Muhammad Nazimuddin Today's Columns

کرونا وائرس بارے عوامی شعور کی بیداری از محمد ناظم الدین

Muhammad Nazimuddin
Written by Todays Column

محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کااہم کرداراور ذمہ داریاں
محکمہ تعلقات عامہ پنجاب میں قائم خصوصی مانیٹرنگ سیل عوام کو ہر لمحہ با خبر رکھتے ہوئے افواہ ساز فیکٹریوں کاخا تمہ کر رہا ہے
پنجاب کے تمام اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مقامی سطح پرعوام کو کرونا وائرس بارے آگاہی دے رہے ہیں

حکومت پنجاب کا اہم محکمہ اطلاعات و ثقافت کرونا وائرس کے بارے میں عوامی شعور کی بیداری کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے – سیکرٹری اطلاعات و ثقافت راجہ جہانگیر انور کی ہدایت پر ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز لاہور میں قائم خصوصی مانیٹرنگ سیل کروناوائرس کے باعث دنیا بھر میں آنے والی تبدیلیوں اور واقعات کی مانیٹرنگ کر رہا ہے – پرنٹ، الیکٹرانک اورسوشل میڈیا پر ڈی جی پی آر ثمن رائے کی زیر نگرانی کرونا سے بچا ¶ کیلئے حفاظتی اقدامات کے بارے میں خصوصی آگاہی مہم چلائی گئی ہے-ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے زیر اہتمام اطلاعاتی ماہرین کروناوائرس سے متعلق جھوٹی اور من گھڑت افواہوں کا سدباب کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں بے جا خوف وہراس پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح متحرک ہیں – پنجاب کے تمام اضلاع میں تعینات ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مقامی سطح پرعوام کو کرونا وائرس بارے کئے جانے والے حکومتی اقدامات بارے آگاہی فراہم کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ طبی عملہ کی خدمات کو خراج تحسےن کے لےے اضافی تنخواہ دی جا رہی ہے ۔ پنجاب کے متحرک صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد اورسپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ایم فردوس عاشق اعوان برائے اطلاعات میڈیا سے روزانہ کی بنیاد پر خود رابطہ کر کے انہیں اپ ڈیٹ حقائق سے آگاہ کر رہے ہیں۔ وزےراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کورونا مریضوں کیلئے قائم آئسولیشن/قرنطینہ مراکزبا قاعدگی سے دورہ کر رہے ہیں اور قرنطینہ کے انتظامات پراطمینان کا اظہارکر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں وفاقی اور دیگر چاروں صوبوں کے وزراءاوقاف و مذہبی امور اور کمشنرز کا این سی او سی کا ویڈیو لنک اجلاس کا انعقاد ہواجس میںسیکر ٹری اوقاف نبیل جاوید ،ڈائریکٹر جنرل اوقاف سید طا ہر رضا بخاری ،چئیرمین رویت ہلال کمیٹی عبدالخبیر کے علاوہ دیگر افسران و علمائے کرام نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیر اوقاف سید سعید الحسن شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کرونا وائرس کی صورت حال کے پیش نظر تمام علمائے کرام اور میڈیا نے حکومتی اقدامات کی تائید کی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر، انتظامیہ اور عسکری اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی شبانہ روز کاوشوں اور انتھک محنت سے کورونا کے خلاف بہت جرات مندانہ کردار ادا کیا اور عوامی سطح پر شدید بد احتیاطی اور غفلت کے باوجود دانشمندی کا مظاہرہ کیا گیا۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے ذریعے اس وباءکے مہلک اثرات کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے،یہ ایک عظیم کاوش ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردارعثمان اور محکمہ صحت کے عملہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس وباءکے کنٹرول میں اپنی تمام کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ علماءکرام اور مشائخ کی توجہ چند انتہائی اہم امور کی طرف دلانا چاہوں گا جس پر عمل کر کے اس موذی وباءکے خلاف بہتر طریقے دفاعی حکمت عملی تیار کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی کورونا کی دوسری لہر نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی جہاں پر ایک دن میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد لوگ اس وباءکا شکار ہوئے۔ پاکستان میں حکومت عوام مذہبی طبقات ، مشائخ، علماءکرام اور قومی ادارے متعلقہ مسئلے کی سنگینی سے مکمل طور پر آگاہ ہیں ۔اس سلسلہ میں کسی بھی قسم کی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔ ہمیں مزید احتیاط اور عملی اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی لےے کورونا کی دوسری بڑی لہر میں وزیر اعظم نے عوام کا درد اور مذہبی عقیدت کو خاطر خواہ رکھتے ہوئے ملک بھر میں مکمل طور پر لاک ڈاﺅن سے اجتناب کیا ہے۔ حکومت نے رمضان المبار ک کا خیال کرتے ہوئے نماز تراویح پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی ۔ مساجد میں سماجی فاصلوں کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نماز عید کے اجتماعات کو بھی محدود رکھا جائے گا اور عید کی شاپنگ کو بھی کم سے کم سطح پر کیا جائے۔ علماءکرام اور مشائخ عزام سے درخواست ہے کہ وہ معاشرے میں اپنا قائدانہ کردار ادا کریں اور کرونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں عوام کو آگاہی دیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینشن کے حوالے سے کچھ شر پسند عناصر معاشرے میں بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ ویکسینیشن خطرناک دوا ہے ۔ ایسی صورت میں علماءاور مشائخ حضرات اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور عوام میں شعور و آگاہی مہم کا آغاز کریں تاکہ شر پسندوں اور انتشار پھیلانے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔

حکومتی اداروں اور مساجد کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ پریشانی کے اس ماحول میں مسلمانوں کا مورال بلند رکھیں، ایمان و یقین اور اللہ پر توکل کا درس دیں۔مساجد کی صفائی وستھرائی اور دیگر حفاظت و احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دیں۔ عوام میں کروناوائرس سے متعلق غلط خبروں اور ابہام دور کرنے کے لئے موثرتشہیری مہم انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت اور تیز تر حکمت عملی کی بنا پر ویکسین کی تیاری کے لئے طبی ماہرین اور محققین کو تمام تروسائل مہیا کئے جا رہے ہیں- وزیر اوقا ف نے کورونا کے خلاف جاری مہم میں برسر پیکار ڈاکٹر ز، ہیلتھ پروفیشنلز ،صحافی اور دیگر ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے افسران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب قوم کے ہر فرد کے لئے رول ماڈل اور میرے لئے قابل قدر ہیں ۔وزیر اوقاف و مذ ہبی امور سید سعید الحسن شاہ نے حکومتی اقدامات پر ہر مسلک کے علمائے کرام سے ملا قات کی اور رائے لی کہ ایسی صورت حال میں کس طر ح سے مسلمانوں اور دیگرکو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تمام علمائے کرام نے حکومتی اقدامات کی تائید کی ہے۔اسلام نے پاکیزگی اور طہارت کو نصف ایمان کا درجہ دیا ہوا ہے۔جس کی تائید آج غیر مسلم اقوام بھی کر رہی ہیں۔ میڈیا نے بروقت آگا ہی دے کر قوم پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔ کرونا وائرس اور نمازباجماعت ومساجد کے بارے میں احتیاط کی جائز اور ناجائز حدود کے حوالے سے قرآن و حدیث کی روشنی میں کرونا وائرس کے شکار مریضوں کے لیے مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنا ٹھیک نہیں کیونکہ اس وبا سے دیگر افراد کا بھی فوری متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس نا گہانی صورتحال کے پیش نظر پوری قوم کثرت سے استغفار کرے، آیت کریمہ، درود شریف کا مسلسل وردکیا جائے اور حسب استطاعت صدقات و خیرات کریں۔حکومت کی طرف سے جاری احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، احتیاطی تدابیر قطعی طور پر توکل علی اللہ کے خلاف نہیں ہیں۔ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے کہ جس مسلمان نے پیاز کھایا ہو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اوپیاز کی بدبو سے اذیت نہ پہنچائے۔اس حدیث کے مطابق پیاز کی بدبو کی وجہ سے مسجد میں آنامنع ہے جب تک منہ سے بدبوختم نہ ہو۔اس لیے جو لوگ وائرس سے متاثر ہوچکے ہیںیا ان میں متاثر ہونے کی علامات پائی جارہی ہیں انھیں مساجد میں آنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ وائرس کو پھیلانے کا نقصان بہرصورت پیازکی بدبو سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایسے افراد جو کورونا وائرس کی علامت یا سابقہ کسی بیماری کی بنا پر خائف ہوں اور خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ باجماعت نماز اور جمعہ میں حاضری سے مجھے نقصان ہو سکتا ہے تو ایسے شخص کے لیے باجماعت نماز ادا کرنے اور جمعہ میں حاضری سے رخصت ہے۔حکومت اور بالخصوس محکمہ صحت کی طرف سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔ حکومتی ہدایات کے مطابق ان دنوں میں عوامی اجتماعات، محافل، کانفرنسز سے احتیاط کریں۔ کیونکہ یہ سب نفلی کام ہیں ان کو عارضی طور پر روکنے میں کوئی حرج نہیں۔ حکومتی اداروں اور مساجد کی انتظامیہ کا فرض ہے کہ پریشانی کے اس ماحول میں مسلمانوں کا مورال بلند رکھیں، ایمان و یقین اور اللہ پر توکل کا درس دیں۔ذکرواذکار اور انفرادی دعاﺅں پر زور دیں اور یہ سمجھیں کہ آزمائشیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں۔ مساجد کی صفائی وستھرائی اور دیگر حفاظت و احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دیں۔ عوام میں کروناوائرس سے متعلق غلط خبروں اور ابہام دور کرنے کے لئے موثرتشہیری مہم انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لئے جاری مہم کے دوران خلاف ورزی کرنے سخت ایکشن لیا جا رہا ہے کہ عوام اپنی اور دوسروں کی صحت کے تحفظ کے لئے بلاضرورت گھر سے باہر آنے سے گریز کریں اور اپنے آپ کو ہر صورت میں محدود رکھیں- قرنطینہ سے ویسٹ کو تلف کرنے کے عمل کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے عملے کا استعمال شدہ لباس تلف کرنے کیلئے ایس او پی پر عمل کیا جائے۔لباس اور دیگر مواد کی غیر محتاط نقل و حمل کی کوتاہی ہرگز نہ کی جائے اور انفیکشن کنٹرول پروگرام پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ حکومت پنجاب متعلقہ اضلاع میں ان کی فالو اپ سکریننگ کا بھی اہتمام کر رہی ہے۔ جیلوں میں بھی قیدیوں کی سکریننگ کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ لاہور کیمپ جیل میں قیدیوںکیلئے خصوصی ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے۔ لاہور سمیت صوبہ کے دیگر شہروں میں صفائی اور دیگر ضروری امور کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انتظامیہ شہروں کی صفائی ستھرائی کا عمل شروع کیا ہوا ہے۔ انتظامیہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ کرفیو نہیں ہے لیکن شہری گھروں میں رہنے کو ترجیح دیں اور تعاون کریں۔ سرکاری ہسپتالوں میں کوروناوائرس کے تصدیق شدہ اورمشتبہ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال جاری ہے۔تمام انتہائی نگہداشت یونٹس میں ضروری طبی سامان وافرمقدارمیں موجودہے۔ کورونا وائرس سے متعلق عوام میں آگاہی کے حوالے سے میڈیاانتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کوروناوائرس سے بچاوکیلئے تمام ترفیصلے عوام کے مفادمیں اٹھارہی ہے۔ پنجاب حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے بروقت اقدامات کئے – کورونا مریضوں کے لئے قا ئم ہسپتال میں ڈاکٹر او رطبی عملہ دن رات ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔حکومت پنجاب ،علمائے کرام اورڈا کٹروں کی ہدایت کے مطابق کروناوائرس کے موذی اثرات سے بچنے کے لےے نماز جمعتہ المبارک و پنجگانہ نمازکی ادائیگی میں ایس او پیز پر سختی سے عمل در آمد کریں۔ ڈاکٹرز ،نرسز اورپےرا مےڈےکل سٹاف کی ٹرےننگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔عوام احتےاطی تدابےر پر سختی سے عملدرآمد کرےں،ہاتھ بار بار دھوئےں۔ کوروناوائرس سے پیداہونے والی تمام ترصورتحال سے عوام کولمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھاجارہاہے۔ کوروناوائرس کے خلاف جنگ میں عوام کوگھروں تک محدودرہ کرحکومت کاساتھ دیناہوگا۔ کوروناوائرس کے خلاف جنگ میں تمام ادارے مل کرکوشش کررہے ہیں۔ عوام احتیاطی تدابیرپرسختی سے عملدرآمدکریں۔ حکومت کوروناوائرس کے مریضوں کی سہولت کی خاطرتمام تروسائل بروئے کارلارہی ہیں۔

محکمہ صحت پنجاب نے صوبے میں کورونا ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد بڑھانے کیلئے جامع پلان تیار کر لیا ہے، شہریوں کی سہولت کیلئے ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد کو 135سے بڑھا کر 246کیا جائے گا۔ نئے ویکسینیشن سینٹرزقائم کرنے سے متعلق پلان سول سیکرٹریٹ میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے منعقد اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اجلاس میں کورونا مریضوں کیلئے ہسپتالوں میں سہولیات ، آکسیجن کی فراہمی اور ایس او پیز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں موبائل ویکسینیشن سینٹرزکے قیام سے متعلق تجویز پر بھی غور کیا گیا۔حکومت نے کہا کہ عوام کی صحت اورزندگیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ آٹھ فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ محکمہ صنعت کو ہدایت کی کہ ہسپتالوں میں آکسیجن کی بلاتعطل فراہمی کیلئے محکمہ صحت کو مکمل معاونت فراہم کی جائے ۔ صوبہ بھر میں ویکسینیشن کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب تک 10لاکھ سے زائد فراد کو ویکسیئن لگائی جا چکی ہے۔ شہریوں کی سہولت کیلئے ویکسینیشن سینٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور روزانہ ویکسیئن لگانے کی صلاحیت کو دوگنا کیا جائے گا۔ ہسپتالو ںمیں بیڈز کی دستیابی سے متعلق عوام کی رہنمائی کیلئے ہیلپ لائن 99211136قائم کی گئی ہے، بیڈز کی دستیابی سے متعلق معلومات کیلئے 1122پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب نے ڈویژنل کمشنرز کو حکم دیا کہ کہ مارکیٹوں اور بازاروں کی بندش کے اوقات اور دیگر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کو تمام شہروں میں ایس او پیز پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ روزانہ بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔
لاہور پولیس شہر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کیلئے بھی متحرک ہے ۔ پولیس ، پاک آرمی، رینجرز اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں کورونا کے بارے جاری کردہ حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کروانے کےلئے ہر ممکن اقدام عمل میں لا رہی ہیں۔ایس ایس پی آپریشنز نے کہا کہ کاروبار کیلئے حکومت کی طرف سے جاری اوقات کار پر بھی سختی سے عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔کورونا وباءکے پیش نظرپولیس کے حفاظتی اقدامات لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے ہیں۔ ماسک کے استعمال، سماجی فاصلوں سمیت دیگر کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ لاہور پولیس آپریشنز ونگ کی طرف سے01ماہ کے دوران کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پرہزاروں مقدمات درج کر کے ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔پبلک مقامات پرماسک نہ لگانے والوں کے خلاف سینکڑوں جبکہ سماجی فاصلوں کی پابندی نہ کرنے پربھی مقدمات درج کئے گئے ۔ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس ، آرمی اور رینجرز کی مشترکہ کارروائیوں میں ایک روز کے دوران سینکڑوںمقدمات درج کئے ۔حکومت نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فیس ماسک، سماجی فاصلہ سمیت کورونا ایس اوپیزپر عملدرآمد یقینی بنائیںتاکہ اس وبا سے محفوظ رہا جا سکے۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: