Assia Muneer Hashmi Today's Columns

شب قدر اور ہماری خوش نصیبی از آسیہ منیر ہاشمی ( ذرا سوچئے )

Assia Muneer Hashmi
Written by Todays Column

”شب قدر ”کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ یہ وہ رات ہے جس میں تقدیروں کے فیصلے کر دیے جاتے ہیں ۔ یہ معمولی رات نہیں ہے بلکہ قسمت کے بنانے اور بگاڑنے کی رات ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ یہ بڑی قدر و منزلت اور عظمت والی رات ہے۔ شب قدر کی اہمیت اور قدر و منزلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس رات قرآن مجید کا نزول ہوا یہ وہ رات ہے جس میں قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔ جس کا ایک ایک حرف نیکیوں کی سند لیے ہوئے ہے۔ جس میں انسان کی فلاح ہے۔ انسان کی نجات ہے۔ انسان کی زندگی کی کامیابی ہے۔ جو سراسر ہدایت ہے۔ جس پر عمل کر کے انسان دنیا و آخرت میں سعادت حاصل کر سکتا ہے جس میں غم کی حالت میں صبر کی تلقین ہے اور صبر کی حالت میں خوشی کی نوید ہے اس بابرکت رات میں قرآن مجید کا اللہ کی طرف سے بنی نوع انسان کو تحفہ ملا۔اس رات فرشتے اور جبرئیل علیہ السلام اللہ کے اذن سے ہر حکم لے کر زمین پر اترتے ہیں اور پر نور فرشتوں کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ زمین تنگ ہونے لگتی ہے۔بیشک شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہاں پر ہزار کا لفظ کثیر تعداد کا تصور دلانے کے لئے استعمال ہوا ہے اس رات میں ادا کیے جانے والے نوافل ہزار مہینوں میں ادا کیے جانے والے نوافل سے بڑھ کر ثواب کے حامل ہوتے ہیں۔ اس رات دیے جانے والا صدقہ و خیرات ہزار راتوں میں دیے جانے والے صدقہ و خیرات سے بڑھ کر اہمیت کے حامل ہیں اس رات کی جانے والی نیکی کا اجر ہزار مہینوں میں کی جانے والی نیکیوں سے بڑھ کر ہے اور بالکل اسی طرح برائیوں کا بھی صلہ گناہ کے مترادف سزا کی صورت میں ہزار گنا ہوگا۔ اس رات نہ کوئی اچھائی بغیر جزا کے گزرے گی نہ کوئی برائی بنا سزا کے رہے گی۔ یہ شام سے لے کر صبح تک سراسر بھلائی اور خیر کی رات ہے ۔یہ آنکھوں کو سرور اور دل کو ٹھنڈک پہنچانے والی رات ہے اس رات اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہم اپنی خالی جھولیاں بھر سکتے ہیں اللہ کی رضامندی اور خوشنودی سے اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں۔ یہ مغفرت اور بخشش کی رات ہے بے شک ہم میں سے خوش نصیب ہے” وہ” جو اس رات کو پا گیا۔ اگر زندگی میں کوئی گناہ شعوری و لاشعوری طور پر سرزد ہوگئے ہیں تو رو رو کر اللہ سے معافی مانگ سکتے ہیں اپنی توبہ کے آنسوؤں سے اللہ کو راضی کر سکتے ہیں زندگی میں بعض گناہ تو ایسے ہوتے جن کا احساس ہو جاتا ہے مگر شیطان کے بہکاوے میں آکر ہم معافی سے اجتناب کرتے ہیں اور کچھ تو ایسے چھوٹے چھوٹے گناہ سرزد ہو جاتے ہیں جن کا اندازہ بھی نہیں ہوتا مگر اللہ کی نظر سے وہ پوشیدہ نہیں ہوتے اس عظیم رات کی برکت سے اللہ اپنے بندوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ توبہ کے ذریعے اپنی بخشش کروا لیں۔ اور صدق دل سے آنے والی زندگی میں گمراہی کو چھوڑ کر نیکی اور بھلائی کا راستہ چن لیں۔ماضی میں اللہ کی جن نا پسندیدہ باتوں کو اپنا لیا تھا اور جو اللہ کی قابل مذمت چیزوں کی طرف راغب ہوئے ان سے تاحیات دور رہنے کا وعدہ کریں اللہ کے سامنے گڑگڑا کر التجا کریں کہ ہمیں آخری سانس تک اپنی نافرمانی سے بچائے ہر اس عمل سے محفوظ رکھے جو یوم حساب باعث عذاب ہو۔ جب توبہ مل جاتی ہے تو دعا قبول ہونے لگتی ہے۔ اس رات کی یہ بھی بڑی فضیلت ہے کہ اللہ ہر جائز دعا کو قبولیت بخشتا ہے اللہ ہماری تقدیر کو ہماری خواہش کے مطابق بدل سکتا ہے۔ بس اللہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ اس کے بندے اس کی طرف راغب تو ہوں۔ اسے پکاریں تو سہی وہ بابرکت رات کی فضیلت کے طفیل اپنے بندے کی ہر بات مان جاتا ہے۔ان طاق راتوں کا ایک ایک لمحہ دعا اور توبہ میں صرف کریں۔بے اولادوں کو اولاد بیماروں کو شفاء بیروزگاروں کو رزق طالبعلموں کو علم بے گھروں کو اپنا ٹھکانہ قرض داروں کو قرض سے خلاصی لڑائی جھگڑوں میں الجھے ہوؤں کے بیچ میں صلح پردیس میں مختلف مسائل کا شکار لوگوں کے مسائل کا حل الغرض جس کی جو طلب ہو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات عنایت کر دیتی ہے۔ اپنے لیے دعا کے ساتھ اپنے تمام مسلمان بہن بھائیوں کے لیے بھی دعا کا اہتمام کریں۔ ایک مسلمان کی زندگی میں اس سے بڑھ کر خوشی و خوش نصیبی اور کیا ہو گی کہ اس کی زندگی کی سانسوں نے اتنی مہلت دی کہ یہ بابرکت رات اسے حاصل ہوئی زندگی کی سانسوں کی ڈوری نجانے آنے والے سال میں اس بابرکت رات سے پہلے ٹوٹ نہ جائے تو اس سال میں بجائے اور کسی سمت میں جا کر یا سو کر بے مقصد گزارنے سے بہتر ہے کہ اس رات کے نور سے فیضیاب ہوا جائے نجانے کس لمحے اللہ تعالیٰ ہمارے مقدر کا رخ ہماری مرضی کے مطابق پھیر دے۔ یہ رات صرف خیر اور بھلائی سے بھرپور ہے فساد و شر کا دخل نہیں ہوتا شیطان کا شکنجہ اور کس دیا جاتا ہے یہ وہ مبارک رات ہوتی ہے جس میں ہر معاملے کی حکیمانہ فیصلہ سازی کر دی جاتی ہے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی کوئی سے ایک طاق رات کو یہ مبارک رات نصیب ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رات ہم سب کے لیے نایاب اور خوبصورت تحفہ ہے ہر طرف نور بکھرا ہوتا ہے یہ اب ہم سب کی خوش بختی کہ جتنا ہو سکے اس نور سے اپنی زندگی کو منور کر لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ غافل لوگوں کی فہرست میں شامل ہو کر بے فکری کی نیند کے مزے لیتے رہیں اور ہمیشہ کے لیے اپنی قسمت کو سلا دیں پورے سال کے گناہوں کے کفارا کی رات ہے اسکی اہمیت اور فضیلت کو سمجھیں اور اس کی قدر کریں

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: