Rukhsana Afzal Today's Columns

آغوش، میرا گھر از رخسانہ افضل

Rukhsana Afzal
Avatar
Written by Todays Column

آغوش ہر ذی روح کا پہلامسکن، مامتا بھری، نرم، گرم،مہربان گود کا نام ہے آغوش
ایک نومولود کواگر ایک مہربان آغوش ناں ملے تو اس کا بڑھنا اور پلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے
ایک گھر ایک مہربان آغوش ہر انسان کا بنیادی حق مگر کبھی کبھی بد قسمتی سے یا کسی حادثے کے باعث کچھ بچوں کو گھر نہیں ملتا یا مامتا بھری آغوش نہیں ملتی مگر ایک ماں نہیں ملتی تو رب کریم ہے ناں 70 ماوں سے بھی زیادہ چاہنے والا
بے رب کریم ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ وہ بچہ محفوظ ہاتھوں میں پہنچ جائے اور اپنی بنیادی ضروریات کے لئے کسی کا محتاج نا رہے
اور ایسے بچوں کو سنبھالنے والے لوگ بہت درد مند دل کیمالک ہوتے ہیں
باہر کے ملکوں میں اصول وضوابط کی بنا پر یہ سب کرنا زیادہ مشکل نہیں، وہاں کی لوکل آرگنائزیشن ایسے کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتی ہیں اور انسانیت سے محبت جو اسلام کابنیادی وصف تھا وہ گوروں نے سمجھ لیا ہے اور شاید یہی ان کی ترقی کا راز بھی ہے مگر ہمارے ملک میں نیکی کرنے والوں کو بھی بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھی اللہ کی خاص رحمت کے باعث بہت آسانی بھی ہو جاتی ایسے نیک کاموں میں
مگر پاکستان میں غربت اتنی خوفناک نہیں جتنی خوفناک ہماری خود غرضی ہے، نفسا نفسی ہے، آج رجحان یہ ہے کہ کمزور کو مزید دباو، اور طاقتور کا ہاتھ ظلم سے کوء روک نہیں سکتا، وہ جب چاہے کسی غریب کو بیگھر کر سکتا ہے، جب چاہے کسی غریب کی پڑھاء روک سکتا ہے،
آج بہت کم ایسے درد دل والے لوگ ہیں جو غریب کو ملازم رکھیں تو ساتھ ساتھ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کر کے اسے ملک کا ایک کار آمد شہری بنا سکیں۔۔یہ سب باتیں شاید ”آغوش،میرا گھر” کا تعارف کروا سکیں،
آغوش بے سہارا بچوں کا اپنا گھر
آغوش لاوارث اور یتیم بچوں کا ٹھکانہ
آغوش ایک ایسی چھت جس کے تلے بچے محفوظ ہوں گے اور سکون کی نیند سوئیں گے
شاید آغوش ایک قطرہ ہو نیکی کا
آغوش ایک قطرہ ہواچھاء کی جانب
آغوش کی بنیاد میں جو محترم نام ہیں
رابعہ احسن
رابعہ بصری
دونوں حساس دل اور مہربان ہیں
آغوش کے دو اہم ستون
ابھی یہ کام ابتداء مراحل میں ہے، فی بچہ 30 ڈالر یعنی پاکستانی 3 ہزار روپے اخراجات ہوں گے ایک مہینے کے،
ہماری پوری کوشش ہو گی کہ بچوں کو گھر جیساماحول دے سکیں
یہ ہمارے اپنے بچے ہیں
”آغوش، میراگھر” بے شک ماں کی گود نہیں ہو گا مگر ایک محفوظ اور مکمل گھر ہوگا
ہماری کوشش ہو گی کہ بچوں کو ملک کا کار آمد شہری بنا سکیں
وہ بچے جو ماں باپ کے ساتھ ہیں مگر پڑھنے کی توفیق نہیں رکھتے، کتابیں نہیں خرید پاتے ان کی بھی مدد کی جائیگی
”آغوش، میرا گھر”
ایک ایسا خواب جس کی تعبیر ہے کہ ملک کا
ہر بچہ محفوظ ہو
ہر بچہ باشعور ہو
چائلڈ لیبر کا خاتمہ ہو
اور یہ سب فرد واحد کے لئے ناممکن ہے، اس کے لئے
آپ سب کی ڈھیروں دعائیں اور مدد درکار ہے
آئیے نیکی کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیجئے
اور اجر عظیم سوہنے رب سے پائیں
فیس بک پہ بھی آغوش میرا گھر کا پیج موجود ہے، وہاں آپ کو تمام تفصیلات مل جائیں گی۔۔!!

٭…٭…٭

About the author

Avatar

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: