Bagam Najia Shoaib Ahmed Today's Columns

حجت نہ پیش کیجیے کوئی فضول میں ہم انتہا پسند ہیں عشقِ رسولﷺ میں از بیگم ناجیہ شعیب احمد

Bagam Najia Shoaib Ahmed
Written by Todays Column

فرانسیسی پروڈکٹ کا قلع قمع کرنے کے لیے متحد ہونے والے غیرت مند مسلمانو!
بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ قادیانی کتنی آسانی کے ساتھ ہمارا رمضان برباد کر رہے ہیں۔
سادہ، لاعلم اور ناخواندہ مسلمانوں کے ایمان کو برباد کرنے کے لیے تمام مشہور و معروف سپر اسٹورز پر کتنی آسانی کے ساتھ قادیانی مصنوعات شیزان، ثمرقند، canolive، All pure باآسانی دستیاب ہیں اور بے چارے لاعلم و نادان مسلمان انہیں اپنے گھروں میں لا کر اپنا رمضان و عاقبت خراب کر رہے ہیں۔ ہائے روزِ محشر کیا منہ دکھائیں گے ہم اپنے پیارے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو۔
یہ حال صرف نامی گرامی سپر اسٹورز کا نہیں ان کے علاؤہ دیگر علاقوں میں واقع چھوٹے چھوٹے جنرل اسٹورز، میڈیکل اسٹورزحتی کہ عام سے ڈھابوں، چائے خانوں، ہوٹلوں میں بھی قادیانی پروڈکٹس بطورِ خاص مشروبات موجود ہیں۔
راقم الحروف نے بذاتِ خود بحیثیت صنف نازک کئی جگہ شیزان قایادنی مصنوعات کے متعلق دکان داروں کو آگاہی دی۔ مگر کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ اپنے آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺ کا دل دُکھانے کی پروا کیے بغیر دکانداروں پر بس اپنا مال فروخت کرنے کی فکر سوار ہے۔ کہتے ہیں ہم نے سب سامان کی طرح اسے (قادیانی مصنوعات) کو بھی رکھا ہوا ہے ہم کسی کو زبردستی خریدنے پر مجبور تو نہیں کرتے لوگ اپنی مرضی سے یہاں سے لے کر جاتے ہیں۔ ارے بھائی انہیں کوئی یہ بھی تو سمجھائے کہ بالفرض آپ کا مسلمان بھائی آپ کے سامنے ٹرین کے نیچے لیٹ کر خود کشی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو کیا آپ اسے خودکشی کرنے سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کریں گے نا؟؟؟یا آرام سے بیٹھ کر اس کے پرخچے اڑنے کا نظارہ موبائل فون پر محفوظ کریں گے؟ یہ سوچ کر بھی یقیناً آپ کو جھرجھری سی آ گئی ہوگی۔ اللہ کے نیک بندو! جانتے بوجھتے ہوئے بھی آنکھوں دیکھی مکھی نگل رہے ہو؟ دنیا کے ڈر سے ذرا دیکھو تو سہی یہ دشمن تم پر کیسے کھل کر وار کر رہا ہے۔
شہر کے تقریباً سبھی بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی تمام برانچز نارتھ کراچی،حیدری، گلشنِ اقبال وغیرہ میں قادیانی پروڈکٹ کی موجودگی کسی بھی غیرت مند مسلمان کا کلیجہ پھاڑ ڈالنے کے لیے کافی ہے۔ مذید یہ کہ وہاں نوجوان لڑکیوں کو انتہائی چست لباس پہنا کر کھڑا کر کے مسلمان مردوں کو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ سب باقاعدہ طور پر ایک منظم و مرتب سازش کے تحت کیا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کے تقریباً ہر طبقے کے لوگوں پر سپر اسٹورز میں جا کر خریداری کرنے کا خبط سوار ہے۔ ان سپر اسٹورز پر اشیائے خوردونوش سے لیکر ضروریاتِ زندگی کا سارا سازو سامان موجود ہوتا ہے۔ سال کے بارہ ماہ یہاں لوگوں کی آمد و رفت لگی رہتی ہے۔ ”ہر طرح” کی سہولیات باہم فراہم کرنے کی وجہ سے ”ہر طرح” کے لوگ ان سپر اسٹورز میں آتے جاتے رہتے ہیں وہاں جا کر نظریں سنیکتے ہوئے اپنا مال لٹانے کے ساتھ اپنی شرم وحیاء اور ایمانی حلاوت کی دولت بھی وہیں کہیں گرا پڑا آتے ہیں۔
رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہمارا ایک مشہور department store جانا ہوا۔ بے اختیار آہ نکل گئی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان سلطنتِ خداداد کے آزاد باشندے کیسے غیروں کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہیں۔ بے چارے سادہ لوح لاعلم عوام۔
اس اسٹور کے شروع کے سبھی شعبوں میں دو، تین نوجوان لڑکیاں سر پر حجاب اوڑھے ہوئے، انتہائی
چست و بیباک لباس زیبِ تن کیے، معصوم چہروں پر میک اپ تھوپے زبردستی کی مسکراہٹ چسپاں کر کے پیکرِ شرم و حیاء یہ حوا کی بیٹیاں، قادیانی اشیائے خوردونوش فروخت کرنے پر مامور کی گئیں ہیں۔ یہ بے باکی اور بے حیائی دل کو چیرے جا رہی تھی کہ میں اس وقت دکھ اور صدمے سے نڈھال ہو کر رہ گئی جب ان بچیوں کے سینوں پر شیزان کا بیج لگا دیکھا۔ بہت محتاط انداز میں ایک لڑکی کو اکیلا دیکھ کر آگے بڑھی۔
کیچپ چٹنی اچار کی قادیانی مصنوعات کے ریک کے پاس کھڑی لڑکی کے چست و بیباک لباس اور مغربی وضع قطع سے نظریں چرا کر میں نے آہستگی سے بہت رقت آمیز لہجے میں پوچھا: ”آپ مسلمان ہیں؟”
اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے ایک آہ بھر کر اس کے سینے پر لگے شیزان کے بیج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”پیاری! آپ لاعلمی میں اپنے پیارے محبوب نبی محمّد مصطفیٰ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو سپورٹ کر رہی ہیں ان کی نمائندگی کرکے اپنے آقاﷺ کا دل دکھا رہی ہیں۔ یہ لوگ ہمارے نبی محمدﷺ کی ختمِ نبوت کے منکر ہیں۔ گستاخ ہیں زندیق ہیں۔
یہ اگر سچے دل سے معافی نہیں مانگتے تو روئے زمین پر ان سے برا اور بدبخت کوئی نہیں ہے۔ ان کا ساتھ دینے والے بدنصیب آخر الزماں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ کی شفاعت سے محروم رہیں گے۔ کیا آپ بھی یہ بیج لگا کر قادیانیوں کی نمائندگی کر کے اپنے آخری نبی محمدﷺ کی شفاعت سے محروم ہونا چاہتی ہیں؟
اس نے بڑے تحمل سے مسکراتے ہوئے میری پوری بات سنی۔ اس کے میک زدہ چہرے پر شرمندگی یا ندامت کا رتی بھر تاثر نہیں ابھرا تھا۔ مگر میرا درد بھرا لہجہ اس کے قلب و جگر پر ایک ضربِ کاری لگانے میں کامیاب ہوگیا ہو شاید۔۔ ایسی ہی ایک ضرب بحیثیتِ محمدی آپ بھی لگا سکتے ہیں۔ خود کو کمزور اور بے بس سمجھنا چھوڑ دیں۔ یاد رہے ایک حقیر چیونٹی، ہاتھی جیسے دیوہیکل جانور کی سونڈ میں گھس کر اسے بے حال کر
سکتی ہے..!
ہم آپ سب مل کر ایک ہو جائیں اور طاغوتی و باطل طاقوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اپنے گھر، علاقے، شہر اور ملک کے کونے کونے سے ان ظالموں کی پروڈکٹ نکال باہر کریں۔ ذرا سی ہمت اور بہادری کی ضرورت ہے۔
آئیے آقا کا دل دکھانے والوں کے کلیجے پھاڑ دیں۔
حُبِ نبیﷺ کی شمع دلوں میں جلائے جا
مثلِ پروانہ بن جانیں اپنی لٹائے جا
٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: