Ali Jaan Today's Columns

جہنم سے آزادی ممکن ہے از علی جان ( مستقبل جاں )

Ali Jaan
Written by Ali Jaan

حضرت سلمان فارسی حضورنبی کریم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا چارچیزوں کی کثرت کیاکرودوباتیں ایسی ہیں جن تم اپنے رب کو راضی کرسکتے ہو پہلی ’’لاالٰہ الااللہ‘‘کی گواہی دینااوراستغفارکرتے رہنااوردوچیزیں ایسی ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہوسکتے پہلی تم اللہ سے جنت کا سوال کرواورجہنم سے پناہ مانگو(صحیح ابن خزیمہ) اللہ پاک نے خودتوبہ واستغفار کا حکم دیا ہے اوراوراسے قبول کرنے کاوعدہ بھی کیا ہے’’ اللہ پاک فرماتے ہیں:کہ میں سے بخش دینے والاہوں جوتوبہ کریں ،ایمان لائیں اورنیک اعمال کریں اورراہ راست پررہیں‘‘ اسی لیے شاید ہماری کوتاہیوں کے باوجود ہمیںرحمت،مغفرت کے بعدرمضان کاتیسراعشرہ بھی عطافرمایا۔ انسان خطا کا پتلا تو ہے مگراللہ پاک سدھرنے کا بار بار موقع بھی دیتے ہیں اسی لیے تو ہمیں تحفہ میں ماہ رمضان دیا یہ مہینہ تحفہ اس وجہ سے کیونکہ اس میں نفل اور سنت کا ثواب فرض کے برابر ہے اور فرض نماز کا ثواب سترگنا بڑھ جاتا ہے عشرہ رحمت میں ہم نے کچھ نمازیں چھوڑیں کچھ روزے چھوٹ گئے کیونکہ عادت نہیں تھی نہ ۔سارا سال کھاتے پیتے گزرجاتا ہے اس وجہ سے بھوک برداشت نہیں ہوتی مگراللہ پاک نے عشرہ رحمت کے بعدہمیں دوسراعشرہ مغفرت ملا لیکن اس میں عشرہ میں بھی ہم کوتاہیوں سے باز نہ آئے مگراللہ پاک نے ہمیں جہنم سے نجات نصیب فرما کرہم پراحسان کیا ہے اسی وجہ سے جو عبادات ہم پہلے عشرہ اوردوسرے عشرہ میں نہیں کرسکے وہ تیسرے عشرہ میں کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ کے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرکے کامیاب وکامران ہوسکیں ویسے توپورے ماہ رمضان ڈھیروں نیکیوں سے بھراہوا ہیمگرہم کوشش کریں کہ جہنم سے نجات حاصل کرسکیں توہمیں اس عشرہ میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرناہونگی۔عشرہ رحمت اورمغفرت میںہم سے جونماز روزہ وعبادت رہ گئی ہیں اس عشرہ میں کرنے کی کوشش کریں اورزیادہ سے زیادہ عبادات کریں ۔آج کل ہم لوگ سحری افطاری کے وقت یا توTVلگا کے کھانا کھاتے رہتے ہیں یا آپس میں گپیں لگانے میں وقت ضائع کردیتے ہیں حالانکہ سحروافطارکا وقت قبولیت کا ہوتا ہے اس وقت میں ہمیں اللہ پاک سے دعائیں مانگنی چاہیں ۔روزہ دار کی دعا کے متعلق ابن ماجہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ’’افطارکا وقت بندہ اپنے رب سے جو بھی دعا کرے گاوہ لوٹائی نہیں جاتی‘‘۔یہ مہینہ ہمیں پیارے نبی کریم ﷺکے صدقے ملا ہے تا کہ ہم نیکیاں کما کرجنت میں جاسکیں ۔حضرت موسی ؑنے اللہ پاک سے کلام کرتے ہوئے کہا کہ یا اللہ پاک میں آپ سے ہم کلا م ہوتا ہوں کیا مجھ سے بڑھ کربھی کوئی خوش نصیب ہوگا اس دنیا میں تو اللہ پاک نے جواب دیا اے موسی ؑ اس دنیا میں ایسی بھی امت آئے گی جس کے اور میرے درمیاں کوئی پردہ حائل نہ ہوگا تو حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کی یہ اللہ وہ کونسی امت ہوگی تو اللہ پاک نے فرمایا وہ محمدی ہونگے اور وہ جب ماہ رمضان میں میری خوشنودی کیلئے روزہ رکھیں گے اور افطار کے وقت سوکھے ہونٹ پیاس سے نڈھال ہوکردعامانگیں گے تب انکے اور میرے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا ان کے روزے کی وجہ سے اور مجھ سے بے پناہ محبت کی وجہ سے میں انکی دعا کورد نہ کرسکوں گا۔تمام تعریفیں اللہ پاک کیلئے جوتوبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول فرماتا ہے اورجو لوگ مغفرت طلب ہیں ان کی مغفرت قبول فرماتا ہے۔ہمیں اس مہینہ میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانی چاہیں اوراپنی مغفرت کروانی چاہیے کیونکہ ایک مرتبہ حضورنبی کریم منبرپرچڑہے اورہرسیڑھی پرآمین آمین آمین کہاجب آپﷺ خطبہ سے فارغ ہوئے توصحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہﷺ آپ نے تین بارآمین فرمایا اس کی وجہ توآپ ﷺ نے فرمایامیرے پاس جبرائیلؑ آئے تھے اورکہاجس نے اپنی زندگی مین والدین یاکسی ایک کوپایا اوراپنی مغفرت نہ کروائی تواللہ اسے اپنی رحمت سے دورکردے تواس لیے میں نے آمین کہاپھرجبرائیلؑ نے کہا جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آئے اوروہ اپنی مغفرت نہ کروائے تواللہ اسے بھی اپنی رحمت سے دورکرے تومیں نے کہاآمین پھرجبرائیلؑ نے کہاجب کسی کے سامنے آپ ﷺ کاذکرہواوروہ آپ پردورودسلام نہ بھیجے اللہ اسے بھی اپنی رحمت سے دورکرے(مسنداحمدوصحیح مسلم)ایک جگہ ارشاد ہے تباہ ہوجائے وہ شخص جس کی زندگی میںرمضان کا مہینہ آئے اوروہ اپنی مغفرت نہ کروائے ۔اللہ تعالیٰ نے روزے دار کے متعلق ارشاد فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجردوں گا ۔روزانہ اللہ پاک تین اعلان کرتے ہیں کہ کوئی ہے جو سچے دل سے توبہ کرے میں اس کی توبہ قبول کروں؟کوئی ہے مجھ سے مانگنے والا میں اسے عطا کروں؟کوئی ہے معافی مانگنے والا میں اسے معاف کروں؟ اسی لیے جتنے ہم نے گناہ کیے اس ماہ رمضان میںزیادہ سے زیادہ الٰھم اجرنا من النار ۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا تین لوگوں کی دعاردنہیں ہوتی ایک عادل بادشاہ کی دوسرا مظلوم اور تیسرا روزہ دار کی جب وہ افطاری کے وقت دعاکرتا ہے اللہ تعالٰی قبول فرماتے ہیں اس لیے رمضان کے پہلے روزے سے ہی شیاطین کوقید کرلیا جاتا ہے اور جنت کے دروزے کھول دیے جاتے ہیں اور آواز آتی ہے آئو جنت کے حقدار بن جائو اور بدی کو چھوڑکرنیکی کی طرف آئو اور جنت کے حقداربنواور آخرت کے دن روزہ دار کو آواز دی جائے گی کہ ان دروازوں سے گزر جائو کیونکہ تم نے اللہ کی خوشنودی اور اسے منانے کیلئے رکھے تھے تو تمہارا انعام جنت ہے اسی لیے ہمیں پیچھے مڑکردیکھنا چاہیے کہ ہم نے پہلا عشرہ میں کتنی عبادات کی ہیں ہمیں ایک بھی لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اللہ کو راضی کرنے کیلے رات دن ایک کردینی چاہیے کیونکہ اللہ تعالٰ فرماتے ہیں رجب میرا مہینہ ہے اور شعبان حضورنبی کریم ﷺ کا اور ماہ رمضان امت محمدی کا مہینہ ہے کیونکہ ہم روزہ رکھ کر اللہ کے قرب کو حاصل کرسکتے ہیں سورۃ بقرہ میں ارشاد ہے کہ جو مسلمان اس مہنے کو پائے وہ روزہ رکھے ۔حضور نبی کریم نے اس مہینہ میں چارچیزوں کو کثرت سے کرنے کوکہاپہلا کلمہ طیبہ دوسرااستغفارتیسراجنت کی طلب اور چوتھا جہنم سے پناہ اللہ پاک دوسراعشرہ میں ہمیں ہمت اور قوت دے کہ ہم اس عشرہ میں عبادات کرکے جنت کے مستحق ہوسکیںجیسا کہ میرے پیارے آقاحضرت محمدﷺ نے فرمایا’’جس نے رمضان کا قیام اللہ پرایمان لاتے ہوئے اوراسی سے اجروثواب کی امیدرکھتے ہوئے اس کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے‘‘۔

٭…٭…٭

About the author

Ali Jaan

Ali Jaan

Leave a Comment

%d bloggers like this: