SS Hamid Yazman Today's Columns

سفیرِ عشق از ایس ایس حامد یزمان

SS Hamid Yazman
Avatar
Written by Todays Column

ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے لیکن 21 اپریل کو خالقِ کائنات نے ایک ایسی ہستی کو افقِ خاور کے پردوں میں چھپایا جس نے ملتِ اسلامیہ کی تقدیر کا فیصلہ سنایا تھا جو مسلمانانِ بر صغیر کے اسیری میں جھلستے ہوئے وجود کو یوں آزادی کی روشنی میں لایا جیسے کسی تپتے ہوئے صحرا میں چپکے سے بہار آ جائے اور چار سو خوشی و شادمانی کے عَلم لہرا دے
اقبال! جس نے افلاک کو مکاں بناتے ہوئے اس کی بلندیوں پہ اپنا نام ”اقبال ” ثبت کیا
اقبال! وہ ہستی کہ جن کے عشق کی گواہی دینے کے لئے خوبصورت الفاظ شاعری کا جامہ پہنتے جائیں
اقبال! وہ مردِ حق کہ جن خواب کی حسین تعبیر ہے پاکستان
اقبال وہ نام کہ اقبال مندیاں ان کی دہلیز پہ سر جھکائے با ادب نظر آتی ہیں
اقبال وہ لامحدود کام ہے کہ جن کی انتہاء تک رسائی نا ممکن ہے
علامہ محمد اقبال کا نام ملتِ اسلامیہ کے لئے قابلِ قدر اور قابلِ فخر سرمایہ ہے
اقبال ایسی ہستی جو دنیا سے چھپ کر بھی تا قیامت محفوظ و موجود اور تابندہ رہے گی
اقبال! سفیرِ محبت و امن, واعظِ قوم اور حقیقی عشق کے باکمال مسافر تھے اے بادِ صبائ! تیرا جب بھی امینِ محبت کی آرام گاہ سے گزر ہو تو تُو پیکرِ عقیدت و وفا ہو کر میرے اقبال کے مزار کو پلکوں سے چومنا اور مؤدب ہو کر عرض گزار ہونا کہ اے راہِ عشق کو جاودانی عطا کرنے والے تجھے تیرے طالب سلام کہتے ہیں
تلاشوں میں جب بھی عشق کی راہ کو
بے اختیار میری نظری تیری آرام گاہ پہ آتی ہیں
٭…٭…٭

About the author

Avatar

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: