Today's Columns Umer Farooq

پورپی پارلیمنٹ کاخطرناک مطالبہ از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

ہماری حکومت فرانس کے سفیرکو نکالنے کی قرارداد منظور نہ کر سکی لیکن یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کے خلاف قرارداد منظورکرلی،یورپی پارلیمان میں جمعرات کو پیش کی جانے والی اس قرارداد جس کے حق میں 662 اور مخالفت میں صرف تین ووٹ ڈالے گئے، اس میں پاکستان کی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کے قانون کی دفعات 295 سی اور بی کو ختم کرے۔اس قرارداد میں حکومت پاکستان سے انسداد دہشت گردی کے 1997 کے قانون میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جائے اور توہین رسالت کے مقدمات میں ملزمان کو ضمانتیں مل سکیں۔
ہمارے وزیراعظم نے فرانس کے سفیرکی ملک بدری کے معاملے پرعوام کویہ فلسفہ سمجھایاتھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالنے سے پاکستان کو معاشی نقصان ہو گااب یورپی آقائوں نے معاشی نقصان سے آگے بڑھ کرپاکستان کویہ کہہ دیاہے کہ گھر کی صفائی نہ کی گئی تو پاکستان کو سفارتی، سیاسی اور معاشی مسائل بھگتنا ہوں گے،اور توہین رسالت کے قوانین ختم نہ کرنے کی صورت میں 2014 میں پاکستان کو جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی) پلس کے تحت دی گئی تجارتی رعایتوں پر فی الفور نظرثانی کی قراردادبھی منظورکرلی ،اوریو ں ہمیںنہ خدا ہی مِلا ۔ نہ وِصال صنم۔نہ اِدھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
موجودہ حکومت نے مغربی آقائوں کی خوشنود ی اورایجنڈے کی تکمیل کے لیے جوکچھ کیاہے اتناماضی کی کوئی بھی حکومت نہیں کرسکی ہے مگرپھربھی ،،ڈومور،،کامطالبہ کیاجارہاہے اوراب براہ راست توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کامطالبہ آگیاہے حکومت کے پاس سارے ارسطودماغ موجودہیں وہ اس کاحل نکالنے کے لیے ضرورسوچ رہے ہوں گے مگرہمیں دیکھناہوگاکہ ہم نے اب تک جوکیاہے اس پرہمیں کیاتحفہ ملاہے ،کیوں کہ ہمارے پاس اب کھونے کوکچھ رہانہیں ہے ہم نے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنی آزادی ،خودمختاری ،سلامتی سب کچھ دائوپرلگادیاہے ۔
ہماری حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی ایماء پرایسے اقدامات کیے ہیں کہ ملک کی نظریاتی بنیادیں تک ہلادیں،انڈین طیاروں نے ہمارے ملک کے اندرآکربم برسائے اورہماری بہادرافواج نے 24گھنٹے میں اس کاجواب دیتے ہوئے نہ صرف انڈین طیارے گرائے بلکہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوزندہ گرفتاربھی کرلیامگرہماری حکومت نے انڈین پائلٹ کوپھولوں کے ہارپہناکرواپس بھیج دیاکیوں کہ ہم عالمی دبائو برداشت نہیں کرسکے ،بھارت مقبوضہ کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کرگیااورہم جہادکشمیرختم کرتے ہوئے صرف تقریرکرتے رہے گئے ،تقسیم کشمیرکے منصوبے کوعملی جامہ پہنایا،ایف اے ٹی ایف کی ایماء پرہم نے وہ کارنامہ سرانجام دیاجوپہلی حکومتیں کرنے سے گھبراتی تھیں چارعشروں سے قائم جہادی تنظیموں کوختم کردیاجہادی رہنمائوں کوپابندسلاسل اوران کے اثاثے ضبط کرلیے گئے مگروہ پھربھی راضی نہیں ہوئے ۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس( FATF)کی ایماء پرایسی قانون سازی کی ملک کی مساجدومدارس عالمی اداروں کے سامنے گروی رکھ دیئے اوروقف املاک ایکٹ 2020جیساکالاقانون نہ صرف پاس کیابلکہ عملی طورپرنافذکردیامساجدومدارس کے لیے چندے کے حصول کوناممکن بنادیامگرایف اے ٹی ایف کی طرف سے ابھی بھی ہل من مزیدکامطالبہ کیاجارہاہے ۔ہم نے توہین رسالت کی ملزمہ آسیہ مسیح سمیت آدھے درجن سے زائدملزمان کورہاکیا مگرہم پراب بھی الزام ہے کہ اس قانون کاغلط استعمال ہورہاہے،یورپی پارلیمنٹ کی بے باکی کااندازہ لگائیں کہ توہین رسالت کے مقدمے میں گرفتار شفقت ایمانوئیل اور شگفتہ کوثر کی رہائی کامطالبہ کیاگیاہے یہ سیدھاسیدھا ہماری خودمختاری پرحملہ ہے ، حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں توہین رسالت کے قانون کے تحت ابھی تک کسی بھی مجرم کو موت کی سزا نہیں دی گئی ہے اورزیادہ ترمقدمات بھی اقلیتوں کے خلاف نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے لیکن اس کے باوجود اس قانون کوختم کرنے کامطالبہ کیاجارہاہے ،
ستم ظریفی یہ ہے کہ یورپی پارلیمنٹ اتنی حساس ہے کہ توہین رسالت کے بڑے ملزم ملک فرانس کے خلاف پاکستان میں ہونے والے مظاہروں اور ‘حملوں’ کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے اور پاکستان میں پائے جانے والے فرانس مخالف جذبات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث فرانسیسی شہریوں اور فرانسیسی کمپنیوں کو عارضی طور پر پاکستان سے نکلنا یا محتاط رہنا پڑا ہے۔اس کاصاف مطلب یہ ہے کہ ہم آپ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی مرضی توہین کریں یہ ہماراحق ہے اورتمھیں اس کے خلاف احتجاج کابھی حق نہیں ۔یورپ اورمغرب کی آزادی اظہاررائے کے گن گانے والے اندازہ لگائیں کہ یورپی پارلیمنٹ نے اسلام دشمن اخبار چارلی ہیبڈو کی کئی عشروں سے مسلم دشمنی اور فرانسیسی حکومتی عہدے داروں کی ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر ایک لفظ بھی نہیں کہا
ہم نے مغربی آقائوں کوراضی کرنے کے لیے قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کوشامل کرنے کی کوشش کی ،ختم نبوت حلف نامہ تبدیل کرنے کی کوشش کی ،اقتصادی کونسل میں قادیانی مشیربنانے کااقدام کیا مگرہمارے مقدرمیں رسوائی کے سواکچھ نہ آیاہمارے وزیراعظم نے مساجدومدارس کونکیل ڈالنے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کابیڑہ اٹھایاتاکہ یورپی اورمغربی آقائوں کوملک کاروشن چہرہ دکھاسکیں اس کے لیے سات سے آٹھ ارب روپے کی لاگت سے کرتارپورہ راہداری کھولی ،جن جن علاقوں میں ہندوں اورسکھوں کاوجود بھی نہیں تھا مگرہماری حکومت نے فیصلہ کیاکہ ایک ہزارسے زائدبندمندرکھولے جائیں گے اب تک چارسوسے زائدمندربحال ہوچکے ہیں ،اسلام آبادمیں مندربنانے کی کوشش کی ، پانچ سوگوردواروں کی بحالی کاکام شروع ہے مگریورپ اوربھارت پھربھی خوش نہیں ہوئے ۔
ہم نے عالمی طاقتوں کے دبائو پراسرائیل کے خلاف نرم رویہ اپنایاقومی اسمبلی میں اسرائیل سے تعلقات کی بات کی گئی ،افغان طالبان کوامریکہ سے صلح پرمجبورکروایایکساں نصاب تعلیم کامنصوبہ بنایااورپھراس یکساں نصاب تعلیم سے اسلامیات کوخارج کرنے کااہتمام کیااین جی اوزکی ایماء پرعصری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کاحلیہ بگاڑامگریورپی آقا نہیں مانے اورانہوں نے مطالبہ کردیاکہ ابھی ہماراایجنڈہ مکمل نہیں ہوااس لیے مزیدآگے بڑھیں
یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے جومطالبہ سامنے آیاہے یہ نہایت خطرناک ہے کیوں کہ یہ قانون عملامعطل ہے اس قانون سے ملزمان کوتحفظ مل ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی ملزم کواس قانون کے تحت سزانہیں دی گئی اس کے باوجود اگرملک سے توہین رسالت کاقانون ختم ہوگیاتوپھرگلی گلی محلے محلے لوگ انصاف کرتے پھریں گے سوال یہ ہے کہ یورپی پارلیمنٹ یہ چاہتی ہے کہ آئندہ توہین رسالت کے واقعات پرعوام خود فیصلہ کریں ؟یہ اقدام ملک میں آگ لگانے اورفسادپھیلانے کی سازش ہے ،اس حوالے سے ہمیں دیکھناہوگاکیوں کہ پی ٹی آئی کی حکومت مہنگائی سے لے کربے روزگاری تک تمام ناکامیوں کی ذمے دارسابقہ حکومتوں کے کھاتے میں ڈال کرخودبری الذمہ ہوجاتی ہے کہیں یہ نہ کہہ دے کہ قانون توہین رسالت بھی سابقہ حکومتوں نے بنایاہے ہمارااس میں کوئی عمل دخل نہیں اس لیے اس معاملے پرخصوصی طورپربیداررہناہوگا ۔

٭…٭…٭

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: