزاء کے شانوں پر تن گئیں،اور اس کی وجہ سے لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے اور روئے زمین کا چہرہ اور چمک دمک سے جگمگا اُٹھا۔(الرّحیق ا لمختوم) مسلمانوں کو یہودی ابلاغ سے کنارہ کش ہو کر اپنے تاریخی دنوں کو یا رکھناچاہیے ان کو منانے کا اہتمام کرنا چاہیے اور اپنے ہی شجر سے وابستہ رہ کر بہار کی امید کرنا چاہیے۔ وہ قومیں ختم ہو جاتیں جو اپنے اسلاف کے کارناموں کو بھول جاتیں اور کھیل تماشوں میں غرق ہو جاتیں ہیں۔
غزوہ فتح مکہ کی کہانی کچھ اس طرح ہے کی صلح حدیبیہ میںرسولؐ اللہ جو معائدہ طے ہوا تھااس میں جو قبیلہ رسولؐ اللہ کے ساتھ شامل ہوا اور جو قریش کے ساتھ شامل ہوئے تھے ان کی ایک دوسرے کے خلاف کاروائی کو رسولؐاللہ یا قریش کے خلاف کاروائی تصور کی جائے گی۔ قریش نے اس معائدے کی خلاف وردی کرتے ہوئے رسولؐ اللہ کے ساتھی قبیلہ سے لڑائی کی تھی جس کی شکایت لے کو اس قبیلے کے لوگ رسولؐ اللہ کے پاس مدینہ میں گئے قریش کو بھی جب اپنی غلطی کا احساص ہواتو ابو سفیان کو معائدے کی توثیق کے لیے مدینہ رسولؐ اللہ کے پاس مگر وہ ناکام ہو کر لوٹا۔طبرانی بیان کرتے ہیں کہ معائدے کی خلاف وردی کے بعد رسولؐاللہ نے تیاری شروعکر دی تھی۔۱۰ رمضان کو رسولؐاللہ نے مدینہ کا روخ کیا۔آپ ؐ کا ساتھ ۰۰۰،۱۰ صحابہ ؓ تھے۔ جب اسلامی لشکر جحفہ کے مقام پرپہنچا تو حضرت سباسؓ رسولؐاللہ سے ملے اورع ایمان لے آئے۔پھر ابوسفیان بھی رسولؐاللہ سے ملنے آئے تو آپؐ نے منہ پھیر لیا۔ اس پر حضرت علیؓ نے ابوسفیان کا کہا کہ جائو اور رسولؐ اللہ سے مل کر وہی کہا جو حضرت یوسف ؑکے بھائیوں نے حضرت یوسفؑ سے کہا تھا۔ اس پرجواب میں رسولؐ اللہ نے وہی کہا جو حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا۔ اس پر ابو سفیان نے چند اشعار میں رسولؐ اللہ کی تعریف کی ۔ جب معاملہ دوستی میں بدل گیا توحضرت عباس ؓنے رسولؐاللہ سے کہا کہ ابو سفیان اعزاز پسند ہے اسے کوئی اعزاز دے دیں۔آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جائے اسے امان اور جو اپنا دروازہ اندر سے بند کر لے اسے امان ہے۔ جو مسجد حرام میں داخل ہو جائے اس امان ہے۔اسی صبح،۱۷ رمضان ۸ ؁ ھ کو رسولؐاللہ مرا لظہران سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ ۱۹ روز مکہ میں قیام کیا۔ وہاں قیام کے دوران رسولؐاللہ نے صحابہؓ سے کہا کہ ہر قبیلہ رات کو علیحدہ علیحدہ آگ روشن کرنے کو کہا تاکہ مکہ والے اس سے خوف زدہ ہو جائیں اس کے بعد اسلامی لشکر مکہ میں کئی سمتوںسے داخل ہوئے۔ابو سفیان نے اپنی قوم کو کہا کہ رسولؐاللہ بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں آپ ان کے لشکر کا مقابلہ نہیںکر سکتے۔ اس کے بعد اسلامی لشکر اچانک وریش کے سر پر آن پہنچا۔ پھر ابوسفیان نے وہی اعلان کیا جس پر رسولؐاللہ نے اس سے وعدہ کیا تھا۔ مکہ فتح ہو گیا۔

٭…٭…٭

About the author

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

Leave a Comment

%d bloggers like this: