Ghulam Murtaza Bajwa Today's Columns

تھیلیسیمیا یا خرابی خون سے آگاہی ہماری ذمہ داری از غلام مرتضیٰ باجوہ ( ایوان اقتدارسے )

Ghulam Murtaza Bajwa

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تھیلیسیمیا کی بیماری سے آگاہی کا عالمی دن8مئی کو منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا مقصد تھیلیسیمیا کی بیماری کی روک تھام کے متعلق عوامی شعور اجاگر کرنا ہے اس دن کے حوالے تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جس سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین صحت تھیلیسیمیا کی بیماری اور اس کی پیچیدگیوں کے متعلق آگاہی دیں گے ۔آغاز میں تھیلیسیمیا ایک خطے کی بیماری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ یہ جنوب یورپ میں پرتگال سے اسپین، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ روس کے کچھ علاقوں میں بھی موجود ہے۔ وسطی ایشیا میں یہ ایران، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور شمالی چین کے علاوہ افریقہ کے جنوبی ساحل اور جنوبی امریکہ میں بھی موجود ہے۔ اٹلی، یونان اور سائپرس جیسے ممالک نے کامیاب قومی روک تھام کے منصوبوں سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ تھیلیسیمیا میجر پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میںتھیلیسیمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1.20لاکھ تک ہے اور ان میں سے سالانہ 4 سے 5 ہزار مریضوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق اس بیماری کی وجوہات کزن میرج اور موروثی ہیں۔اگر اسمبلیوں میں قانون سازی کی جائے توان بچوں کو تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آسانی سے سمجھ میں آنے والا جائزہ جس میں خون کی خرابی یا بے ترتیبی کی وجوہات ، علامات اور علاج کے بارے میں بتاتا ہے جسکی وجہ جننیات کی خرابی ہوتی ہے،جو خون میں ہیموگلوبین کی پیداوار کو کنٹرول کرتی ہیں۔تھلیسمیا کی بیماری کیا ہے؟۔تھیلیسیمیا خون کی بیماریوں کا مجموعہ ہے جو کہ بے قائدہ ہیموگلوبین کی پیداوارکی وجہ سے بنتا ہے۔ہیموگلوبین ایسی پرو ٹین ہے جو کہ سرخ جرثوموں میں پائِ جاتی ہے جو جسم کے لئے آکسیجن لانے کا کام کرتے ہیں۔ِ تھیلیسیمیا مورثی انیمیا بھی ہو تاہے۔ یہ بیماری مشرق وسطی، افریقہ یا ایشیا میں پائی جاتی ہے۔ تھیلیسمیا کی بہت سی اقسام ہیں۔ یہ علامات کے بغیر سے لیکر مہلک حد تک ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو بہت معمولی تھلیسمیاہے تو اس کا مطلب یہ آپ بیماری کو اٹھائے ہوئے ہیں اور آپ کے ریڈ خونی ذرات نارمل سے چھوٹے ہیں۔ لیکن آپ تندرست ہیں۔تھیلسمیا میجر مہلک بھی ہو سکتا ہے۔ آیسے لوگ جن کو ایلفا تھیلسمیا میجر ہوتا ہے وہ بچپن میں ہی وفات پا جا تے ہیں ۔ بیٹا تھیلسمیا میں خون بدلواتے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تھیلسمیا کی دوسری اقسام بھی ہیں جو کی زیادہ شدید نہیں ہوتیں۔
تھلسمیا میجر کی علامات نومولودی سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ علامات انیمیا کے مریضوں جیسی ہی ہوتی ہیں جیسے کہ’’جلد کا زرد ہونا،تھکاوٹ،کمزوری،سانس لینے میں دشواری ‘‘ اسکے علاوہ دوسری علامات بھی ہو سکتی ہیں۔’’چڑچڑا پن،یرقان،بڑہوتری میں کمی،پیٹ کا غیر معمولی بڑھنا،چہرے کی ہڈی کا ٹیرا پن،گہرے رنگ کا پیشاب،وجوہات ودیگر شامل ہیں۔خون میں بے ترتیبی کی وجہ جین کی خرابی ہوتی ہے جو کہ ہیموگلوبن کی پیداوار کو کنٹرول کرتی ہے۔ بچے اس جین کو ایک یا دونوں والدین سے وراثت میں لیتے ہیں۔ اگر بچہ دونوں والدین سے خراب جین لیتا ہے تو اسے میجر تھیلیسمیا ہوتاہے۔ اگر دو میں سے ایک والدین سے لیتا ہے تو اسے تھیلسمیا مائنرہوتا ہے۔تب یہ بچہ خراب جین کا کیرئیر ہوتا ہے۔
کسی مرد اور عورت کیلئے کروموسوم ڈسٹری بیوشن چارٹ دونوں کے ایک کروموسوم میں بے ٹا تھیلسیمیا جین ہے۔اس مثال میں دونوں والدین بیٹا تھیلسمیا کے کیریرہوتے ہیں۔ انہیں خون کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے بچے ایک، دو یا تین کاپیاں وراثت میں لے سکتے ہیں۔اگر بچہ وراثت میں اس جین کی ایک کاپی لیتا ہے تو وہ اپنے ماں باپ کی طرح کا کیریر بنتا ہے۔ اگر بچہ دو کاپیاں وراثت میں لیتا ہے تو وہ بیٹا تھیلسمیا کی بیماری لیتاہے ۔آپ نے اپنے بچے میں اس بیماری کی جو بھی علامات اور نشان دیکھے ہیں ، انہیں اپنے ڈاکٹر کو بتائے۔ خون کے ٹیسٹ کے بعدہی بیماری کی تشخص ہو سکتی ہے۔
’’ تھیلسمیا مائینر‘‘ کیلئے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہوتی،جب کہ’’تھلسمیا میجر‘‘کو ہر ماہ خون بدلوانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جسکی وجہ سے خون میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور اس سے جگر کے خراب ہونے کا خطرہ ہو جاتا ہے۔ اس نقصان کو دور کرنے کے لئے دوائیاں دی جاتی ہیں جس سے آئرن کی زیادتی میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔جن لوگوں کوکسی قسم کا بھی تھیلسمیاہے انہیں جننیاتی کونسلینگ کی ضرورت ہے۔ پیدائش سے قبل کے ٹیسٹ بھی کرائے جا سکتے ہیں۔خرابی خون کی بیماری میں مبتلا بچے کو پتے میں پتھرہو سکتے ہیں۔ بڑھوتڑی میں کمی ہو سکتی ہے ، اگر اس بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو دل کا فیل ہو جانا یا انفیکشن ہو جانا ،موت کی وجہ بن سکتا ہے۔ جب علاج شروع ہوتا ہے توسب سے بڑی پیچیدگی خون میں زیادہ آئرن کا ہوناہے۔آگر آپکے بچے میں خون کی کمی کی علامات پائی جاتی ہیں تو فوری بچے کے ڈاکٹر سے رابط قائم کریں۔ اگر آپکے خاندان میں تھیلسمیا کی بیماری کی ہسٹری ہے تو آپ کے لیئے اپنا خون کا ٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اٹلی، یونان اور سائپرس جیسے ممالک جیسی کوشش کرنا چاہئے ۔ آنے والی نسلوں کی حفاطت کے لئے انسداد تھیلسمیاکا جہاد کرنا ہوگا ۔یہ ہم سب کی قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

٭…٭…٭

About the author

Ghulam Murtaza Bajwa

Ghulam Murtaza Bajwa

Leave a Comment

%d bloggers like this: