Muhammad Akram Amir Today's Columns

کرونا، رمضان اور گداگروں کی یلغار از علی جان ( مستقبل جاں )

مذہب اسلام ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیتا ہے مگر ایسے گداگروں اور ٹھگ بازوں کیلئے سخت وعیدیں فرمائی ہیں مختصراًنے یہ کہ گداگری سے اجتماعی اور انفرادی برائیاں جنم لیتی ہیں جس میںبے حس ہونا،غیرت سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور جب بھیک نہ ملے تو چوری کرناویسے پیشہ وربھکاری ہو یا مجبوری نے بھکاری بنایا ہو تو معاشرے کیلئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔آپ کسی تقریب بازاریاشہرکے صدردروازے پرجائیں توہاتھ پھیلائے لوگ کھڑے ہونگے جنہیں گداگرکہتے ہیں اگرغورکریں توان میں تندرست وتوانانوجوان بھی شامل ہونگے مردعورت بچے معذوراورہرعمرکے گداگرکھڑے ملیں گے خاص طورپرماہ مقدس اورعیدین کے موقع پران کی بہتات ہوتی ہے۔ شہرکی تپتی ہوئی سڑکوں پرمختلف چوراہوں پرخاص طورپرٹریفک سگنل کے آس پاس زندگی کے مارے ہوئے لوگ گاڑیوں کے شیشے کھٹکھٹاتے موٹرسائیکل سواروں کے جذبہ رحم کا امتحان لیتے ہوئے دن بھرطلوع سے غروب اور پھررات ڈھلنے تک ایک قابل توجہ مشقت میں مصروف رہتے ہیںزندگی کچھ لوگوں کیلئے کتنی حسین اور کچھ کیلئے کتنی دردناک ہوتی ہے جو ہرلطف زندگی سے محروم رہتے ہیں یہ مناظراسی محرومی کی عکاسی کرتے ہیں ہمارے ہاں ایک عرصہ سے یہ بحث چل رہی ہے کہ گداگروں کیلئے عافیت گھربنانے چاہیں تاکہ ایک طرف تو یہ لوگ دیکھنے والوں کیلئے اور خاص طور پر غیرملکیوں کی نظرمیں ہماری معاشرتی زندگی کا کوئی اچھاعکس پیدانہیں کرتے جس وجہ سے ہماراملک پوری دنیامیں گندی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے عمرانیات کے ماہرین کاکہنا ہے کہ انسان ازل سے دوسرے انسان کا محتاج رہا ہے کسی کے پاس اناج ہے توکسی کے پاس تن ڈھانپنے کیلئے کپڑاکسی کے پاس سرچھپانے کیلئے چھت ہے تو کسی کے پاس جوتا تک نہیںمگرانسان نے ہمیشہ سے ہی محنت کے بل بوتے پراپنی زندگی میں ان ضروریات کو حاصل کرنا اپنا شعاربنایا اوریہی وہ عمل تھا جس کے بل بوتے پرآج دنیا کے ہرتمدنی معاشرے میں انسان عزت اور وقار کی زندگی گزاررہے ہیں اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ وہ لوگ جنہیں خدانے ان تمام صلاحیتوں سے نوازا ہے جن کی مدد سے وہ اپنی روزی پیداکرسکتا ہے زندگی اس بھاگ دوڑ میں اپنا کردارباآسانی اداکررہے ہیں مگروہ لوگ جن کے پاس ان میں سے کسی ایک یابہت سی صلاحیتوں کی کمی ہے تو وہ اپنا گزارا کیسے کرے گا ان کے پیٹ کی دوزخ کون بھرے گا ۔علوم عمرانیات کے ماہرین نے گداگری کو ایک سماجی رویہ قراردیتے ہیں جس کے تحت معاشرے کا محروم طبقہ اپنی بنیادی ضروریات کوپوراکرنے کیلئے دوسروں کی امدادکا محتاج ہوجاتا ہے اورامیراوردولت مندلوگوں سے براہ راست رقم اوراشیاء خوردونوش کامطالبہ شروع کردیتا ہے۔۔ کسی بھی فلاحی ریاست میں ذمہ داری بہرحال ریاست کی ہے مگرکاش!کبھی وہ ریاست قائم ہوجائے اس حوالے سے اہم پہلو یہ ہے اس ریلے میں زیادہ ترتعداد ان لوگوں کی ہے جن کو ہم پیشہ ور بھکاری کہتے ہیں مگرسوچنے کی بات یہ ہے کہ ان دونوں میں فرق کون دیکھے گا اور معاشرے کو اس گداگری کی لعنت سے کون نجات دلائے گا اگرپیشہ وربھکاری بھی ہے توکیا اس کی ضروریات نہیں؟کیا اس کے بچے نہیں؟کیا یہ ملک ان کا نہیں؟کیا اسلام کے مطابق وہ ہمارے بھائی نہیں؟کتنے سوال دل میں آتے آتے رک جاتے ہیں جب ایک مڈل کلاس آدمی ان کی ضروریات کے آگے چھوٹاپڑجاتا ہے بس وہ کسی مسیحا کی آس لیے بیٹھے ہیں کہ انکے بچوں کا مستقبل کیسا ہوگا اللہ پاک ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے بہرحال جو بھی ہو حضورپاک کی حدیث مبارکہ ہے کسی سے سوال کرنے کی بجائے محنت کرکے کھانا افضل ہے مگر آج کے دور میں ایسے ایسے گداگردیکھنے کو ملتے ہیں کہ صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ مردحضرات میں اب عزت نفس نام کی شایدکوئی چیز نہیں رہی کہ وہ خواجہ سراء بن کربھیک مانگنا شروع کردیتے ہیں چنددن پہلے کی بات ہے میں ایک دوست کے ساتھ جارہاتھا مجھے اس نے بتایا وہ سگنل پرایک ہیجڑا دکھائی دے رہا ہے میں نے کہا جی تومجھے کہا وہ اصل میں مرد ہے میں حیران رہ گیا اس نے ایسا میک اپ کیا ہوا تھا کہ پتہ بھی نہیں چل رہا تھا تو میں نے کہا آپ کو کیسے پتا تواس نے مجھے بتایا میرے محلے کارہائشی ہے تومیں نے اپنے دوست سے سوال کیا کہہ وہ محنت مزدوری کیوں نہیں کرتا تواس نے کہا اس کے 6بچے ہیں اورکوئی بھی مزدوری کریں 15000سے 20000تک مہینہ کماسکتے ہیں جس میں بچوں کی خوراک دودھ فیس وغیرہ ،گھرکا راشن،مکان کا کرایہ اوربجلی کابل جیسے اخراجات پورے نہیں ہوتے میں نے سوچا ویسے توہمارے معاشرے میں کئی امیرلوگ ہیں اگریہی لوگ چپکے سے ان لوگوں کی مددکریں اورحکومت وقت بھی ان کا سہارابنے توبھکاری یقیناً کم ہونگے میں نے کچھ کھوج کی جس کا مجھے سن کرحیرانی ہوئی کیونکہ یہ جولوگ بھکاری بنے ہوتے ہیں اصل میں انکے پیچھے ٹھیکیدار نما لوگ ہوتے ہیں جو پہلے تو انکو قرض یا نشہ میں مبتلاکرکے ان کو پیسے کا لالچ دیتے ہیں پھر پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بھکاری بنا کر بٹھا دیتے ہیں اور محنت کی بات کی جائے تو حضور پاک نے خود ایک صحابی کو رسی اورکلہاڑی دے کر حلال کمانے کا حکم دیاجیسا کہ اوپربتایا گیا ہے کہ یقیناًہمارا مذہب اسلام ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیتا ہے مگر ایسے گداگروں اور ٹھگ بازوں کیلئے سخت وعیدیں فرمائی ہیں مختصراًنے یہ کہ گداگری سے اجتماعی اور انفرادی برائیاں جنم لیتی ہیں جس میںبے حس ہونا،غیرت سے ہاتھ دھو بیٹھنا اور جب بھیک نہ ملے تو چوری کرناحکومت وقت کو چاہیے کہ مستحقین کو وظیفہ دیں اور پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف سخت کروائی کریں تاکہ اس برائی سے ہمارا ملک پاک ہوسکے حکومت نے کئی بارگداگروں کے خلاف کریک ڈائون کیا ہے مگرمیں یہ کہنا چاہتا ہوں گداگروں کے خلاف کریک ڈائون ضرورہومگرغربت کے خلاف بھی کریک ڈائون ضروری ہے۔میں نے گداگری پربہت سے مضامین لکھے اورآپ نے کئی کالم نگاروں کے پڑھے بھی ہوں گے مگراس کروناکے دورمیں جب ہرکسی کو اس وباسے بچنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں توان گداگروں کیلئے کیوں نہیں کیے جاسکتے یہ بھی توہمارے ملک کے لوگ ہیں جن میں مسلم غیرمسلم شامل ہیں محترم قارئین جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ تہذیب سے عاری گداگرہماری طرف لپکتے ہیں جوکہ کروناکابڑاسبب ہے کیونکہ نہیں پتاہوتاوہ کس کس کے ہاتھ سے پہلے کچھ لے آئے ہیں ۔بظاہرتولگتاہے کہ گداگربھیک لے رہے ہیں مگرراقم کولگتاہے کہ یہ لوگ کرونابانٹ رہے ہیں کئی بھکاری ہیں جوبیماری کابہانہ بناتے ہیں حالانکہ حکومت نے صحت کارڈ مہیاکردیے ہیں جس سے وہ ہسپتال سے دس لاکھ تک کا علاج کرواسکتے ہیں مگرگداگروں کی عادت ہے بھیک مانگناوہ یہ چھوڑ ہی نہیں سکتے غربت مفلسی بے روزگاری توہمارامقدربن چکی ہے مگرحکومت نے بھی انکو بے یارومددگارچھوڑدیاجوکہ کرونا کے بڑھتے کیسز میں شدت کاباعث بن رہاہے اس لیے حکومت کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناہوگاتاکہ پاکستان مستقبل میں کرونافری ہوسکے۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: