Prof Shamshad Akhtar Today's Columns

شب قدر میں پوشیدہ حکمتیں از پروفیسر شمشاد اختر ( پیغام فکر )

Prof Shamshad Akhtar

عمل و ریاضت کا شوق رکھنے والوں ے لئے شب قدر خاص اہمیت و کشش رکھتی ہے کیونکہ اس میں انتہائی مختصر وقت میں حیرت انگیزحد تک زیادہ سے زیادہ رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا موقع فراہم ہوتا ہے ۔ صحابہ ؓ عمل کے شوقین تھے ، ایک دفعہ ان کے محبوب مکرم ﷺ نے بتایا : گذشتہ امتوںکے لوگ طویل ترین عمروں کے مالک ہوتے تھے، ان میں سے بعض اپنی ساری عمر عبادت و اطاعت میں کھپا دیتے تھے۔ صحابہ ؓ نے یہ سن کر عرض کی : ’’ ہماری عمریں تو مختصر ترین ہوتی ہیں ہم کتنی بھی محنت کریں ، عمل میں ان خوش قسمت افراد کی برابری نہیں کر سکتے عمر کی طوالت ان کو ہم پر فوقیت بخش دے گی ۔‘‘ چونکہ اصحاب ِ عزیمت و ہمت تھے، خود کو میدان عمل میں بے بس پا کرافسردہ خاطر ہوئے اور اپنی بے بسی اور ساتھ ہی اطاعت و عبادت کے لئے اپنی رغبت کا اظہار کیا۔قدرت ربانی نے ان کے خلوص و ذوق کوپذیرائی بخشی اور سورہ القدر نازل فرما کر بتایا ۔
شب قدر کی ایک رات کی عبادت ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے ۔ طلوع فجر تک اس میں انوار و ملائک کا نزول ہوتا رہتا ہے ۔ یہ خوشخبری سن کر ان کی رگوں میں مسرت کی لہر کے ساتھ جذبہ عمل کی بجلیاں بھی دوڑ گئیں اور شب قدر کے تعین کے بارے میں استفسار فرمایا : اگر محنت و مشقت پر ابھارنا اور ان کی قوت عمل کو بیدار کرنا مقصود نہ ہوتا تو بتا دیا جاتا، فلاں تاریخ کو شب وقدر ہوتی ہے ، مگر جذبہ مہمیز لگانے کے لئے وہ طریقہ اختیار کیا جس میں مایوسی بھی نہیں اور ہر طبقہ کا شوق بھی برابر رہتا ہے مثلاََ یہ کہہ دیا جاتاکہ سارا سال عبادت کر کے شب قدر تلاش کرو تو اکثریت کی ہمتیں پست ہو جاتیں، اس لئے اس پست ہمتی اور مایوسی سے بچانے کے لئے بتا دیا کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہے ،کچھ لوگ ہی اتنے بلند ہمت ہوتے ہیں جو مسلسل دس راتیں بھی جاگنے کے لئے تیار ہوں ، اس لئے پانچ راتیں مخصوص فرما دیں کہ وہ آخری عشرے کی طاق راتیں ہیں ۔کچھ لوگ پانچ راتیں جا گنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کر سکتے تھے، انہیں ستائیسویں شب کو جاگنے کا مشورہ دیا ۔
اس پردہ پوشی سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ہر طبقہ کے افراد کو ان کے درجہ کے مطابق عمل و فعل پر ابھارنا مقصود ہے کہ جتنا کسی سے ہو سکے، ضرور جاگ کر اپنے مالک کی رحمت سے جھولیاں بھرنے کی کوشش کرے اور عمل سے دست کش ہو کر نہ بیٹھ جائے ، چنانچہ حضرت ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے : ’’ وہ رمضان کی ستائیسویں شب ہے ، لیکن تمہیں اس لئے خبر نہ دی کہ بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائو ۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ بتانے کے لئے تشریف بھی لائے مگر وہ دو شخصوں کو جھگڑتا دیکھ کر واپس تشریف لے گئے، گویا قدرت کو بھی منظور نہ تھا کہ عام لوگوں میں عمل و تجسس اور جدو جہدکاجذبہ قائم رہے۔ امام شافعی ؒ فرماتے ہیں ، حدیث پاک میں جو یہ آتا ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر ڈھونڈو غالباََ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ ؓ کرام اس طرح پو چھتے تھے : یا رسول اللہ ﷺ اکیسویں شب میں تلا ش کریں ؟ آپ ﷺ
فرما دیتے : ہاں ۔ دوسرا ستائیسویں کی یقین دہانی کرا لیتا ، اسی طرح پچیسویں ، ستائیسویں اور انتیسویں کے بارے میں پو چھتے اور آپ سب کو وہی جواب دیتے کیونکہ آپ کی عادت مبارکہ تھی ۔ ’’ جیسا سوال ہوتا ، ویسا ہی جواب دیا کرتے تھے۔ پوچھا جاتا ، فلاں رات میں تلاش کرو؟ آپ فرماتے: ہاں فلاں رات میں تلاش کرو‘‘۔ شب قدر کی واضح تعیین تو نہ فرمائی گئی مگر ترغیب و شوق کے لئے اس کے بے شمار فضائل بیان فرما دیئے ، دیلمی کی روایت ہے: ’’ بے شک اللہ تعالی نے صرف میری امت کو شب قدر دی ہے اور جو لوگ گزر گئے ان کو نہیں دی ‘‘۔ طبرانی کی روایت ہے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر تلاش کرو۔’’ جس نے ایمان و یقین کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس میں قیام کیا اس کے گذشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔‘‘حضرت عائشہ ؓ نے پو چھا : میں اس رات میں کیا دعا کروں ؟ فرمایا : پڑھو ( اللّھم انّک عفوُّ تحبُّ العفو فاعف عنّی) ’’ اے اللہ تو معاف فرمانے والا ہے ، عفو و درگزر کو پسند فرماتا ہے ، مجھے معاف فرما دے ‘‘۔
اس عشرے کی ایک خاص عبادت صدقہ فطر بھی ہے ، جو ہر صاحب حیثیت مسلمان پرتقریباََ دو سیر گندم یا اس کی قیمت ، کے حساب سے واجب ہے، اس کی ادائیگی نماز عید سے پہلے ہونی چا ہئے تاکہ غربا ء نادار اپنی ضروریات زندگی کی چیزیں خرید کر عید کی خوشیوں میں دوسروں کے ساتھ شریک ہو سکیں ۔
صدقہ فطر کی فرضیت کی حکمت کو بیان کرتے ہوئے آقا ﷺ نے فرمایا : ’’ رازہ دار سے جو لغویات اور فضول حرکتیں سر زد ہو تی ہیں ۔ فطرانہ اس سے روزوں کی تطہیر کرتا ہے اور مساکین کی خوراک کا ذریعہ ہے ، جو شخص نماز عید سے پہلے ادا کر دے اس کی طرف سے یہ قبول کر لیا جاتا ہے مگر جو نماز کے بعد ادا کرے، اسے عام دئیے جانے والے صدقہ کا ثواب ملتا ہے ، فطرانہ کا نہیں ( اور اسکی اہمیت یہ ہے کہ ) روزے زمین و آسمان کے درمیان معلق رہتے ہیں جب تک فطرانہ کی ادائیگی نہ ہو ‘‘۔لہذا دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ان مبار ک ساعتوں میں زیادہ سے زیادہ فیوضات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
٭…٭…٭

About the author

Prof Shamshad Akhtar

Prof Shamshad Akhtar

Leave a Comment

%d bloggers like this: