Today's Columns Umer Farooq

نصاب تعلیم سے اسلامیات کااخراج؟ از عمر فاروق ( آگہی )

Umer Farooq
Written by Umer Farooq

اقلیتوں کے حقوق سے متعلق 2014میں سپریم کورٹ کی جانب سے کیے جانے والے ایک فیصلے پرعمل درآمدکے لیے ایک رکنی اقلیتی کمیشن بنایاگیا جس کے سربراہ شعیب سڈل ہیں سینئرصحافی انصارعباسی کے مطابق شعیب سڈل نے30مارچ کو یکساں قومی نصاب کے حوالے سے ایک رپورٹ جمع کروائی جس میں انہوں نے تجویزدی ہے کہ یکساں قومی نصاب (سنگل نیشنل کریکولم)کے مختلف مضامین (اردو، انگریزی، جنرل نالج وغیرہ)میں شامل تمام اسلامی اور مسلمانوں کے حوالوں کو نکال کر اسلامیات یا اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں شامل کیا جائے کیونکہ یہ مضمون خصوصی طور پر مسلمان طلبہ کیلئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھیں تو اسلامی مواد کا اردو اور انگریزی کی کتب میں ہونا مذہبی ہدایت دیے جانے میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی غیرمسلم کو یہ مواد پڑھنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزیدلکھا کہ آئین کی شق 22 کے مطابق تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے لازمی مضامین جیسا کہ اردو، انگریزی اور معلوماتِ عامہ کی کتب سے حمد، نعت، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے اسلام، اسلامی تاریخ کی نامور شخصیات اور مسلمانوں کے حوالے سے تاریخی حوالہ جات ختم کیے جائیں۔ کمیشن نے اقلیتی حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے کئی اسکالرز اور سرگرم سماجی کارکنوں کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لازمی مضامین میں اسلامی مذہبی مواد کا شامل کیا جانا اقلیتی طلبہ کو اسلامی مذہبی تعلیمات حاصل کرنے پر مجبور کرنے کے مترادف ہے۔کمیشن نے پہلی تا پانچویں جماعت تک کے نصاب میں اردو، انگریزی اور جنرل نالج کے مضامین میں سے اسلام، اسلامی ہستیوں، ہیروز اور ہر قسم کے اسلامی مواد کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے ان مضامین میں سے نکالنے کی سفارش کرتے ہوئے اسے صرف اور صرف اسلامیات میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ یعنی اسلامیات کے علاوہ کوئی اسلامی حوالہ یا مواد ہمارے نصاب میں شامل کسی دوسرے مضمون کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، تاہم، وزارتِ تعلیم کے عہدیدار نے کمیشن کی رپورٹ سے عدم اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہدایات پہلے ہی ٹیچرز کیلئے دے دی گئی ہیں کہ اقلیتی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اسلامی نصاب پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا نہ ہی غیرمسلم طلبہ کا امتحان اسلامی مواد سے لیا جائے گا لیکن کمیشن نے وزارتِ تعلیم کے افسر سے اتفاق نہیں کیا اور لکھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ غیرمسلم طلبہ کو اسلامی مواد پڑھنے سے علیحدہ کیسے رکھا جا سکتا ہے، خصوصا اس وقت جب یہ مواد لازمی مضامین میں شامل کیا گیا ہے اور وہ بھی اس وقت جب پرائمری اسکولز میں ایک ٹیچر ہوتا ہے یا پھر ایک کمرہ ہوتا ہے یا پھر دونوں۔ کمیشن نے اپنے مشاہدات میں لکھا ہے کہ آرٹیکل 22(1) میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی ایسے طالب علم کو وہ مذہبی تعلیمات نہیں دی جا سکتیں جن کا اس کے مذہب سے تعلق نہ ہو۔ کمیشن نے یہ بھی لکھا کہ سنگل نیشنل کریکولم کے تناظر میں دیکھا جائے تو انگریزی اور اردو کی کتب میں اسلامی مواد کا ہونا مذہبی تعلیمات دینے کے زمرے میں آتا ہے اور کسی بھی غیرمسلم طالب علم کو اسے پڑھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے 31مارچ کووزارت تعلیم و پروفیشنل ٹریننگ کی رپورٹ مسترد کردی اور عدالت نے سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ وزارت تعلیم کی یکساں نصاب سے متعلق رپورٹ اطمینان بخش نہیں۔اب وزارت تعلیم نصاب میں کیاتبدیلیاں کرتی ہے یہ جلدواضح ہوجائے گا عمران خان نے دیگرنعروں کی طرح یکساں نصاب تعلیم کابھی اعلان کیاتھا چنانچہ یکساں نصابِ تعلیم مرتب کرنے کے لیے وفاقی وزارتِ تعلیم کے زیر انتظام ”نیشنل کریکولم کونسل ،،بنائی حکومت نے نیشنل کریکولم کونسل کے اراکین میں شہزاد رائے جیسے مشہور گلوکار اور دیگر این جی اوز کے نمائندے بھی شامل کرنے کابھی اہتمام کیاتھا، موصوف سکولوں میں جنسی تعلیم کے علمبردار ہیں،اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مغرب کے وسائل سے فیض یافتہ این جی اوز ہمارے نظام میں کس حد تک نفوذ کیے ہوئے ہیں کہ ان کی شمولیت کے بغیر قومی نصاب بھی نہیں بنایا جا سکتا، اس کونسل نے ہر مضمون کے نصاب کے لیے جو رہنما خطوط وضع کیے ہیں، وہ تقریبا یکساں ہیں اور ان کا مرکزی خیال لبرل سیکولر ذہن تیار کرنا ہے مگراس کے باوجود نصاب تعلیم کی بربادی میں جوکمی رہے گئی تھی وہ اب اقلیتی کمیشن کوآگے کرکے پوری کی جارہی ہے ،دراصل یہ تبدیلیاں پہلے سے طے شدہ تھیں مگراس کے لیے شعیب سڈل اوراین جی اوزکے تحفظات کوجوازبنایاجائے گایوں یکساں نصاب تعلیم کاوہ حشرکیاجائے گا جوملک کے دیگراداروں اورشعبوں کاکیاگیاہے ۔یکساں نصاب تعلیم کے حوالے سے شعیب سڈل اقلیتی کمیشن کی سفارشات وہی ہیں جوچندسال قبل امریکی این جی اوپیس اینڈایجوکیشن نے پیش کی تھیں ، نصاب کی تیاری (کیریکولم ڈویلپمنٹ)کے عنوان پر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف)نے پیس اینڈایجوکیشن (پی ای ایف)کی مشاورت کے ساتھ پاکستانی نصاب میں اپنی پیش کردہ تجاویزکو شامل کرنے پراصرار کیا تھا جس میں واضح طورپرکہاگیاتھا کہ نصاب میں صرف اسلام کے بطورِ واحد دینِ حق بیان کرنے کو ختم کیا جائے اور اقلیتوں کے ہیروز کا ذکر بھی مناسب حد تک شامل کیاجائے۔ہمارانصاب تعلیم پہلے دن سے ہی زاغوں کے تصرف میں ہے یہی وجہ ہے کہ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2010 اور 2011 میں، انٹرنیشنل سینٹر فار ریلیجن اینڈ ڈپلومیسی (آئی سی آر ڈی)نے پاکستان کے پرائمری اور سیکنڈری تعلیمی نظام کا جائزہ لیا اور اساتذہ، جماعت کے ساتھیوں اور نصاب میں مذہبی اقلیتوں بالخصوص ہندوئوں اور مسیحی افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصب اور عدم برداشت کی آڑمیںملک کے نصاب کے خلاف زہریلی اورخوفناک رپورٹ شائع کی تھی ۔پیس اینڈایجوکیشن نامی اسی این جی او نے جو پہلے سفارشات پیش کی تھیں ان ہی کی بنیاد پر پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں کی نصابی کتب میں تبدیلیاں کی گئیں جس پروقتا فوقتااحتجاج ہوتارہا اسی طرح، پی ای ایف کے سربراہ ڈاکٹراظہرحسین نے خیبرپختونخوا کے کئی دورے کیے اور ایلیمنٹری اور سیکنڈری تعلیم کی وزارتوں کے حکام سے ملاقات کرکے انہیں پاکستان میں تعلیم اور مذہبی امتیاز کی رپورٹ فراہم کی اور ان سے درخواست کی کہ نصابی کتب سے تعصب پر مشتمل مواد خارج کیا جائے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹراظہرحسین نے گورنرپنچاب چوہدری سرور سے بھی ملاقات کی اور انہیں نصابی کتب سے تعصب اور عدم برداشت پر مشتمل مواد خارج نہ کیے جانے کی صورت میں اقلیتوں کیخلاف ممکنہ تشدد کے خطرات سے آگاہ کیا۔انہی سفارشات کی روشنی میں یکساں نصاب تعلیم تیارکیاجارہاہے مگراس پربھی این جی اومافیاخوش نہیں ۔

حکومت نے یکساں نصاب تعلیم سے قبل وقف املاک ایکٹ لاکرمدارس اورمساجدکانظام ہی ڈگمگادیاہے مسجدومدرسہ ہی دراصل سیکولراورلبرل نظام میں بڑارکاوٹ ہے مگرایک طے شدہ ایجنڈے کے تحت دینی تعلیم کے ان مراکزکوختم کرکے سیکولرمعاشرے کی تشکیل کی جارہی ہے یکساں نصاب تعلیم کی خیرسے کیاشربرآمدہوتاہے یہ آنے والے حالات جلدواضح کردیں گے پردہ اٹھنے کی منتظرہے نگاہ ۔

٭…٭…٭

About the author

Umer Farooq

Umer Farooq

Leave a Comment

%d bloggers like this: