Syedah Hashmi Today's Columns

محبت ِ رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے از سیدہ ہاشمی

Syedah Hashmi
Written by Todays Column

’’بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو‘‘۔
اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی سورہ الاحزاب میں اپنے اس محبوب جس کے لیے اس کائنات کو تخلیق کیا ان کی محبت میں جب درود و سلام کے متعلق ارشاد فرماتا ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی محبت میں درود و سلام پڑھیں۔
علامہ ثاقب رضا مصطفائی صاحب فرماتے ہیں ’’جب کوئی حضور ﷺ کا ہو جاتا ہے تو اللہ پاک بھی اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے کیونکہ حضور ﷺ کی محبت خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے۔‘‘محبت کے جملہ تقاضوں میں سب سے بڑا تقاضا محبوب کی اطاعت ہے کہ بندہ جس سے محبت کرے اسکی ہر بات پرسرِ خم تسلیم کرے اور ایک مسلمان کے لیے، امتی کے لیے اپنے پیارے نبی ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں اور اسے اپنی جان،مالاوراولاد سے زیادہ آپ ﷺ کی عزت و محبت عزیز ہے اور ناموسِ رسالت کا تحفظ کرنے کے لیے وہ اپنی جان کی بھی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ محبت ِ رسول میں ہزاروں بلکہ کروڑوں جانثاروں نے اپنا سب کچھ آپ ﷺ کے نام پہ وار دیا ۔اسکی عظیم مثال ہمارے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ہیں وفا اور دوستی کا پیکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے غارِثور میں اپنے آقا کے لیے غار کو صاف کیا اور اپنی چادر کے ٹکڑے ٹکڑے کر کہ غار کے سوراخوں کو بند کر دیا اور جو اک سوراخ باقی بچا اس پہ اپنی ایڑھی مبارک رکھ دی اور سانپ کے وار سہتے رہے لیکن منہ سے کچھ نہ بولے کہ پیارے نبی ﷺ کے آرام میں خلل نہ آئے۔
اسی طرح ہجرت کے مو قع پہ جب آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ کے بستر مبارک پہ تشریف لے جائیں اور صبح ہوتے ہی امانتیں امینوں کو دے دیں جائیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ باہر دشمنوں کی فوج ہے جو جان کی دشمن ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے خوف و خطر بستر پہ تشریف لے گئے۔
اسی طرح ایک اور صحابی حضرت معصب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو قبولِ اسلام سے پہلے خوش پوشاک ہوا کرتے تھے اور خوشبو لگایا کرتے تھے کہ معصب جن گلیوں سے گزرتے وہ گلیاں مہکتی رہتی تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ یہاں سے معصب گزر کے گیا ہو گا ۔اس لیے گلیاں مہک رہی ہیں لیکن جب آپؓ کی نظر پیارے نبی ﷺ کی اسیر ہو گئی تو ماں کافرہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سب آسودگیاں چھین لیں اور آپؓ نے محبتِ رسول ﷺ میں سب کچھ قربان کر دیا اور بالآخر شہادت کا عظیم رتبہ پایا۔
امام شافعی کہتے ہیں کہ ’’میرے محبوب ﷺ کا زکر کرو۔ان کا ذکر اک ایسی کستوری ہے کہ تم جوں جوں تزکرہ کرتے جائو گے خوشبو پھیلتی چلی جائے گی۔‘‘ اسی طرح صحابہ کرام کے نقش ِ قدم پہ چلتے ہوئے ہمارے اسلاف نے اپنا تن من دھن سب کچھ آپ ﷺ کے نام پہ وار دیا۔ قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور لیکن منہ سے اف تک نہ نکلا ۔نکلاتو یہی نکلا:
’’لبیک! لبیک! یارسول اللہ!‘‘بریلی کے تاجدار امام احمد رضا خان لکھتے ہیں :
حُسن یوسف پہ کٹی مصر میں انگشتِ زنا
سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ
مردان ِ عرب!
آئیے چلتے ہیں اک مردان عرب کے لازوال عشق کی داستان غازی علم دین شہید کی طرف۔
1923میں جب ہندو راجپال جوگی نے اپنی کتاب میں حضور پاک ﷺ کی شان میں گستاخیاں کی اورکتاب کی اشاعت سے امت ِ مسلمہ میں اک کہرام برپا ہو گیا ۔مسلمانوں نے احتجاجی جلوس نکالے تو ایسے میں غازی علم دین جیسے نڈر و بہادر اور سچے عاشقِ رسول نے راج پال کو جہنم واصل کیا اور تھانے جا کر گرفتاری دیدی۔ قائداعظم محمد علی جناح رحْمَۃُ اللہ علیہ نے ان کا مقدمہ لڑنے کو اپنے لیے قابلِ فخر محسوس کیا۔ قائد اعظم ؒ نے غازی سے کہا ’’آپ ایک مرتبہ کہہ دیں کہ جب آپ نے راجپال کو قتل کیا اس وقت آپ ہوش میں نہیں تھے۔‘‘ اگر آپ اس طرح بولتے ہیں تو میں آپ کی سزا معاف کرا سکتا ہوں تو غازی علم دین محبت سے چور لہجے میں مخاطب ہوئے’’کہ ساری عمر میں اسی وقت تو ہوش میں آیا تھا جب ہندو جوگی کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔‘‘
31 اکتوبر 1929 کو غازی علم دین کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ علامہ اقبال رحْمَۃُ اللہ علیہ جیسے مفکر اور عظیم شاعر نے غازی ؒ کی قسمت پہ رشک کیا غازی علم دینؒ کی تدفین کے وقت علامہ اقبال ؒ کے یہ الفاظ آنکہوں کے گوشے نم کر دیتے ہیں کہ ’’ہم پڑھے لکھے رہے گئے اور ترکھانوں کا بیٹا بازی لے گیا۔‘‘ پھر دنیا نے اس عاشقِ رسول کی قسمت پہ رشک کیا
اسی طرح غازی عامر عبدُالرَّحمٰن چیمہؒ جنہوں نے پیارے نبی ﷺ کی محبت میں شہادت کا جام نوش کیا ۔جب 20 ستمبر 2005 میں ڈنمارک کے اک اخبار میں پیارے نبیﷺ کے متعلق توہین آمیز خاکے شائع کیے گئے توجر منی میں اپنی تعلیم کے حصول کے لیے رہنے والے غازی عامر چیمہ ؒ نے متعلقہ اخبار کے ایڈیٹر کو پہ در پہ وار کر کے جہنم واصل کیا ۔جرمن پولیس نے انھیں گرفتار کر لیا۔ڈرل مشین سے آپ ؒ کے گھٹنوں میں سوراخ کیے گئے، استری سے آپ ؒ کا جسم داغا گیا، پلاس سے آپ ؒ کے ناخن کھینچے گئے غرض یہ کہ جرمن پولیس نے کئی دنوں تک آپ کو ذہنی اور جسمانی تشدر کا نشانہ بنایا ۔اس موقع پہ عامر چیمہ ؒ کو تفتیشی آفیسر نے رہا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیلی ویژن پہ آ کر کہیں کہ ’’وہ ذہنی مریض ہیں، دماغی طور پہ تندرست نہیں، یہ قدم محض جذبات میں آ کر اٹھایا گیا ہے۔ اس عمل کا مذہب سے کسی قسم کا کو ئی تعلق نہیں اور یہ بھی کہ وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں۔‘‘ غازی عامر ؒ نے یہ باتیں نہایت تحمل سے سنیں اور اچانک سے شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے اس آفیسر کے منہ پر تھوکا اور روتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے یہ سب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ مجھے اپنے عمل پہ بے حد فخر ہے۔ یہ میری زندگی کا کل سرمایہ ہے ۔آپ ﷺ کی عزت و ناموس کے لیے ایک تو کیا ہزاروں جانیں بھی قربان ہیں۔‘‘ یہ سن کر جرمن پولیس نے آپ ؒ پہ بے تحاشا تشدد کیا اور بالآخر غازی عامر چیمہ ؒ نے شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کر لیا۔
اسی موقع پہ تاجدار بریلی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان لکھتے ہیں :
کروں تیرے نام پہ جاں فدا
نہ بس ایک جہاں دو جہاں فدا
دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا
کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں
اس طرح غازی ممتاز قادری ؒ ہیں جنہوں نے سلمان تاثیر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا اور پھانسی کا پھندہ چوم لیا ۔تاریخ کے پنے پلٹیں تو تاریخ بھری پڑی ہوئی ہے ایسے عاشوں سے جنہوں نے آپ ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ۔مولانا خادم حیسن رضوی ؒ اور کئی ایسے بزرگ ہیں جو اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی عزت کی خاطر لڑتے رہے اور دنیا نے ان عظیم ہستیوں کی قسمت پہ رشک کیا۔
علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں :
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ پیارے نبی ﷺ کی محبت نصیب فرمائے اور ان کے غلاموں میں ہمارہ بھی نام شامل کر دے ،آمین

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: