Khalid Khan Today's Columns

اہم منصوبہ متنازعہ کیوں از خالد خان ( لب دریا )

Khalid Khan
Written by Todays Column

دشنام طرازی،ایک دوسرے کی عزت اچھالنا،گالی گلوچ،قانون کو گھر کی لونڈی بنانا،فریب دے کرووٹ بٹورنا،منصب کا ناجائز استعمال اور جھوٹے وعدے کرنا سیاست نہیں ہے لیکن ان خرافات کو سیاست کا حصہ بنایا گیا ہے ۔سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ملکی تدبیر وانتظام۔یونان میں ریاست کوPolis کہتے تھے اور ان کے معاملات کو politike کہا جاتا تھا ۔انگریزی میںاس کو Politics کہا جانے لگا اور ریاست کے معاملات چلانے والے کوPolitician کانام دیا گیا ۔سیاست ملکی تدبیر و انتظام کانام ہے لیکن وطن عزیز پاکستان میںاہم ترقیاتی منصوبوں کو متنازعہ بنانے پر سیاست کی دکانیں چمکائی جاتی ہیں۔وطن عزیز پاکستان میں روز بروز پانی کی قلت میں اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد اور مضافاتی علاقہ جات میں پانی کی کمی کا سامنا ہے ۔اسی طرح پاکستان کادل لاہور کا پانی آلودہ ہورہا ہے اور ہر سال پانی کا لیول چار پانچ فٹ نیچے جارہا ہے ۔کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے لیکن لوگوں کوپینے کا پانی کا مسئلہ شدت سے درپیش ہے۔وطن عزیز پاکستان کے دیگر شہروں کے حالات مختلف نہیں ہیں۔ پاکستان میں موسم سرما میں فصلوں کیلئے پانی نایاب ہوتا ہے لیکن ہر سال تقریباً ایک کروڑ23لاکھ ایکڑ فٹ میٹھاپانی سمندر کی نذر ہورہا ہے۔بھارت پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو بھاری رشوت دے کر اس منصوبے کو ناکام بنانے کی سعی کررہا ہے اور وہ اپنے اس مقصد میںبڑی حد تک کامیاب بھی ہوچکا ہے۔اس سے سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے اثاثوں میں اضافہ ہورہا ہے لیکن وطن عزیز پاکستان اور عوام کا ناقابل بیان نقصان ہورہا ہے۔اس اہم آبی منصوبے پرعوام کو دھوکا دیا جارہا ہے اور ان کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے کالاباغ ڈیم بنانے کی سب سے پہلی تجویز دی تھی۔انھوں نے متعلقہ محکمہ کو1948ء میںکالاباغ کے مقام پر دریائے سندھ پر ہائیڈرو پراجیکٹ پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی مگر ان کی وفات کے بعد ان کے احکامات کو نظر انداز کردیا گیا۔اس پر باقاعدہ کام 1953ء میں شروع ہوا تو اس پر کسی کو اعتراض نہ تھا۔اس منصوبے پر 1985ء میںجب عمل درآمد شروع ہوا توبعض افراد نے مخالفت شروع کی۔16مارچ1991ء میں میاں نواز شریف کی حکومت میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ پانی تقسیم معاہدہ کے فارمولے پر متفق ہوئے اور کالاباغ ڈیم کیلئے گرین سگنل دے دیا گیا۔اس معائدے میں صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں اور ان کے وزیرخزانہ شاہ محمود قریشی،صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ جام صادق علی اور ان کے وزیر قانون سیدمظفر شاہ،صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ میر افضل خان اور ان کے وزیرخزانہ محسن علی خان اور صوبہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر تاج محمد جمالی اور ان کے ہوم منسٹر ذوالفقار مکسی نے نمائندگی کے فرائض سرانجام دیے تھے۔21مارچ 1991ء کوپانی کی تقسیم کے اس معاہدہ کومشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں باقائدہ منظورکیا گیا۔پانی کی تقسیم اور کالاباغ ڈیم منصوبے کے بارے میں وزیراعلیٰ سرحد میر افضل خان نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے صوبہ سرحد کی اٹھارہ لاکھ ایکٹر اراضی آبپاشی کے ذریعے کاشت ہوتی تھی اور اب مزیدنو لاکھ ایکٹر اراضی سیراب ہوگی ۔ اس معاہدے پر اے این پی کے سربراہ خان عبدالولی خان نے کہا تھا کہ میں پانی کے معاہدے سے مکمل مطئمن ہوں۔صوبہ سندھ کے وزیراعلی جام صادق علی نے کہا تھا کہ اس معاہدے کی بدولت ہمیں مزید 4.5 ملین ایکٹر پانی ملے گا۔صوبہ بلوچستان کے وزیراعلی میر تاج محمد جمالی نے کہا تھا کہ پہلے ہم چھ لاکھ ایکٹر اراضی سیراب کررہے تھے اور اب معاہدے کی وجہ سے 16 لاکھ ایکٹر اراضی سیراب کریں گے۔بر طانوی صحافی ایلس الینیانے دریا سندھ کے آغاز سے اختتام دو ہزار میل کے کھٹن سفر کے تجربات و مشاہدات پر مبنی “ایمپائرز آف دی انڈس “کتاب میں کالاباغ ڈیم کا ذکر کیا اور اس میں کالاباغ ڈیم پر لگائے گئے اعتراضات کا تمسخر اڑایا۔ واپڈا کے چیئرمین اور سابق وزیراعلیٰ شمس الملک نے کالاباغ ڈیم کو ناگزیر قرار دیا ۔کالاباغ ڈیم کی اونچائی 915 فٹ رکھی گئی جبکہ قریب ترین شہر نوشہرہ کی بلندی ایک ہزار فٹ ہے۔ورلڈ بنک کے ماہر ڈیم ڈاکٹر پیٹرلیف نک اور عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر ساونج نے بھی کالاباغ ڈیم کو موزں ترین قرار دیا۔دنیا بھر کے ماہرین ڈیم نے باقاعدہ سروے اور تحقیق کے بعد کالاباغ ڈیم کی جگہ اور سائیٹ کوموزوں ترین قرار دیا ،اس ٹیم میں ورلڈ بنک کی نمائندگی ڈاکٹر پیٹرلیف نک نے کی تھی۔ کالاباغ ڈیم کا سپل وے پیندے سے پچاس فٹ نیچے ہے،اس لئے اس میںسلٹ جمع نہیں ہوگا اور ڈیم کی لائف لامحدود ہوگی۔کالاباغ ڈیم دیگر ڈیموں کی نسبت سب سے سستا اور قدرتی ڈیم ہے ، اس کے گردونواح میں پہاڑ ہیں اور فرنٹ سے گیٹ لگانے سے ڈیم بن جائے گا۔اس ڈیم سے پینتالیس سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔کالاباغ ڈیم سے بجلی انتہائی سستی یعنی ایک روپے فی یونٹ تک آجائے گی۔ کالاباغ ڈیم نہ بنانے سے صوبہ سندھ کا سالانہ30ارب روپے جبکہ صوبہ خیبر پختوانخواہ22ارب کا سالانہ نقصان ہورہا ہے۔کالاباغ ڈیم بروقت بن جاتا تو اب تک ایک کھرب ڈالر منافع کماچکے ہوتے۔کالاباغ ڈیم سے صوبہ سندھ کی آٹھ لاکھ ایکٹر ، صوبہ پنجاب چھ لاکھ ایکٹر ، صوبہ خیبر پختوانخواہ کی پانچ لاکھ ایکٹر اور صوبہ بلوچستان کی ساڑھے تین لاکھ ایکٹر بنجر زمین آباد ہوجائے گی۔کسانوں کو موسم سرما میں بھی وافرمقدار میں پانی ملے گا۔کالاباغ ڈیم سے وطن عزیزپاکستان میں سر سبز انقلاب بھرپاہوگا۔ہر سال سیلاب سے لاکھوں افراد اور لاکھوں ایکٹرزمین متاثر ہوتی ہے، کالاباغ ڈیم بننے سے سیلاب بالکل ختم ہوجائے گا۔ صرف سیلابی پانی سے ڈیم بھر جائے گا اور پھر پورا سال پانی کی وہی مقدار بہے گی ، جتنی اب بہہ رہی ہے۔کالاباغ ڈیم سے پانی ضائع نہیں ہوگا بلکہ وہی پانی صوبہ خیبر پختوانخواہ ، صوبہ پنجاب ، صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستا ن کے کسانوں کو ملے گا۔کالاباغ ڈیم سے پورے ملک کا فائدہ ہوگا لیکن سیاستدانوں نے اس مسئلے کو سیاسی بنا دیا ہے اوربد نام زمانہ بھارتی ایجنسی “را”کالاباغ ڈیم نامنظور پر سالانہ اربوں روپے خرچ کررہا ہے اور یہ رقوم کن لوگوں کے جیبوں میں جارہی ہے،پاکستانی عوام کواس پر سوچنا چاہیے۔ پڑوسی ملک بھارت4500ڈیم تعمیر کرچکا ہے جبکہ چین نے22ہزار ڈیم بنائے ہیں اور دنیا میں تقریباً46ہزار ڈیم بن چکے ہیں۔مستقبل میں جنگیں پانی کی وجہ سے لڑی جائیں گی اور پانی کی حقیقت کو کوئی بھی نظرانداز نہیں کرسکتا ہے۔کالاباغ ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے سالانہ 196 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے۔وزیراعظم پاکستان عمران خان اورچیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ بلاتاخیر کالاباغ ڈیم پر کام شروع کریں کیونکہ پاکستان کی بقا کیلئے پانی کی اشد ضرورت ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا کارنامہ مستقبل کیلئے زادہ راہ ثابت ہوسکتا ہے اور اس کے ساتھ بھارت کو نفسیاتی شکست سے دوچار کرسکتے ہیں۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: