Gulshan Naz Today's Columns

حیدرآباد میں اسٹریٹ لائبریری کا قیام از گلشن ناز ( تعمیر نو )

Gulshan Naz
Written by Gulshan Naz

’’کتابیں زندگی بدل دیتی ہیں‘‘ کیوں کہ کتابیں بہترین ساتھی ہیں آپ کی تنہائی، پریشانی، مایوسی اور ناکامی کے وقت میں اگر خدا کی ذات کے بعد کوئی رہنمائی کرتی ہے تو وہ بھی ایک کتاب ہی ہے، ایک دور وہ تھا جب ہر گھر میں ایک کمرہ کتب خانے کے نام سے مختص ہوتا تھا اور حقیقت یہ تھی کہ جو کتابوں کا ذوق نہیں رکھتا، اس کا ذہن نیم تاریک بند گلی کی مانند سمجھا جاتا تھا کہ جس میں نئے خیالات و خوابوں کا گزر نہیں ہوتا، کتابوں کاانتخاب آپ کی شخصیت کو صاحب ذوق بناتا تھا پھر رات سوتے وقت سرہانے ایک اچھی کھلی کتاب دن بھر کی تھکن اتارنے اور میٹھی نیند میں بھی تحریر کے الفاظ ذہن میں سما ئے ہوئے ہوتے تھے جو صبح بیداری تک زندگی کی نء امنگیں جگانے کے لیے کافی ہوتی تھی اور صرف یہی نہیں بلکہ کتابوں کا مطالعہ پھر ان پر تبادلہ خیال خواہ تحریری ہو زبانی تعلیم یافتہ مہذب شخص کی شخصیت کا اہم خاصہ سمجھی جاتی تھی اور خواص و عوام ہر ایک میں کتب بینی سے کتب نویسی تک کا رجحان ہوتا تھا کیا امیر کیا غریب, شاہ و گدا سب ہی کتابوں سے عشق میں مبتلا تھے حتی کے کچی سڑک پر ریڑھی چلانے والے کو بھی کء اشعار ازبر ہوتے تھے ادب و شاعری معاشرت کا حسن تھا, علمیت پرکھنے کے لیے صآحب ذوق اور وسعت مطالعہ لازمی جُز تھا دلائل بر دلائل, تنقید برائے اصلاح کرنے والے لوگ وہ روشن شمعیں ہوا کرتے تھے جو معاشرے کی جہالت اور قبیح پہلوؤں کی گہری تاریکی کو اپنے علم کے خوبصورت سحر میں چھپالیتے تھے, پھر مطالعہ کی ہوئی کتاب احباب میں تقسیم کردینا ایک عجب قسم کی سخاوت ہوا کرتی تھی گویا دیے سے دیا جلتا تھا پھر ڈیجیٹل دور آیا جس کی مصروف زندگی نے انسان کو اس قدر سہل پسند بنادیا کہ اب اس کے پاس کتابوں کا وقت نہیں رہا اور اس مادی زندگی میں جہاں دیگر اہم روایات دم توڑ گئیں وہیں کتابوں سے رشتہ بھی کمزور پڑگیا,اب تو کتاب اور اہل کتاب اس دنیا میں عجیب الخلقت سمجھے جاتے ہیں جس کے ہاتھ میں مہنگا ترین اسمارٹ فون ہوتا ہے وہ امیر اور پرکشش سمجھاجاتا ہے جب کہ اگر انھی ہاتھوں میں کوئی اچھی کتاب دیکھ لیں تو لوگ یوں حیرانی سے دیکھتے ہیں کہ گویا گزرے زمانے کا ایک کردار سامنے بیٹھا ہو۔گویا کہ نظریں کہہ رہی ہوں کہ
’’اس عہد زر نگاری میں
کتابیں کون پڑھتا ہے
یہاں لفظوں کی حرمت کیا!
یہاں پیسوں کا سجدہ ہے‘‘
لیکن در حقیقت کتابیں تہذیب کی جان ہیں اور جنھیں تہذیب زندہ رکھنی ہیں وہ آج بھی کتابوں کے دلدادہ ہیں ایسی ہی ایک عمدہ کوشش شہر حیدرباد میں کی گء یہ اسٹریٹ لائبیری ہے, شہری انتظامیہ کے زیر نگرانی اس لائبریری میں مخلتف مضامین کی کتابوں کے علاوہ مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں مدد گار اہم کتابیں بھی شامل ہیں گرچہ بیش قیمت کتابوں کی ابھی کمی ہے لیکن راہ گیروں اور طلباء کے لیے تعمیری سوچ کی عکاسی کرتا ایک بہترین تفریحی مقام ہے جس میں دور تک ہریالی اور صاف ستھری کشادہ سڑک کے پار پل کے نیچے اس جگہ کو اتنی نفاست اور خوبصورتی سے آراستہ کیا گیا ہے کہ ٹریفک کا شور بھی آپ کے ذوق میں مخل نہیں ہوسکتا اور نزدیک ہی ایک چھوٹا سا مصنوعی پارک دور تک نظارے کو ایک دلفریب لطف دیتا ہے سویرے سویرے اس جگہ کتب بینی کا اپنا ہی مزہ ہے حیدرآباد کے شہریوں اور حیدراباد میں نئے آنے والے لوگ اس جگہ ضرور جائیے اور ایک قابل تحسین کاوش میں اپنی موجودگی پیش کرکے اس لائبریری کو رونق بخشیے
کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ ہم سے روٹھ جائے اور یہ کتابوں سے عشق کی آخری صدی نہ بن جائے, اپنی تہذیب اور ذوق کو زندہ رکھیے
بقول سعود عثمانی صاحب کے
’’مجھے تو سانس بھی نہ آئے اک ایسے گھر میں جہاں,
کوئی پرندہ نہ ہو اور کوئی کتاب نہ ہو‘‘

٭…٭…٭

About the author

Gulshan Naz

Gulshan Naz

Leave a Comment

%d bloggers like this: