Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے تجدید عہد کا دن، جمعۃ الو داع یوم القدس از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جہاں بہت سی نعمتیں پیدا فرمائیں وہاں اس اپنے نائب و خلیفہ کے لئے اعداد و شمار اور کام کاج کے لئے دن رات تخلیق فرمائے ۔بعض دنوں کو دنوں پر اور بعض راتوں کو راتوں پر فضیلت بخشی ۔ راتوں میں سے نزول قرآن و آمد صاحب قرآن کی راتوں کو فضیلت و بزرگی عطا فرمائی اور دنوں میں سے یوم تخلیق آدم علیہ السلام ’’جمعہ ‘‘ کو سرداری و شرف عنایت فرمایا ۔جمعہ ہفتہ کے دنوں میں سے سید الایام ہے اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس دن ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کے اجزائے تخلیق جمع کئے گئے جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ اس دن زمانہ جاہلیت میں قریش قصی بن کلاب کے ساتھ جمع ہوتے تھے ۔زمانہ جاہلیت میں جمعہ کو یوم العروبہ کہا کرتے تھے ۔اسلام میں جمعہ کے دن کا بڑا مقام اور درجہ ہے ۔یہ ہفتے کے تمام دنوں کا سردار ہے جمعہ کے دن کا خصوصی امتیاز اور شرف صرف امت محمدیہ کو عطا کیا گیا کسی اور امت کو نہیں بخشا گیا ۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت نقل فرمائی ہے :رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سب سے بڑا اور افضل دن جس میں سورج طلوع ہوا وہ جمعہ کا دن ہے ۔اسی دن آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن وہ جنت میں داخل کئے گئے ۔‘‘
امام حاکم اور امام ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں یہ حدیث ذکر کی ہے کہ حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ سب سے افضل دن جمعہ ہے اسی دن آدم علیہ السلام تخلیق کئے گئے اور اسی دن فوت ہوئے ۔اسی دن صورپھونکا جائے گا۔ اسی دن قیامت قائم ہو گی ۔اسی دن مجھ پر درود بکثرت پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود شریف مجھ پرپیش کیا جاتا ہے ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ آپ پر درود شریف کیسے پیش کیا جائے گا۔ حالانکہ آپ فوت ہو چکے ہوں گے ۔آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اجساد انبیاء کو کھانا حرام کر دیا ہے ۔‘‘(شرح مسلم للسعیدی ، جلد دوم صفحہ621)
اس حدیث میں جمعہ کے دن کی فضیلت اور کثرت درود کا جس جگہ بیان ہوا اس کے ساتھ یہ مسئلہ بھی ثابت ہو ا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام پیارے انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں ۔خصوصاً سید الانبیاء حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ بھی زندہ و جاوید ہیں ۔
جب یہ معلوم ہو گیا کہ جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خاص مقام اور فضیلت رکھتا ہے تو ایک مسلمان کے شایان شان یہ ہے کہ وہ جمعہ کے لئے عمل اور با مقصدمنصوبہ بندی (ایجنڈے ) پر کار بند رہے تاکہ وہ اس کے ظاہری ،باطنی ،انفرادی اور اجتماعی برکات و آداب سے بھر پور مستفید و مستفیض ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن کے دو آداب اور فضائل مقرر فرمائے ہیں ان کے مجموعے سے سلامتی صحت کے اصول اور اجتماعی زندگی کی بہترین اقدار ظاہر ہوتی ہیں۔ ان میں ایک ادب یہ ہے کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کو غسل کی ترغیب دی گئی ہے۔ نظافت اور خوشبو کے استعمال کی طرف مائل کیا گیا ہے اور یہ کہ لوگوں کو صاف ستھرے اُجلے لباس میں نمودار ہونے کی تلقین کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب جمعہ کا دن ہو تو آدمی کو چاہئے کہ غسل کرے اور پھر اس کے پاس جو سب سے اچھے کپڑے ہوں وہ کپڑے زیب تن کرے ۔پھر نماز کے لئے جائے اور یہ آداب ملحوظ رکھے کہ وہ آدمیوں کو ہٹا کر ان کے درمیان نہ بیٹھے پھر امام کو غور سے سنے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک بلکہ تین دن ان پر مزید ہو گی ۔‘‘ اس طرح اسلام نے مسلمانوں کو غسل کرنے کے ذریعے حفظان صحت کی طرف مائل کیا ہے اور ہر وقت خوش نما اور با وقار رہنے کو شعار بنانے کی ترغیب دی ہے خاص کر مساجد ، محافل اور تقریبات میں جمع ہونے کے باہمی ارتباط اور ملاقات کے اوقات میں باہمی وابستگی کی خاطر حسن منظر کی بہت اہمیت ہے ۔یہ تو عام جمعۃ المبارک کی فضیلتیں ہیں تو رمضان المبارک کے جمعۃ المبارک کی کیا شان ہو گی اورپھر رمضان المبارک کے جمعۃ الوداع تو سب پر فضیلت و برتری پا جاتا ہے ۔
رمضان المبارک کا آخری جمعہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام کے الوداع ہونے کا وقت آگیا جن میں مسلمانوں کے لئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا تھا ۔اس اعتبار سے رمضان المبارک کے جمعہ کا اجر و ثواب بھی بہت زیادہ ہے ۔پھر اس جمعۃ الوداع کا معاملہ تو یہ ہے کہ مومن سو چتا ہے کہ اب آئندہ سال تک ایسا فضیلت او ربرکت والا جمعہ نہیں آئے گا ۔
یہی وجہ ہے کہ عامۃ المسلمین جمعۃ الوداع کو بڑے اہتمام اور بڑے ذوق و شوق سے ادا کرتے ہیں ۔ملک و قوم کی بھلائی اور ترقی کے لئے خصوصی دعائیں مانگتے ہیں اور اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل خاص اور رحمت سے ماہ رمضان کی عبادات قبول فرمائے اور ان کو اجر و ثواب سے نوازے ۔
آج دنیا کی ہر قوم اپنی پوری قوت اس مقصد کے لئے صرف کر رہی ہے کہ ان کے افراد میں اتحاد عمل پیدا ہو ۔ان کی سوچ میں یگانگت اور ان کی حرکات میں ہم آہنگی پیدا ہو ۔وہ بیک وقت ایک آواز پر بیٹھ جائیں اور ایک آواز پر سب کے سب کھڑے ہو جائیں ۔اندازہ کریں کہ جس قوم میں یہ سب باتیں ان کے دین کی برکت سے خود بخود موجود ہوں اور وہ ان سے خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ کر ے ۔وقت آنے پر ان سے ملی فوائد حاصل نہ کر سکے تو اس قوم کو بے روح نہ کہیں تو اور کیا کہیں گے ! مسلمانوں کے اندر ان کی حرکات و سکنات میں یہ ہم آہنگی اور اطاعت امیر کی سپرٹ اسی لئے پیدا کی گئی ہے کہ ان کے قلوب و اذہان مز کی ہوں ،ان کی روح میں بالیدگی پیدا ہو وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے احکام اپنے سامنے رکھیں ۔ان کا جھکنا اسی کے لئے ہو ۔ان کا اٹھنا اسی کے لئے ہو ۔ان کی قوتیں کمزوروں کی حفاظت کے لئے ہوں اور ان کی توانائیاں ضعیفوں کے حقوق کی نگہداشت میں کام آئیں ۔
آپ اندازہ لگائیں کہ رمضان المبارک کا یہ آخری جمعہ فوائد ملی کے اعتبار سے اپنے اندر کس قدر اہمیت رکھتا ہے ،رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی مسلمانوں میں جسمانی اور روحانی انقلاب پیدا کرنے کی مشق کا آغاز ہو جاتا ہے ۔انہیں خالص مجاہدانہ زندگی کا خوگر بنانے کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔ان کی نگاہوں کو خیانتوں سے اور ان کے دلوں کو کدورتوں سے پاک کرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔دن کے وقت ان سے حلال اور پاکیزہ چیزیں بھی چھڑوادی جاتی ہیں ،تاکہ یہ ماہ مبارک گزرنے کے بعد ان کے نفس حرام چیزوں کی طرف راغب نہ ہوں ۔پھر جمعۃ الوداع کے موقع پر انہیں ایک جگہ جمع کیا جاتا ہے کہ وہ مہینہ بھر کی مشق کا جائزہ لیں اور پوری دیانتداری کے ساتھ اپنا محاسبہ کریں ۔اس انقلاب کا جو ان کے اندر پیدا ہوا ہے ۔مرکزیت اتحاد اور اطاعت امیر کے مظاہرے سے تجدید ایمان کریں اور خالق کائنات کے حضور اس کی عملی شہادت پیش کریں ۔تربیت یافتہ ان مقدس انسانوں کی جماعت زندگی کے میدان میں جس مقصد کو بھی لے کر آگے بڑھے گی کامیاب و کامران ہو گی ۔
جمعۃ الوداع کی نماز میں عامۃ المسلمین بڑی کثیر تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔ان میں کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر باقاعدگی سے نماز نہیں پڑتے رہے ۔لیکن آ ج مسجد میں آئے ہوئے ندامت کی بھاری گٹھڑی اٹھائے ہوئے آئے ہیں ۔وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے کہ اے اللہ !سال گزشتہ میں ہم سے جو غلطیاں ،کوتاہیاں اور تقصیریں سرز دہوئی ہیں ،بالخصوص نمازوں کے سلسلے میں جو سستی ہو ئی ہے ،وہ اپنی رحمت خاص سے معاف فرما دے ۔ان توبہ کرنے والوں میں کئی ایسے ہوتے ہیں جو اس عفو طلبی اور اظہار پشیمانی کے بعد آئندہ سچے اور پکے نمازی بن جاتے ہیں ۔
علماء کرام فرماتے ہیں کہ عید اور جمعہ کے ان عظیم اجتماعات میں جہاں کثیر تعداد میں اہل اسلام جمع ہوتے ہیں وہاںاجتماعی دعا سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ حاضرین میں شامل کسی مقبول بارگاہ الہٰی شخصیت کی برکت سے سب حاضرین کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں ۔
آج جمعۃ الوداع ہے جو انتہائی عظمت و رحمت کا دن ہے۔ اسی طرح جمعۃ الوداع کے دن پوری دنیا کے مسلمان اس عظیم وبابرکت سال کے سب سے افضل ترین دن قبلہ اول کی آزادی کے لئے جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ وہ قبلہ اول بیت المقد س یعنی مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لئے ہر ممکن جدو جہد کریں گے۔
بیت المقدس ایک مقدس شہر یروشلم میں قائم اس عظیم عمارت کا نام ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام آسمانی مذاہب کے لئے بھی مقدس اور محترم ہے ۔ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان اسی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے ۔جب محبوب خدا ،شافع روز جزا ،حضور رحمت للعالمین ﷺ نے خواہش کا اظہار کیا کہ خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کی جائے تو رب کائنات نے خانہ کعبہ کو قبلہ کا عظیم درجہ عطا فرما دیا اور مسلمان خانہ کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز ادا کرنے لگے ۔اس سے ظاہر ہوتاہے کہ نبی کریم ﷺ کے چاہنے سے خالق کائنات تبدیلی قبلہ کا حکم صادر فرمادیتا ہے لہٰذا چاہت مصطفیٰ ﷺ اُصول شریعت کا درجہ رکھتی ہے۔
مسجد اقصیٰ کا ذکر قرآن پاک میں پندرہویں پارہ کے شروع میں آیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور رحمت عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو معراج جیسے عظیم معجزے سے سرفراز فرمایا تو پہلے آپ ﷺ مسجد حرام (بیت اللہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس )تک کا سفر طے کرکے بیت المقدس میں تشریف لائے ۔ مسجد اقصیٰ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور ﷺ نے یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام اور رسولوں کی امامت فرمائی اور کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور رسولوں نے آپ ﷺکی امامت میں نماز ادا فرمائی ۔اس سے ثابت ہوا کہ انبیاء کرام و مرسلین زندہ و جاوید ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوت سے آن واحد میں کہیں آجا بھی سکتے ہیں ۔کیونکہ نماز زندہ کے لئے عبادت ہے ۔سرکار مدینہ ﷺ کے اس عمل مبارک نے حیات الانبیاء کا عقیدہ واضح فرمادیا ۔
اسی اعزاز پر آپ کو امام الانبیاء کا شرف حاصل ہوا ۔مسجد اقصیٰ ہی سے آپ ﷺ معراج کے اگلے سفر کے لئے آسمانوں پر تشریف لے گئے اور لامکاں تک چا پہنچے ۔مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اوروہ نشانیاںجہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے برکتیں نازل ہوتی ہیں انبیاء کرام کے مزارات ہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اسی سر زمین پر ہوئی ۔قبل ازیں بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء کرام یہاں تشریف لائے ۔اسی وجہ سے اس کو انبیاء کی سر زمین کہاجاتا ہے ۔یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق یہی وہ جگہ ہے جہاں سلیمان علیہ السلام نے ہیکل سلیمانی تعمیر کروایا تھا جو مسجد اقصیٰ کے قریبی علاقہ میں واقعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری نشانیوں کی زیارت کرو ۔اللہ کی نشانیوں کی زیارت اور وہاں کی جانے والی دعائیں مقبول ہوتی ہیں جیسے صفا اور مروہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں قرار دیا ہے ۔بیت المقدس مسجد اقصیٰ قبلہ اول دنیا کی ایک چوتھائی قوم ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے لئے انتہائی متبرک ، محترم اور دینی و روحانی مقام ہے اور ہر مسلمان کا دل مچلتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کرے اور یہاں نماز ادا کرے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ’’ کوئی سفر اختیار نہ کر و سوائے تین مساجد کے ’’مسجد الحرام ‘‘’’مسجد نبوی ﷺ ‘‘’’مسجد اقصیٰ‘‘۔
کیونکہ دوسری کسی بھی مسجد کی نسبت مسجد الحرام میں عبادت کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ‘‘ مسجد نبوی میں نماز کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز وں کے برابر ہے ۔یہودیوں کے دعوے کے مطابق القدس ان کی ملکیت ہے اور وہ کسی صورت بھی اس سے دستبردار ہونے لئے تیار نہیں۔ اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی زبان کے ایک اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ یہودی تنظیموں نے اپنی حکومت اور یو کرائن کی مدد سے مسجد اقصیٰ کے اندر معبد بنانے کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ۔اس سے قبل اسرائیل وزیر سیاحت نے اعلان کیا تھا کہ مسجد اقصیٰ کی کھدائی سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کی کان ملی ہے جبکہ دوسری طرف حماس اور الاقصیٰ فائونڈیشن نے اس دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے ۔حماس نے کہا ہے اسرائیل سینکڑوں سرنگیں مسجد اقصیٰ میں کھود نے کے باوجود ہیکل سلیمانی کے آثار دریافت نہ کر سکا ۔ہیکل کے بارے میں یہودیوں کے ہاں تین نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں ۔
1: ہیکل سلیمانی عین اس مقام پر تھا جہاں قبۃ الصخرہ واقع ہے ۔یہ مؤقف یہود میں قبول عام کی حیثیت رکھتا ہے ۔
2: یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر آشر کوف جن کی تحقیق کے مطابق ہیکل قبۃ الصخرہ کے شمال میں قبۃ الروح کے اندر موجود پتھر کی جگہ واقع ہے جبکہ قبۃ الصخرہ کے شمال میں ایک سو دس میٹر یعنی تین سو تیس فٹ کے فاصلے پر واقع ہے ۔
3: تل ابیب کے ممتاز ماہر تعمیر توویاسا کیر کی رائے کے مطابق ہیکل قبۃ الصخرہ اور مسجد اقصیٰ کے درمیان عین اس جگہ واقع ہے جہاں فوارہ واقع ہے ۔
اسرائیل اپنے آقائوں خصوصاً امریکہ کی آشیر باد پر فلسطین اور بیت المقدس کا قبضہ چھوڑ نے پر تیار نہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کسی خاطر میں نہیں لاتا۔1967ء سے لے کر اب تک 700قراردادیں اسرائیل کے خلاف پاس ہو گئیں جن میں سے امریکہ نے 270قراردادوں کو ویٹو کر کے اسرائیل کے ناجائز وجود کو بچایا ۔دیگر قراردادیں اسرائیل نے مسترد کر دیں ۔امریکہ نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد پر ویٹو کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کر کے جہاں اسرائیل کے ناجائز وجود کو استحقاق بخشا وہاں یو این کے وجود کو غیر مؤثر اور عضو معطل بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ۔جب تک امریکہ اسرائیل کی ناجائز حمایت کرتا رہے گا اس وقت تک مڈل ایسٹ میں مظلوم فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی رہے گی ۔
اسرائیل کی غنڈہ گردی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے عربوں اور اسرائیل کے درمیان کئی جنگیں ہوچکی ہیں اور اب بھی اسرائیل مشر ق وسطیٰ میں قیام امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔صد افسوس کہ اقوام متحدہ ،جنرل اسمبلی میں یہود و نصاریٰ کے گٹھ جوڑ اور عالمی امن و انصاف کے دوہرے معیار کی وجہ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا ۔اسرائیل جارحیت پسندانہ عزائم رکھتا ہے اور یہودی ہر قیمت پر وسیع تر سیہونی سٹیٹ قائم کرنا چاہتے ہیں ۔اس مخصوص ذہنیت اور مذموم مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ کی مکمل آشیر باد سے اسرائیل کو ناقابل تسخیر بنایا جا رہا ہے ۔اس کی فوج جدید ترین اسلحہ سے لیس ہے ،اسرائیل نے پڑوسی ممالک کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔لبنان کے پہاڑی علاقہ ،اردن اور مصر کے صحرا سینائی کے علاقہ پر اسرائیل نے ناجائز غاصبانہ قبضہ جما رکھا ہے ۔
ان حالات میں قبلہ اول بیت المقدس کے تقدس کے تحفظ اور اس کی آزادی کے لئے پوری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرضیت کا درجہ اختیار کر چکا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالم اسلام بیدار ہو اور مسلمان حکمران غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیت المقدس کی آزادی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں اور وسیع تر اسرائیلی ریاست کے خواب اور یہودیوں کے تمام تر ناپاک عزائم اور مذموم ارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے دنیا کے اسلامی ممالک اپنی مشترکہ اسلامی فوج بنائیں اور مسلم اقوام متحدہ کا اعلان کر کے اس کے پلیٹ فارم سے قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی اور فلسطین ،کشمیر ،بوسینیا ،چیچنیا ،سوڈان ، صومالیہ ،عراق ، افغانستان ،فلپائن ،برما ،قبرص اور یونان کے مظلوم مسلمانوں کے سلگتے مسائل حل کرنے کے لئے اپنا بھر پور اور موثر کردار ادا کریں ۔
یہ ہر مسلمان کا مذہبی اور بنیادی حق ہے کیونکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ انسانی حقوق چارٹر کے مطابق کسی بھی قوم کے مذہبی مقامات پر نہ تو قبضہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کی عبادت گاہ پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے ۔ مگر صد افسوس کہ مٹھی بھر یہودیوں نے بین الاقوامی سامراج اور دہشت گرد طاقتوں کی آشیر باد سے 1967ء میں فلسطین پر ناجائز غاصبانہ قبضہ کر لیا اور بیت المقدس کا کنٹرول سنبھال کر اسے مسلمانان عالم کے لئے بند کر دیا گیا ۔
اس نازک مرحلے پر او آئی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ۔اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو اوآئی سی کا قیام اسی لئے عمل میں آیا تھا کہ مسجد اقصیٰ کو آزاد کرانا ہے اس مقصد کے لئے باقاعدہ طور پر القدس فنڈ اور القدس فورس کی منظور ی بھی دی گئی تھی ۔اب وقت آگیا ہے کہ القدس کی آزادی کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں ۔
جبکہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ فلسطین کے حوالے سے کوئی اہم فیصلہ ہونے سے پہلے او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے جس میں باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے کہ آزاد فلسطین کیسا ہونا چاہیے ۔مسلم دنیا خصوصاً فلسطین کے پڑوسی عرب ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھیں اور اپنے فلسطینی بھائیوں کی صرف حمایت ہی نہ کریں بلکہ سیاسی ،سفارتی ،مالی اور معاشی اعتبار سے بھی ساتھ ہوں اور اسرائیل اور امریکہ کو مقبوضہ فلسطین کو آزاد کرنے پر مجبور کریں ۔
جمعۃ الوداع یوم القدس کے موقع پر پوری دنیا کی مسلمان تنظیمیں ،جماعتیں اور افراد بیت المقدس کی آزادی کے لئے احتجاجی جلسے ،جلوس ،مظاہرے اور ’’القدس ‘‘ریلیاں نکالتے ہیں اور اپنے دلی جذبات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ان کو یوم القدس کے طور پر منانے کا آغاز ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ہوا ۔انقلاب ایران کے بانی نے کہا تھا کہ’’ یوم القدس ایک ایسا دن ہے جسے بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے۔اسے صرف سر زمین قدس سے ہی وابستہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ ظالم اورمظلوم کے درمیان مقابلے کا دن ہے ۔ ‘‘کیونکہ نصف صدی کے قریب بیت المقدس پر یہودی قبضہ اور بیت المقدس کے تقدس کی پامالی غیرت مسلم کو کھلا چیلنج ہے ۔غیور مسلمانو! بیت المقدس کی حرمت اور حفاظت در حقیقت ہمارے ایمان کی بنیاد ہے ۔ملت اسلامیہ کے حکمرانو! بیت المقدس کی آزادی ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آج مسجد اقصیٰ پکار پکار کر کہہ رہی ہے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور سپہ سالاروں میں کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی ،محمد بن قاسم یا محمود غزنوی جیسا سچا ،کھرا ،دلیر اور نڈر و بہادر مسلمان حکمران ،سپہ سالار ہے جو قبلہ اول کو یہودیوں کے نرغہ سے آزاد کر ا سکے ۔یوم القدس عالم اسلام کے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ آئیے! بیت المقدس کی آزادی کے لئے پوری دنیا کے مسلمان اپنے تمام تر اختلافات یکسر بھلا کر پوری طرح متحد ہو جائیں اور بیت المقدس کی آزادی ہر مسلمان کے دل کی آواز اور نعرہ بن جانا چاہئے
کیونکہ اب ہم ہی صلاح الدین ایوبی کے پیرو کار ہیں ۔ہم اسلاف کی یادوں کو تازہ کر کے اور ملتِ اسلامیہ کو ہر امتحان سے نجات دلا کر ہی حقیقی مسلمان اور فرض شفاس کہلا سکیں گے ۔

٭…٭…٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: