Dr Rahat Jabeen Today's Columns

اللہ کا مہمان ماہ ِ رمضان ۔ مطلوب و مقصود کیا ہے ؟ از ڈاکٹر راحت جبین ( لمحہ فکر )

Dr Rahat Jabeen
Written by Dr Rahat Jabeen

ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اس کی تیاریاں بھی عروج پر پہنچ جاتی ہیں اور ہر کوئی اپنے مزاج کے مطابق مصروف عمل ہوجاتا ہے. کچھ لوگ عبادات کو مد نظر رکھتے ہیں اور کچھ مادی اشیاء کے حصول کو مقدم جانتے ہیں. بازاروں میں رش بڑھتا ہے. لوگوں کو آمد رمضان سے پہلے ہی رمضان اور عید کی مناسبت سے خریداری کی فکر لاحق ہو جاتی ہے جب کہ تاجر اور کاروباری حلقے کو اپنے کاروبار اور دولت کو دگنا کرنے کی فکر ستانے لگتی ہے کیونکہ پاکستان میں رمضان پاک ہمیشہ مہنگائی سے وابستہ ہوتا ہے یہاں آمد رمضان کی خبر اور وہاں مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر بوتل سے نکل آتا ہے. رمضان المبارک جہاں ایک طرف شیطان کی بندش کی نوید لاتا ہے تو دوسری جانب ایمان کی رمک سے ماورا افراد کے نفس کا شیطان اس کی کسر پوری کرتا ہے. غریب عوام جو عام اوقات میں ایک وقت فاقہ کرتی ہے. رمضان شریف میں پیٹ پر پتھر باندھ کر سونے پر مجبور ہوتی ہے.

”رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور رہنمائی کرنے والی اور امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پالے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے”
(بقرہ 185)
اس آیت کی رو سے رمضان پاک کا مہینہ قرآن پاک کے نزول کا مہینہ ہے, قرآن اللہ تعالی وہ کتاب ہے جو کتابوں میں اعلی ہے. جس مہینے میں نازل ہوا, وہ عبادت اور تقوی کا مہینہ ہے اور تمام مہینوں میں افضل ہے. جس پیغمبر پر اتارا گیا وہ تمام انبیاء کے سردار ہیں اور جس کی امت تمام امتوں میں اونچے درجے پر فائز ہے اور جن کی شفاعت کا وعدہ رسول اقدس ﷺ کی ذات نے خود کیا ہے. مگر ہم نے اس رحمتوں اور برکتوں کے مہینے کو دولت کے حصول کا مہینہ بنا لیا. رمضان کی اصل تیاریوں کو بالائے طاق رکھ کر خرید و فروخت کو اپنا مقصد بنا لیا. اس ماہ نیکی کا بازار سرد اور فسق فجور کا بازار گرم ہوتا ہے. دکاندار اور تاجر طبقے کی تو رمضان میں ہی عید ہو جاتی ہے.
مسلمان اگر چاہے تو اپنے اعمال سے مومن کا درجہ حاصل کر سکتا ہے مگر تقوی اور پرہیز گاری کے راستے پر چلنا اولین شرط ہے.روزے کا اصل مقصد بھی تقوی ہے لیکن تقوی کیا ہے؟ تقوی اپنے لیے صبر اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کا نام ہے. صبر یہ نہیں کہ آپ صرف بھوک پیاس برداشت کریں. جیسا کہ حدیث میں ہے کہ
” بعض روزے داروں کو سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوگا”
”جس نے بد زبانی اور جھوٹ نہ چھوڑا تو اللہ تعالی کو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں”.
یعنی بھوک پیاس کے علاوہ زبان, آنکھ اور ہاتھ بھی کنٹرول میں ہوں. زبان سے گالی گلوچ اور غیبت نہ کرے, آنکھ سے فحاشی والی چیزیں دیکھنے سے اجتناب کرے اور ہاتھ سے کسی کو جسمانی ایذا یا گزند نا پہنچائے اور چوری چکاری سے بچے.
”اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں. جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے ماننے والوں پر روزے فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی پیدا ہو”. (بقرہ 183)

شان رمضان دیکھیں کہ اس مہینے میں جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں, رزق کی فراوانی ہوتی ہے. چاروں اطراف برکتوں کا نزول ہوتا ہے جبکہ جہنم کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور شیاطین پابند سلاسل ہوجاتے ہیں. احادیث میں روزے کو ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے جسے پکڑ کر جنت تک رسائی ممکن ہوجاتی ہے کیوں کہ جنت کا ایک دروازہ ”باب ریان” جس سے صرف روزے دار ہی گزر سکیں گے. اللہ تعالی فرماتے ہیں ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا”.
ایک سچا مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں رمضان شریف کی رحمتوں اور برکتوں سے مسفید ہونے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے رب کائنات کی شب و روز عبادت کرنی چاہیے ساتھ ہی اللہ کی رضا کے لیے بھوکا پیاسا رہ کر ارد گرد کے غریب اور سفید پوش طبقے کی تکالیف کو محسوس کرکے ان کی مدد کرنا بھی افضل ہے. اس سلسلے میں ایک لائحہ عمل بنا کر خلوص نیت سے اس پر عمل کریں. رمضان مبارک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ایک خصوصی مہمان کا درجہ دے کر اس کے استقبال کی تیاری یہ سوچ کر کریں کہ شاید اگلے سال یہ ماہ نصیب ہوگا یا نہیں.
اس سلسلے میں سب سے پہلے تو عبادت کی نیت سے گھر میں ایک بھرپور ماحول بنائیں, اگر ممکن ہوسکے تو الگ کمرہ ترتیب دیں, جہاں بغیر خلل عبادت کی جاسکے. فرض نمازوں کے علاوہ باقی عبادات کے لیے وقت مختص کریں. ایسے اعمال جو وقت کو ضائع کرنے کا موجب ہیں ان سے حتی الامکان اجتناب برتیں. جیسے زیادہ کھانا, زیادہ بولنا زیادہ سونا, ٹی وی دیکھنا, موبائل استعمال کرنا وغیرہ وغیرہ.
روزانہ کلام پاک بمع ترجمہ و تفسیر پڑھیں. روزے کے بنیادی اور اہم آداب و مسائل اور احادیث کی کتابوں کے تفصیلی مطالعہ کو بھی اپنے اوپر لازم کریں. یہاں مقصد صرف تلاوت کرنا یا مطالعہ کرنا ہی نا ہو بلکہ کوشش کریں کہ کچھ سبق حاصل کرکے اس پر عمل کریں.
جن فرض نمازوں کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی ہو ان کی ادائیگی کو لازمی بنائیں. خصوصی نوافل کا اہتمام کریں. ممکن ہو تو آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھنے کی نیت رکھیں. دعاؤں کو اپنی نمازوں کا اہم جز بنائے کیونکہ روزے دار کی دعا اللہ کے نزدیک بہت اہمیت رکھتی ہے, خصوصاً افطار سے پہلے جو دعا کی جائے اسے شرف قبولیت ملتی ہے. اس کے علاوہ اللہ کی نافرمانی اور ناراضگی سے بچنے کی کوشش کریں. زکات کی ادائیگی مستحق افراد تک یقینی بنائیں.
سب سے اہم یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت پر عمل کریں. کیوں کہ رحمت اللعالمینﷺ کی خوشنودی میں ہی رب اللعالمین کی خوشنودی پوشیدہ ہے
٭…٭…٭

About the author

Dr Rahat Jabeen

Dr Rahat Jabeen

Leave a Comment

%d bloggers like this: