Prof Abdullah Bhatti Today's Columns

روٹی از پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ( بزمِ درویش )

Prof Abdullah Bhatti

سحری کے بعد نماز ذکر اذکار کے بعد میں ابھی نیند کے جھولوں پر سوار ہو ا ہی تھا کہ کسی نے آکر ڈور بیل کو بجانا شروع کر دیا سحر ی کے کھانے کا خمار رات کا جاگنا میرا بلکل موڈ نہیں تھا کہ کسی سے ملاقات کروں لیکن آنے والا اخلا قیات کا جنازہ اٹھا نے کے موڈ میں تھا اُس نے جب مسلسل ڈور بیل کو بجایا پسند کا رد عمل نہ پا کر اُس نے دروازے کو پیٹنا شروع کر دیا اِس طرح اُس نے اپنے فولادی عزائم کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ملے بغیر نہیں جائے گا اُس کا جوش ولولہ آہنی ارادہ دیکھ کر میں نے شکست تسلیم کی اور گداز آرام دہ بستر کو چھوڑ کر دروازے کی طرف بڑھا تیزی سے جاکر دروازہ کھولا تو سامنے پچاس سال سے اوپر کی نارمل شکل و صورت کی عورت ڈبل ماسک چہرے پر سجائے کھڑی تھی پر یشانی گھبراہٹ بے چینی اُس کی آنکھوں اور چہرے سے چھلک رہی تھی میں شدید غصے میں دروازے تک آیا تھا ساتھ ہی میں اخلاقی لیکچر دینے کے موڈ میں تھا کہ غصہ اور میرا لیکچر میرے انگ انگ سے ابل رہا تھا لیکن پریشان خوف میں لپٹی عورت کو دیکھ کر اخلا قی لیکچر کو ٹال کر سوالیہ نظروں سے وارد ہونی والی پریشان حال عورت سے پوچھا باجی آپ کون ہیں اور ہمیںکس جرم کی سزا دینے آئی ہیں نہ آپ نے وقت لیا ہے اور نہ ہی کسی کے آرام کا خیال کیا ہے خیر ہے آپ کی اِس یلغار کی وجہ کیا ہے تووہ بولی پروفیسر صاحب میں بہت پریشان ہوں میرے میاں کو کرونا ہو گیا ہے وہ پہلے ہی بہت بیمار ہیں کسی ہسپتال لے کر نہیں جاسکتی کیونکہ پہلے تو کوئی ہسپتال ان کو لے گا ہی نہیں اگر لے بھی لیا تو یہ دو دنوں میں ہی وہاں مر جائیں گے ساتھ ہی رونا چیخنا شروع کر دیا خدا کے لیے میر ی مدد کریں میں بہت پریشان ہوں کسی نے آپ کا بتایا کہ آپ روحانی علاج کر تے ہیں اِس لیے میں اُن کو لے کر آپ کے گھر آئی ہوں آپ ان کو دم کر یں کوئی طریقہ بتائیں تاکہ وہ ٹھیک ہو جائیں اُس کی بات سن کر میں بولا آپ کے سر کے تاج کہاں پرہیں ان کو لائیں تاکہ میں کچھ کر سکوں میں اُس کی ہر بات مان کر اُس سے جلدی جان چھڑانا چاہتا تھا اُس بیچاری کو پتہ نہیں کس نے میرے پیچھے لگا دیا تھا کرونا کا علاج وہ بابوں سے کراتی پھر رہی تھی میں اُس کے مطابق ڈرل کر نے کو تیار تھا کہ وہ جیسے کہے گی میں کر دوں گا تاکہ اُس کی تسلی ہو جائے اور وہ چلی جائے آئیں سر میرے ساتھ میرا خاوند بہت بیمار ہے کار میں موجود ہے اب میںاُس کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا سامنے کھڑی کار کی طرف چلا آیا جہاں پر ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ نما پنجر فرنٹ سیٹ پر مدد طلب نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا اُس کے منہ پر آکسیجن لگی تھی وہ آکسیجن سلنڈر گاڑی میں لیے پھر رہے تھے بقول اُ ن کے آکسیجن نہ لگائیں تو سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں مریض کی آنکھوں میں موت کی زردی رقص کر رہی تھی اُس کی حالت زار بتا رہی تھی کہ زندگی کی ڈور اب کچے دھاگے سے بندھی ہوئی ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے مرض الموت امر بیل کی طرح اُس کی ہڈیوں میں اُتر کر اُس کو موت کے قریب کرتی جارہی تھی میں نے جاتے ہیں عورت اور مریض کی خوشنودی کے لیے قرآنی آیات پڑھ کر اُس پردم کر نا شروع کر دیا اِس دوران میں مریض کا جائزہ بھی لے رہا تھا اِس کو خوراک کی نالی لگی ہوئی تھی اِس کا مطلب تھا اُس کی خوراک کی نالی بند ہو چکی تھی یا پھر گلے میں سوزش تھی یا معدے نے کام کر نا بند کر دیا تھا بہر حال وہ شدید بیماری میں تھا خوراک کی عدم دستیابی سے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکاتھا قوت مدافعت نہ ہونے کے برابر جسم کے تمام نظام کام چھوڑ چکے تھے جسمانی نظام سست روی کا شکار ہوئے تو جسمانی اعضا نے بھی کام کر نا چھوڑ دیا اب وہ موت کی دہلیز پر پڑا موت کے قدموں کی چاپ سن رہا تھا میں دم کر رہا تھا تو بیوی بات کررہی تھی ان کا معدہ کام کر نا چھوڑ چکا ہے گلا بند ہو گیا ہے دنیا کی تمام نعمتیں اپنا منہ موڑ چکی ہیں ایک سال سے روٹی کا ایک نوالا حلق سے نہیں اُترا پروفیسر صاحب یہ روٹی کب کھائیں گے اِن کا معدہ کب کام کرے گا یہ ٹھیک ہو جائیں گے ناں وہ بہت ساری باتیں کر رہی تھی میں جو حوصلہ دے رہا تھا لیکن مریض کی حالت بتا رہی تھی کہ صحت اس سے روٹھ چکی ہے اب موت کے سائے اُس پر منڈلا رہے تھے طاقت جوانی رگوں میں دوڑتا خون سرد ہو گیا تھا اچھلتا کودتا خون اور جوانی کی حرارت کی جگہ اب بیماری تھی جو دیمک کی طرح اُس کو چاٹ رہی تھی پتہ نہیں جوانی میں اِس سے کونسی غلطی گناہ ہوا تھا کہ زندہ لاش ہڈیوں کا بنجر بنا یہ زندگی کی بھیک مانگتا پھر رہا تھا لیکن صحت کی دیوی لگتا روٹھ چکی تھی میں نے جب بیوی کی بات سن لی تو کہااب آپ جائیں میں دعا کروں گا تو وہ بولی ابھی تو میں پانی وغیرہ نہیں لائی ڈرائیور کے ساتھ اِن کی دوائیاں پانی وغیرہ بھیجتی ہوں ان پر دم کر دیجئے گا تاکہ یہ جلدی ٹھیک ہوجائیں میں نے بحث کرنا مناسب نہ سمجھا اور تابعداری سے کہا ٹھیک ہے بہن جی آپ شام کو بھیج دینا میں دم کر دوں گا لہذا وہ چلی گئی پھر رات کو اُس کا ڈرائیور بہت ساری دوائیاں پانی وغیرہ لے کر آگیا اوربولا سر جی دم کر دیں لیکن اِس نے اب ٹھیک نہیں ہو نا ڈرائیور کی یہ بات سن کر میں چونک گیااور بولا کیا یہ تم کیا کہہ رہے ہو تم اُس کے ڈرائیور ہو تم اُس کو صحت مند نہیں دیکھنا چاہتے تو وہ بولا سر جی آپ درویش لوگ ہیں آپ کے ساتھ سچ بولنا چاہیے میرے مالک کو اُس کے گناہوں کی سزا مل رہی ہے اب خدا کی لاٹھی حرکت میں آچکی ہے اب یہ اِس کو سزا مل رہی ہے ڈرائیور کی بات سن کر میں فل متوجہ ہو گیااُس کو بٹھایا اور پوچھا تمہارے مالک نے کیا گناہ کیا ہے جو اِس کو سزا مل رہی ہے تو وہ بولا سر یہ بہت کنجوس تھا ساری زندگی ایک ایک پیسے کو بچانے پر زندگی گزار دی اچھی خاصی زمینیں ہیں لاکھوں روپے کماتا تھا لیکن کنجوسی کے سارے ریکارڈ توڑتا تھا اِس کے پاس ایک یتیم بچہ تھا جس کا کوئی آگے پیچھے نہیں تھا بچپن میںاس کو کوئی کھانا نہیں دیتا تھا تو وہ کھانا کھانے اِس کے گھرآجاتا یہ اُس کو صرف ایک روٹی کھلاتا تھا اُس روٹی کے بدلے سارا دن اُس سے کام کرواتا تھا یہ اُس کو اپنے گھرکے پرانے کپڑے دیتا یا پھر دووقت کی روٹی یہی اُس کا معاوضہ تنخوا ہ تھی جب وہ بڑا ہوا تو لوگوں نے بہت سمجھایا یار تم دن رات اُس سے گدھے کی طرح کام لیتے ہو اُس کی تنخواہ مقرر کرو تا کہ وہ شادی کر سکے اپنا گھر بنا سکے لیکن اِس نے ایک روپیہ بھی اُس کو تنخواہ کا نہ دیا وہ معصوم احسان مند کہ اِس نے اُس یتیم کو روٹی دی جوان ہواتو وہ بیمار ہو گیا اُس کے پاس علاج کے لیے ایک روپیہ نہیں تھا لوگوں نے اِس کو بہت سمجھایا کہ اُس کا علاج کرائو تو یہ کہتا میری بات کھانے کی ہوئی اُس کا معاوضہ اُس کا کھانا ہے علاج کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں اِسطرح وہ بیچارہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے سسک سسک کر مر گیا اُس کی بد دعا لگی اِس کو اِس نے ساری زندگی اُس کو صرف کھانا دیا علاج کے پیسے یا تنخواہ نہیں دی اب اِس کا معدہ خوراک کی نالی بند ہے اِس کی سزا شروع ہے اِس نے ٹھیک نہیں ہو نا میں نے ایک کاغذ پکڑا اُس پر لکھا جس بچے سے تم لوگ صرف روٹی کے لیے نوکری کراتے رہے ہو اُس کے مہینوں کا حساب لگا کر اتنی تنخواہ پیسے خدا کی مخلوق میں بانٹ دو تو شاید اللہ کو تم لوگوں پر رحم آجائے ورنہ دنیا کے کسی حکیم ڈاکٹر بابے کے پاس علاج نہیں ہے ڈرائیور چلا گیا چند دن بعد ڈرائیور آیا اور بولا میرا مالک تڑپ تڑپ کر خالی کمرے میںمر گیا گھر والے سب اُس کو چھوڑ گئے تھے اُس نے غریب پر ظلم کیاتھا خدا نے اُس سے روٹی رزق کھانا چھین لیا ۔

٭…٭…٭

About the author

Prof Abdullah Bhatti

Prof Abdullah Bhatti

Leave a Comment

%d bloggers like this: