Muhammad Akram Amir Today's Columns

پولیس ترقی نوری بمقابلہ خاکی از محمد اکرم عامر ( کھوج )

Muhammad Akram Amir

ملک کے دفاع اور قانون پر عملداری میں پاک فوج کے بعد قانون نافذکرنے والے اداروں میں پولیس فورس کا کردار ہر سطح پر نمایاں ہے ، جہاں سرحدوں پر پاک فوج کے جوان دن رات وطن عزیز کی حفاظت کیلئے کمر کسے ہوئے ہیں اور دفاع وطن پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں اور دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر ملکی دفاع کو مضبوط کیئے ہوئے ہیں ، جن کی دہشت و ہیبت سے دشمن پر ہر وقت سکتہ طاری رہتا ہے ٹھیک اسی طرح پولیس فورس کے جوان بھی چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کرکے جرائم پیشہ عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ دفاع وطن کیلئے کوشاں ہیں ،تھانہ،کچہری،مساجد،امام بارگاہوں، گرجا گھروں،سرکاری دفاتر، بینک، حساس مقامات، حتاکہ ایسے بیسیوں مقامات پر سیکورٹی ڈیوٹیاں بھی پولیس کے جوان احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں جس کے نتیجہ میں پولیس افسران سے لے کر پولیس کے کانسٹیبلز تک آئے روز اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کے نذرانے بھی پیش کررہے ہیں، مہذب ممالک کے معاشرے میں پولیس فورس کو عزت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور عوام دوران ڈیوٹی اپنے رکھوالوں کو ان کی حوصلہ افزائی کیلئے شاہراہوں پر پھولوں کے نذرانے پیش کرتے ہیںلیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ وطن عزیز یعنی ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ تنقید کانشانہ بھی پولیس فورس کو ہی بنایا جاتا ہے ،حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک میں پولیس واحد فورس ہے جو 24گھنٹے ڈیوٹی دیتی ہے اور ملک میں کوئی دیگر شعبہ ایسا نہیں جس کے ملازم اتنی طویل مشقت کی ڈیوٹیاں دیتے ہوں۔
راقم کی ذاتی رائے کے مطابق پولیس میں ترقیوں کا طریقہ کار بھی درست نہیں ہے،جس کی مثال کچھ یوں ہے کہ پنجاب میں پہلے صوبائی مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس ) جس طرح پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (سابقہ ڈی ایم جی ) کے ساتھ اپنے حقوق کیلئے برسرپیکارہے،تواسی طرح اب پنجاب میں صوبائی پولیس سروس کے ملازمین بھی پولیس سروس آف پاکستان سے اپنے قانونی اور آئینی حقوق حاصل کرنے کیلئے تگ دو میں لگے ہوئے ہیں اور ہر مقام پر اپنے حق کے لئے آواز بلند کررہے ہیں اپنے حق حاصل کرنے کیلئے انہیں ایسا کرنا بھی چاہئے، کیونکہ ہمارے ملک کا یہ المیہ ہے کہ یہاں جب تک بچہ دودھ نہ مانگے ماں اسے دودھ نہیں دیتی اسی طرح جب تک حق تلفی ہونے والا طبقہ اپنے حق کیلئے اوازبلند نہ کرے،تو کوئی حکمران کسی کی آواز نہیں سنتا۔ ہمارے ملک کا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اپنے حق کیلئے ہر کسی کو احتجاج یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے تب سالہا سال کی جدو جہد کے بعد حقدار کو اس کا حق ملتا ہے ۔
سو بات کہاں سے کہاں نکل گئی بات ہو رہی تھی پنجاب پولیس کے افسران،اہلکاران کی ترقیوں میں غلط روش کی ،توعرض ہے کہ صوبائی پولیس سروس والے لوگ وہ ہیں جو پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے اے ایس آئی، سب انسپکٹر اور انسپکٹر بھرتی ہوتے ہیں۔ اور پی ایس پیز بھی اسی نوعیت کا امتحان پاس کرکے عہدوں پر تعینات ہوتے ہیں،لیکن اب حکومت نے ڈائریکٹ بھرتی ہونے والے پی ایس پیز کا ترقیوں کا کوٹہ بڑھا کر پہلے سے پولیس فورس میں تعینات پولیس کانسٹیبل سے افسران تک کی حق تلفی کی ہے،اب ان لوگوں نے بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ پی ایس پیز سے اپنے حقوق مانگنے کی جسارت توکرلی ہے لیکن حقوق حاصل کرنے کی راہ بڑی کٹھن ہے ؟لیکن ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا؟ اسلئے حق مانگنے والوں کی کامیابی کے امکانات بہرحال زیادہ ہیں لیکن یہ کب اور کیسے ہو پائیگا یہ کہنا قبل از وقت ہو گا؟ آئیے پہلے ایک نظر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور ان کے حل پر ڈالتے ہیں۔ پنجاب میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں بنائے جانے والے قانون پولیس آرڈر 2002سے قبل کانسٹیبل، اے ایس آئی اور سب انسپکٹر بھرتی ہونے والے گریڈ 20 اور 21 تک ترقی پا تے تھے۔جس کی بہت سی مثالیں پنجاب پولیس میں موجود ہیں جن میں غلام اصغر خان، ریٹائرڈ ڈی آئی جی، رانا واسع، حامد مختار گوندل (ڈی آئی جی ) ریٹائرڈ، سابق آئی جیز پنجاب چوہدری امین اور چودھری افتخار کے نام نمایاں ہیں۔بہت سے نام ایسے ہی جوکانسٹیبل بھرتی ہوکر ڈی ایس پی اور ایس پی تک بھی پہنچے،ان میں کئی کانسٹیبل بھرتی ہوکر ڈی ایس پی کے عہدوں پر حاضر سروس بھی ہیں، جبکہ اوپر دیئے گئے ناموں کے متذکرہ افسران نے جونیئر رینکس میں ملازمتیں اختیار کیں اور کم سے کم لیکن مناسب تعلیمی قابلیت ہونے کی وجہ سے یہ افسران اعلیٰ عہدوں تک ترقی پانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب صوبائی سطح پر ترقیوں کے فیصلے ہوتے تھے اور محکمہ داخلہ پنجاب کا پولیس ونگ ترقیاں دینے کا مجاز تھا۔ لیکن اب حالات یکسر مختلف ہیں، صوبائی پولیس سروس میں شمولیت کے طریقہ کار کو انتہائی نچلی سطح تک تبدیل کر دیا گیا ہے۔اب تو ایک سپاہی بھرتی ہونے والوں میں بھی اکثریت ماسٹرز ڈگری ہولڈرز کی ہے،۔انسپکٹر، سب انسپکٹر اور اے ایس آئی پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی ہو رہے ہیں۔اگرچہ ان کی ترقیوں کے حوالے سے بنائے گئے ڈیزائن، سرخ فیتے اور غیر قانونی امتیازی سلوک اور قوانین میں مختلف قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ایسے رولز بنائے گئے ہیں کہ آئین پاکستان میں وضع کردہ یکساں ترقی کے مواقعوں سے بھی انہیں محروم رکھا گیا ہے یہاں یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ صوبائی پولیس سروس میں کانسٹیبل سے لیکر انسپکٹر بھرتی ہونے والوں میں ایم اے، ایم ایس سی، ایم فل اور پی ایچ ڈی اور انجینئرنگ کی ڈگریاں رکھنے والے یہ لوگ پولیس سروس آف پاکستان کے افسران سے شاید زیادہ اہل ثابت ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ماضی میں صوبائی پولیس سروس کے تمام ڈی ایس پیز کی ترقیاں سنٹرل پروموشن بورڈ کیلئے صوبائی حکومت کی سفارشات پر ہوتی تھیں۔پولیس سروس آف پاکستان کے اے ایس پیز اور صوبائی پولیس سروس کے ڈی ایس پیز کو ترقیوں کے وقت یکساں مواقع فراہم کئے جاتے تھے یہی وجہ تھی کہ صوبائی پولیس سروس میں بھرتی ہونے والے بھی گریڈ 21تک ترقی پاسکتے تھے لیکن۔ پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 165 (ای) کے تحت صوبائی پولیس سروس کیلئے ترقیوں کی مزید راہیں کھولنے کی بجائے ENCADREMENT کا نام دیکر ان کے حقوق سلب کرکے ان کی حق تلفی کی جارہی ہے ۔ پرویز مشرف دور کے پولیس آرڈر2002کے رولز آف پروسیجر کے سب رول 7کے سیریل 1013 پولیس سروس آف پاکستان کے لبادے میں صوبائی پولیس سروس کے ساتھ بغیر کسی قانونی جواز کے جو امتیازی سلوک برتا گیا اس کا نقصان اور اندازہ لگانا حکومت اور حکمرانوں کے بس کی بات نہیں،اس دکھ کا اندازہ ان لاکھوں پولیس ملازمین سے پوچھئے جو اس سے متاثر ہوئے،پولیس آرڈر 2002کے مطابق ایس پی کے عہدے تک ترقی پانے والا صوبائی پولیس سروس کے افسر کو اب پی ایس پی کیڈر میں شامل کر لیا جاتا ہے لیکن ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پہلے تو پی ایس پی کیڈر میں شمولیت کا کیس تیار کرنے میں 4سے 5سال لگا دئیے جاتے ہیں اور پھر اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن میں بیٹھے افسران کے بہی خواہ اس کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے میں 3سے 4سال لگا دیتے ہیں، کیونکہ وہاں بھی تو پی ایس پیز کا بہت اثر ورسوخ ہے۔ یوں صوبائی پولیس سروس کا افسر ایس پی ہونے کے بعد 8سے 9سال میں پی ایس پی کیڈر حاصل کر پاتا ہے۔ اسی دوران اکثریت کی ریٹائرمنٹ ہو جاتی ہے یا پھر وہ زیادہ سے زیادہ گریڈ 19میں ترقی پا کر ایس ایس پی کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہو جاتا ہے جو ان پولیس افسران کے ساتھ کھلواڑ ہے جبکہ گریڈ 19سے 21تک کے افسران کی کمی کا فائدہ پی ایس پی افسر اٹھاتے ہیں کیونکہ صوبائی پولیس سروس کے افسروں کو ان گریڈوں تک پہنچنے میں بہت سی رکاوٹیں پیدا کردی گئی ہیں ۔اسی بنا پراکثر پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 18کے جونیئر افسران کو گریڈ 19کی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کی سیٹ پر لگا دیا جاتا ہے۔آئین پاکستان کا آرٹیکل 240(B) میں واضح کہا گیا ہے کہ صوبائی معاملات میں صوبائی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت صوبائی افسران گریڈ 19، 20اور 21پر تعینات ہونے کے اہل ہیں۔ اس لئے صوبائی افسروں کی ترقیاں روک کر وفاقی افسران کی صوبوں میں تقرریاں آئین پاکستان کی سراسر خلاف ورزی ہے۔یادرہے کہ اسی سلسلہ میں پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ نے صوبائی پولیس افسران کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر آواز بلند کی،جس پر بنائی گئی کمیٹی کے اس حوالے سے متعدداجلاس بھی بے نتیجہ ہوئے ہیں۔صوبائی پولیس سروس ایس پی سطح کے کچھ افسران نے اپنے تحفظات اور حق تلفیوں کے حوالے سے اراکین اسمبلی اور وزارت قانون پنجاب،اور پنجاب پولیس کے حکام بالا کو آگاہ بھی کیا ہے پنجاب پولیس بلکہ پی ایس پیز کے نمائندہ وفد سے ملاقات میں ایڈیشنل آئی جی علی عامر نے تسلیم بھی کیا ہے کہ صوبائی پولیس کے مطالبات جائز ہیں لیکن اس کے باوجود یہ معاملہ آخر سست روی کا شکار کیوں ہے۔یہ وہ سوال ہے جو پنجاب پولیس کے کانسٹیبل سے لے کر افسران تک لاکھوں ملازمین پولیس کے اعلی ارباب اختیار اور حکومت وقت سے کر رہے ہیں۔
یہاں یہ بات نہ کرنا بھی پولیس کے ساتھ زیادتی ہو گی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کالعدم قرار دی گئی تحریک لبیک پاکستان کے حالیہ واقعات میں زندگی کی بازی ہارنے والے افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی اور پولیس کے شہدا کا ذکر تک نہیں کیا گیا، جان کی امان پاؤں توجہان فانی سے کوچ کرکے اپنے رب کے حضور پیش ہونے والے کسی بھی مسلمان کیلئے فاتحہ خوانی کرنا کوئی بری بات نہیں بلکہ یہ ثواب کا امر ہے، اپنے مخالف مسلمان بھائی کی وفات پر بھی فاتحہ خوانی کرنی چاہئے، لیکن اس موقع پر پولیس شہداء کو درگزر کرنا پولیس کے شہداء اور لواحقین سے زیادتی ہے ،جس سے پنجاب بھر کی پولیس فورس میں اضطراب پایا جارہا ہے اور ایسا کرنے سے پولیس کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
سوبات پھر کدھر سے کہاں نکل گئی تو ملک کے کپتان عرض ہے کہ آپ بھی پولیس میں اصلاحات کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے تھے اور آپ نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی اپنے بیانیہ میں کہا تھا کہ ملک میں لااینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے پولیس کوفری ہینڈ دوں گا، جرائم کی بیخ کنی کیلئے پولیس کو مراعات دیں گے اور پولیس یا کسی دیگر محکمہ کے ملازم کی حق تلفی نہیں ہونے دوں گا، تو کپتان جی پنجاب پولیس میں ملازمین کی ترقیوں میں کھلواڑ آپ کے دورحکومت کے میں ہورہا ہے،جبکہ پنجاب میں بھی آپ کی پارٹی کی ہی حکومت ہے اور حق تلفی اس پولیس فورس کی ہورہی ہے جو جرائم کے خاتمے سے لیکر ملک اور حکومت کے دفاع تک ہر مرحلہ پر ہراول دستے کا کردار ادا کرتا ہے، کپتان جی کیا یہ سب کچھ اسی طرح ہوتا رہے گا یا آپ اپنے اقتدار میں اپنا پولیس کے حوالے سے کیا گیا وعدہ وفا کرتے ہوئے صوبائی پولیس سروس کے ملازمین کو ان کا حق دلوائیں گے، کیونکہ متاثرہ لاکھوں پولیس اہلکاروں وافسران جنہوں نے دیگر طبقات کی طرح آپ کو اقتدار میں لانے میں بھی کردار ادا کیا تھاکی نظریں آپ پر لگی ہیں کہ جناب کپتان آپ کب وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس بابت حکم دیں گے،کہ صوبائی پولیس سروس کے ملازمین کو ان کا حق مل سکے؟

٭…٭…٭

About the author

Muhammad Akram Amir

Muhammad Akram Amir

Leave a Comment

%d bloggers like this: