ایک نعت،ایک نعت خوان اور ربیع الاوّل

ہمدان ۔۔ کہ جس شہر میں رہنے والے، علامہ اقبالؒ کے بارے میں ایک خودساختہ حکایت بیان کرتے ہیں کہ اقبال یہاں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان سے آئے ہوئے شخص سے کسی دکاندار کی گفتگو طویل ہو جائے اور بات یہاں تک آجائے کہ وہ یہ سوال پوچھ بیٹھے کہ ’’از کجا می آید‘‘، کہ’’ آپ کہاں سے آئے ہیں‘‘ اور آپ کا جواب یہ ہو کہ،’’ پاکستان کے شہر لاہور سے آیا ہوں‘‘،تو ایک دم اس کی آنکھوں میں چمک سی آجائے گی اوروہ پکار اٹھے گا ،’’از شہرِ اقبال لاہوری‘‘یعنی ’’اقبال لاہوری کے شہر سے‘‘۔ شاید ہی کوئی ایسا شخص آپ کو ملے جسے اقبال ؒ کے اشعار زبانی یاد نہ ہوں۔ اقبالؒ کی ’’ازخوبِ گراں خوابِ گراںخوابِ گراں خیز‘‘ والی نظم کا یہ بند جس میں ’’ہمدان‘‘کا ذکر آتا ہے، آپ کو ہر کوئی سنائے گا۔ خاور ہمہ مانندِ غبارِ سرِ راہ است/یک نالۂ خاموش و اثر باختہ آہ است/ہر ذرۂ ایں خاک گرہ خوردہ نگاہ است/از ہند و سمرقند و عراق و ہمداں خیز/از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز ’’مشرق(خاور) سب کا سب راستے کے غبار کی مانند ہے۔ یہ ایک ایسی فریاد ہے جو خاموش ہے، اور ایک ایسی آہ ہے جو بے اثر ہے۔ اس خاک کا ہر ذرہ ایک ایسی نگاہ ہے جس کی نظر بندی کر دی گئی ہے(نابینا ہے)۔ اے ہندوستان، سمر قند، عراق اور ہمدان کے رہنے والو! اٹھو گہری نیند سے، گہری نیند، بہت ہی گہری نیند سے اٹھو!۔‘‘ اقبال ؒ کے یہ اشعار اگر کوئی ہمدان کا رہنے والا آپ کی نذر کر دے تو اس کا اگلا انکشاف آپ کو حیران کر دے گا۔ وہ کہے گا، ’’آغا!اقبال ایں جا تولّدبود‘‘( اقبال یہاں پیدا ہوا تھا)۔ آپ اس سے بحث کریں کہ بھائی، میں پورے خاندان کو جانتا ہوں، میں نے سیالکوٹ میں وہ گھر بھی دیکھا ہے جہاں اقبال پیدا ہوا۔ لیکن وہ آپ کی نہیں مانے گا اور اگر اس کے پاس فرصت ہو گی تو وہ آپ کو ایک پرانی سی دکان پر لے جا ئے گا اور بتائے گا کہ اس دکان میں اقبالؒ کے والد ’’زرد چوبہ‘‘ یعنی ہلدی کا کاروبار کیا کرتے تھے۔ آپ حقائق پیش کرنے لگیں گے تو وہ آپ کو یہ بات کہہ کر چپ کروا دے گا کہ ’’میں مان ہی نہیں سکتا کہ جس شاعر نے فارسی کی ضرب المثل اور محاورے بدل کر رکھ دیئے ہوں، اس نے بچپن کے پہلے دس سال یہاں نہ گذارے ہوں‘‘۔ ایران میں اپنی تعیناتی سے قبل ہی میں دو نسبتوں سے ہمدان کے شہر سے آشنا تھا۔ ایک سید علی ہمدانی اور دوسرے پاکستان میں نعت خوانی کے آسمان کے درخشندہ ستارے محبوب احمد ہمدانی اور مرغوب احمد ہمدانی۔
معلوم نہیں اتنی نسلوں سے لاہور میں آباد یہ دونوں بھائی اپنے نام کے ساتھ ہمدانی کیوں لکھتے ہیں۔ مجھے یہ نسبت اچھی لگتی ہے، اس لیئے کبھی سوال نہیں کیا، ورنہ مرغوب ہمدانی تو اکثر میسن روڈ کی مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد ضرور مل جاتے۔ انہیں دیکھ کر فرحت و تازگی کا احساس ہوتا۔ اللہ انہیں تادیر سلامت رکھے کہ اب ان کی طرح عاجزی ، خلوص ، احترام اور مجسم عشق کے ساتھ نعت پڑھنے والے نہیں رہے۔ مرغوب صاحب سے جمعہ کی نماز کے بعد ملاقات ہوتی تو بغیر کسی توقف کے ایک سوال ضرور پوچھتا، محبوب بھائی کیسے ہیں۔ ان کی خیریت جان کر اطمینان ہوتا۔ گذشتہ آٹھ ماہ سے’’کرونا‘‘ کی وجہ سے اس طرف جانے کا موقع مل سکا اور نہ رمیضہ پارک والی مسجد میں نماز ادا کی۔ یوں مرغوب بھائی کا دیدار ہوا اور نہ ہی محبوب احمد ہمدانی کی خیریت دریافت ہو سکی۔ رات ٹیلی ویژن چینلوں پر ایک زیریں لائین جسے ’’ٹکر‘‘ کہتے ہیں، پڑھ کر پتہ چلا کہ وہ ربیع الاوّل کی آمد کے ساتھ ہی اپنی درد و سوز سے پڑھی ہوئی نعتوں کا خزانہ اپنے اعمال نامے میں سجائے، خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے۔ خبر کی کیفیت ایسی تھی کہ ایکدم روح اور بدن پر سناٹا چھا گیا۔ میں چشم تصّور میں محبوب احمد ہمدانی کو پرواز کرتے ہوئے سوچتا رہا۔ ایسی پرواز جس کی سرسراہٹ میں مدحتِ رسول ﷺ کی نغمگی اور درود و سلام کی معطر ہوائیں شامل ہوں۔ ایک لمحے کو یوں لگا جیسے میں محبوب احمد ہمدانی کی اس خوشبو کا پیچھا کر رہا ہوںاور اس پرواز کی نغمگی کو دور جاتے محسوس کر رہا ہوں۔ نسبت صرف ایک ہے کہ محبوب بھائی کی پڑھی گئی نعتوں کے خزانے میں میرا ایک ہدیہ نعت بھی توشامل ہے۔ میری یہی ایک نعت ہے جسے کسی نعت خواں کی خوش الحانی میسر آئی اور وہ بھی محبوب احمد ہمدانی جیسے نعت خواں کی، جس کی آواز میں بچپن سے ریڈیو پاکستان سے سنتا چلا آیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا ، جب نعت خوان کا ذکر ’’ٹکرز‘‘ تک محدود نہ تھا، بلکہ وہ ہمارے ماحول میں روح کی طرح زندہ تھے۔ میری اس نعت کا تذکرہ بھی مجھ پر کسی نعمت سے کم نہیں۔
میں نے بچپن میںاپنے والد کو نعت سنتے ہوئے اسقدر روتے دیکھا ہے کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو جاتی۔ جامیؒ سے اقبالؒ اور مولانا احمد رضا خانؒ سے مولانا ظفر علی خانؒ تک ہر شاعر ہمارے گھر میں ایسے تھا، جیسے کوئی خاندانی بزرگ ہو۔ نعت خوانوں میں اعظم چشتی سے لے کر قاری غلام رسول اور محمد علی ظہوری سے مرغوب اور محبوب احمد ہمدانی تک، سب ہمارے گھر کے در و دیوار میں چہکتی آوازیں تھیں۔ پہلی دفعہ عمرے پر گیا تو دربارِ رسالت ﷺ میں پیش کرنے کے لیئے آنسوؤں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ تیس سال کی عمر،عنفوانِ شباب، لیکن روضۂ اقدس کی جالیوں کی طرف مڑا، گناہوں کے احساس نے اسقدر گھیرا کہ ندامت کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ شرمندگی، خجالت، خالی دامن، کچھ بھی تو پاس نہ تھا۔ کہیں پڑھ رکھا تھا کہ علامہ اقبالؒ نے جب حجاز کا قصد کیا تھا توحضور رسالت مآب ؐ کے دربار میں نذر کرنے کے لیئے انہوں نے عشق رسول ﷺ میں ڈوبی ایک سو رباعیاں تحریر کیں، جو ان کے انتقال کے بعد ’’ارمغانِ حجاز‘‘میں شائع ہوئیں۔میں تو ایسے ہی خالی ہاتھ چلا آیا تھا۔ آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر اللہ سے صرف ایک التجا کی کہ مجھے ایک دفعہ اوریہاں آنے کی توفیق عطا ہو، تو سید الانبیا ﷺ کے حضور اپنی کم مائیگی کے باوجود ایک نعت لکھ کرلاؤں گا اور اگر مجھ پر مزید کرم ہو تواللہ مجھے ایک اور نعت یہاں روضۂ رسول ﷺ کے سامنے بیٹھ کر بھی لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ نے میری دونوں دعائیںقبول کیں۔ جو نعت میں لکھ کر لایا تھا وہ شافع روز محشر کے حضور جالیوں کے سامنے پڑھی، سلام کیا اور یوں لگا جیسے عمر بھر کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو گئی ہو۔ واپسی پر ہمارے دوست ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹرہارون الرشید عباسی کو وہ نعت سنائی تو اسے ساتھ لے گئے اور پھر کچھ دنوں بعد محبوب احمد ہمدانی کی آواز میں اس نعت کی سی ڈی مجھے عطا کی۔
محبوب احمد ہمدانی کی آواز نے اس بے مایہ چیز کو میرا سرمایہ بنا دیا۔ سوچتا ہوں جب فرشتے محبوب بھائی کی نعتوں کی خوشبوؤں کو محسوس کر رہے ہوں گے تو اس میں اس گناہ گار کی اس نعت کی خوشبوبھی ضرور شامل ہو گی۔ دل مدینہ ہوا، شوقِ دیدار میں، سامنے آپؐ کا جب دیار آگیا ساعتِ دید میں جاںسنبھلنے لگی، بے قراری کو جیسے قرار آگیا سیلِ اشکِ ندامت بھی تھمتانہ تھا، حوصلہ سر اٹھانے کو ملتا نہ تھا تیرے دربار میں سانس روکے ہوئے ، طالبِ رحمتِ بے شمار آگیا آپ آئے تو موسم کئی کھل اٹھے، چاند جیسے زمیں پر اتر آئے سب خاتمِ وقت میں آفتاب آگیا، مژدۂ آمدِ نوبہار آگیا جو سیہ بخت تھے راندۂ دہر تھے، ہالۂ نور میں پھر چمکنے لگے خوف میں جیسے کوئی اماں مل گئی، بے سہاروں کو جیسے حصار آگیا اے شہ خسرواں، رحمتِ دو جہاں، آج پھر سے ہیں ہم بے زمین و مکاں پھر بشارت کوئی شافع عاصیاں، قافلہ پھر تہہ صد غبار آگیا

Leave a Reply

%d bloggers like this: