Abida Hussain Today's Columns

شجاعتِ شیر خدا حضرت علی کرم اللہّٰ وجہہ از عابدہ حسین

Abida Hussain
Written by Todays Column

تاریخ اسلام کی بلند پایہ شخصیت، شجاعت کے علمبردار، حیدرکرار، باب العلم پیکرِحُسن کردار حضرت علی المرتضی رضی اللہّٰ عنہ جن کی زندگی سپوت ہے اسلام کا۔وہ شخصیت جس پر ناز کرتی ہے تاریخ اور میرے آقا کریم علیہ اسلام فرماتے ہیں علی مجھ سیہے اور میں علی سے ہوں۔ حضرت علی کرم اللہّٰ وجہہ 13 رجب جمعہ کے دن مکہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے آپ رضی اللہّٰ عنہ کی ولادت ایسی کے اس سے پہلے نہ کسی کی ہوئی نہ ہو گی یعنی آپ رضی اللہّٰ عنہ کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہو ئی آپ کے لیے پاک سرزمین منتخب کی گء اور پیغام سنایا گیا کہ یار نبی امام الولی تشریف لایا ہے۔ جس کی ہیبت اور رعب سے دشمن لرز اٹھا، جب علم کی بات ہوئی تو آسمان نے ناز کیا جب غزوات کی للکار ہوئی تو زمین فخر سے جھوم اٹھی اوراُس لعاب ِ پاک دہن کا ایسا رنگ چڑھا کے شیر خدا مشکل کشا کا رتبہ پایا۔ سیدنا علی سراپا قیادت ربانی اور کتابِ الہی، سنت نبوی نیز اعلائے کلمتہ اللہّٰ کے لیے جانثاری کا پیکر تھے۔ آپ رضی اللہّٰ عنہ عقیدہ علم شریعت، توکل علی اللہّٰ، قدوہ صدق وصفا، کمال و صلاحیت، شجاعت، مروت اور زہدو ورع میں کامل تھے۔ جانثاری محبوب تھی اپنے معاونین کے لیے انتخاب کا حسین ملکہ تھا۔ تواضع، بردباری کی زندہ تصویر تھے۔عالی ہمت و پختہ ارادہ کے مالک کے جو ٹھان لیتے کر گزرتے۔ عادل۔تعلیم و تر بیت اور قائدانہ صلاحیت کے مالک تھے۔ایک دفعہ آپ رضی اللہّٰ عنہ کے پاس ایک عیسائی آیا اور آپ کو لاجواب کرنے کی غرض سے دو سوال پوچھے کہ یہ بتائیں ۔۔وہ کون سی چیز ہے جو ہم دیکھتے ہیں اور اللہّٰ نہیں دیکھتا؟؟ اور قرآن میں ہر شے کا علم ہے وہ کیا ہے جو قرآن میں نہیں؟ حضرت علی رضی اللہّٰ عنہ حیدر کرار اور علم و دانش کے پیکر مسکرائے اور فر مایا۔ اللہّٰ خواب نہیں دیکھتا کیونکہ اللہّٰ نیند سے پاک ہے اور قران میں سب کچھ لکھا ہے لیکن جھوٹ نہیں لکھا۔ آپ رضی اللہّٰ عنہ نحو نویس قرات و تجوید اور بے مشال مفسر بھی تھے آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے سورہ فاتحہ کی تفسیر کا موقع ملے تو میں ستر اونٹ بھر دوں سورہ فاتحہ کی تفسیر کے اور پھر بھی مزید لکھا جا سکے۔ تاجدار مدینہ راحتِ قلب و سینہ حضور علیہ اسلام فر ماتے ہیں میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کادروازہ۔ آپ رضی اللہّٰ عنہ کے اقوال زریں حروف ہیں عمل کرنے والوں کے لیے۔ آپ رضی اللہّٰ عنہ کے القابات مرتضی، حیدر، امیر المومنین، اور انزاع البطین یعنی شرک کے دائرہ سیباہر اور بھر پور علم رکھنے والے، یعوب الدین، نفسِ رسول صاحب اللوائ، سید العرب، ہادی، فاروق اور امیر البررۃ ہیں اور آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہیں آپ کی کنیت ابو تراب آپ کو آقا کریم ﷺ کی طرف سے عطا ہوئی۔ہجرت مدینہ کیموقع پر رسالت ماب ﷺ نے آپ کو مکہ میں اپنا نا ئب اور امین مقرر فرمایا۔ اور اس مقصد کے لیے آپ رضی اللہّٰ عنہ کو بسترِ اطہر پر استراحت کی سعادت بخشی۔ حضرت علی کرم اللہّٰ وجہہ کی عمر اس وقت بائیس کیاور تیئس کے لگ بھگ تھی۔ عالم شباب میں اپنے آپ کو امتحان میں اور اپنی زندگی کو موت کی کش مکش میں ڈالنا آپ کی جا نثاری اور بہادری کا بے مثال کارنامہ ہے۔ غزوات اسلام کا آغاز ہوا توآپ کی شجاعت کو دنیائے عالم نے ملاحظہ فرمایا آپ نے اپنے ہر جنگی معرکے میں دشمن کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا اور انہیں تتر بترکر دیا ۔ اللہّٰ کے دشمنوں پر آپکی تلوار برقِ بے اماں ہوکر برستی اور انہیں جہنم واصل کر کے دم لیتی۔ غزوات میں پہلا معرکہ غزوہ بدر ہے رسول اللہّٰ ﷺ اپنے تین سو تیرہ جاں نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔لشکر کے آگے آگے دو سیاہ رنگ کے علم یعنی جھنڈے تھے ان میں سے ایک حضرر علی کے ہاتھ میں تھا۔مقام بدر کے قریب پہنچنے سے پہلے رسول اللہّٰ ﷺ نے آپ رضی اللہّٰ عنہ کو چند منتخب جاں بازوں کے ساتھ دشمن کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لیے روانہ کیا آپ نے یہ خدمت نہایت تندہی سے انجام دی اور پھر مجاہدین بدر نے پہلے پہنچ کر اہم مقامات کی ناکہ بندی کر لی۔ محرم 7 ہجری میں غزوہ خیبر میں اہل ایمان کا سامنا یہودیوں سے ہوا۔ خیبر یہودیوں کا مرکز تھا۔ جس کی جنگی اور جغرافیائی لحاظ سے بہت اہمیت تھی۔ یہاں ان کے متعدد مضبوط قلعے تھے۔ خیبر کے قلعوں میں سے ہر ایک قلعہ فتح ہوتا رہا مگر قلعہ” القموص” ناقابل تسخیررہا۔یہودیوں کے چھے قلعے تھے اور بیس ہزار آزمودہ جنگجو اور وافر جنگی سامان بھی موجود تھا۔ اس قلعے القموص کا سردار ”مرحب” عرب کا قابل ذکر اور نام نہاد سردار شمار ہوتا تھا اس فوجی حصار اور مرکزی قلعے کی فتح میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے رسالت ماب ﷺ نے فرمایا ; کل میں جنگ کا علّم ایسے بہادر کو عطا کروں گا جس کے ہاتھ پر اللہّٰ فتح عطا فرمائے گا۔ جسے اللہّٰ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہّٰ اور اُس کے رسول کو اس سے محبت ہے۔یہ بہت اہم اعلان تھے قلعہ قمو ص کی فتح دراصل اسلام اور اہل ایمان کی فتح تھی۔تمام جاں نثار منتظر تھے کے رسالت مآب ﷺ کس کا نام منتخب فرمائیں گے۔ چنانچہ سیدالمرسلین نے یہ فریضہ حضرت علی رضی اللہّٰ عنہ کے سپرد کیا۔۔ ہر طرف جنگ کا شور بھرپا ہوا اور پھر وہ گھڑی آن پہنچی جس دن فاتح خیبر میدان میں اُترے۔ یہودیوں کا سردار مرحب للکار اور پکار اٹھا۔۔۔۔۔خیبر مجھے جانتا ہے میں مرحب ہوں مسلح پوش ہوں بہادر ہوں، تجربہ کار ہوں ۔۔ شیر خدا حضرت علی المرتضی نے اس للکار کا جواب دیا۔ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا۔ جنگل کے شیر کیطرح مہیب اور ڈراؤنا میں دشمن کو نہایت سرعت کے ساتھ قتل کرتا ہوں یہ کہتے ہوئے آپ نے جپھٹ کر ایک ہی وار میں دشمن کا کام تمام کر دیا اور اس کا سر تن سے جدا ہوگیا۔ آپ رضی اللہّٰ عنہ نے ایک ہی جھٹکے سے منوں بھاری باب خیبر کو اکھاڑ ڈالا اور فتح کا جھنڈا لہرا دیا۔۔ یہ تاریخ ساز واقع آپ کی شجاعت کا مظہر ہے اس مو قع پر آپ نے اپنی تلوار آقائے دو جہاں کے قدموں میں رکھتے ہوئے لرزتے وجود کے ساتھ عرض کی یا رسول اللہّٰ بلاشبہ شجاعت بہت اہمیت رکھتی ہے مگر نبوت شجاعت پر بھاری ہے آپ کے یہ الفاظ گونج اٹھے اور آپ رضی اللہّٰ نے ثابت کردیا کہ آقائے دوجہاں کے جاں نثار آپ ﷺکے غلامان کا کردار کیا ہونا چاہیے اسی شجاعت و جاں نثاری کی بدولت آپ رضی اللہّٰ عنہ کو شہادت کا رتبہ نصیب ہوا۔ اور آپ رضی اللہّٰ عنہ کی زبان اقدس پر حالت نزاع میں یہ الفاظ جاری تھے۔
پس جو کوئی رائی کے برابر بھی نیکی کرے تو وہ اسے دیکھ لے گا اور جو رائی کے برابر بھی برائی کرے تو وہ بھی دیکھ لے گا۔۔ حضرت علی کرم اللہّٰ وجہہ کی حیات مبارکہ درخشندہ مثال ہے آپ کی شجاعت اہل ایمان کے لیے، آپ کا علم اہل علم کے لیے آپ کا صبر اور کردار ہر مسلمان کے لیے آپ کاعشق رسول ﷺ ہرعاشق کے لیے ،آپ کا کردار عالم اسلام کے لیے آپکی خلافت ہر مسلمان حکمران کے لیے نیز آپ رضی اللہّٰ عنہ کی حیات بہترین نمونہ ہے جس کو قلم بند کرنے کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: