Kiran Fatima Today's Columns

رمضان، ماہِ غفران از کرن فاطمہ

Kiran Fatima
Written by Todays Column

مرحبا! ماہ رمضان۔ مرحبا! ماہ غفران۔ مرحبا! ماہ قرآن۔ اللہ کی رحمت، مغفرت اور جنت کی سیل لگی ہوئی ہے۔ اے نفس کے ہاتھوں شکست کھائے ہوئے لوگو، آؤ! اپنے پروردگار کی رحیمیت اور مغفرت کے مزے لوٹو۔ ندامت کے آنسوؤں سے توبہ کے چراغ جلاؤ، وہ دیکھو جنتیں سجائی جانے لگیں۔ جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا گیا۔ شیاطین کو جکڑ دیا گیا۔ نیکی کرنا آسان ترین کر دیا گیا۔ ایک ایک نیکی کا اجر ستر گنا کر دیا گیا۔ ارے! یہ مانگنے کے دن ہیں، بادشاہوں کے بادشاہ نے خزانے کھول رکھے ہیں۔ جتنی رحمتیں اور برکتیں سمیٹ سکتے ہو، سمیٹ لو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رمضان میں اللہ متوجہ ہوتا ہے، اپنی رحمت خاص نازل فرماتا ہے، خطاؤں کو معاف فرماتا ہے، دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔ تمہارے تنافس کو دیکھتا ہے اور فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔ پس اللہ کو اپنی نیکی دکھاؤ، بدنصیب ہے وہ شخص جو اس مہینے میں اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔“(طبرانی)
اس شخص سے بڑا بھی کوئی بدنصیب ہو گا، جو اس ماہ بھی مغفرت سے محروم رہ جائے۔ پیارے نبی ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: آمین! آمین! آمین! آپ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور کہا: ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا، پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی، میں نے کہا، آمین!دعا کرنے والے کون؟ سید الملائکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اور آمین کہنے والے کون؟ سید الانبیاء۔ تو کیا اب بھی کوئی شک باقی رہ جاتا ہے اس دعا کی قبولیت میں۔وہ شخص کیسا بد نصیب ہے کہ جس پر رمضان المبارک کا مہینہ گزر جائے اور اس کی بخشش نہ ہو، یعنی رمضان جیسا خیروبرکت کا مہینہ بھی غفلت اور معاصی میں گزر جائے کہ رمضان المبارک میں تو مغفرت اور اللہ جل شانہ کی رحمت موسلا دھار بارش کی طرح برستی ہے۔ پس جس پر رمضان المبارک کا مہینہ اس طرح سے گزر جائے کہ اس کی بد اعمالیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے وہ مغفرت سے محروم رہ جائے تو اس کی مغفرت کے لیے اب کونسا وقت ہو گا اور اس کی ہلاکت میں کیا تامل ہے؟
مغفرت کے معنی اور اس کی حقیقت بھی سمجھ لیجیے۔مغفرت ”غفر“ سے ہے جس کا مطلب ہے، ”ڈھانپنا اور پردہ ڈالنا“ اور مغفرت کے معنی اللہ رب العزت کی انسان کے گناہوں سے پردہ پوشی اور درگذر کرنا کے ہیں۔ استغفار کے معنی ہیں ”مغفرت چاہنا۔“ جب بندہ اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہوتا ہے اور استغفار کرتا ہے تو اللہ جو بڑے غفور الرحیم ہیں، گناہ کو معاف کرنے والے ہیں اور توبہ قبول کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ”غافر“ ہیں۔ اس لیے وہ ہمارے نامہ اعمال سے وہ گناہ کو مٹا دیتے ہیں اور ”غفور“ ہیں اس لیے کہ وہ فرشتوں کو بھی ہمارے گناہ بھلا دیتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ”غفار“ ہیں۔ اس لیے ہمارے کیے ہوئے گناہ یوں بھلا ڈالتے ہیں، گویا ہم نے وہ گناہ کیے ہی نہیں ہوں۔ اب اس مغفرت کو حاصل کرنے کا اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں کہ ہم سچے دل سے اس سے مغفرت کے طالب ہوں۔ اپنے گناہوں پر نادم ہوں۔ آئندہ ان گناہوں کو نہ کرنے کا مصمم ارادہ کریں۔ اپنے جرم پر نادم و پشیمان، اپنی خطاؤں پر لرزاں و ترساں اللہ کی بارگاہ میں سارے جرائم کا اعتراف کریں۔ اس سے گناہوں کی بخشش طلب کریں۔ آئندہ زندگی میں اس کی نافرمانی سے بچنے اور ہر دم اس کی رضا پیش نظر رکھنے کا عہد کریں۔ استغفار کے معنی صرف استغفراللہ کہنے کے نہیں ہیں، بلکہ دل سے اپنے گناہوں کی معافی چاہنا اور اللہ کی طرف مکمل پلٹ جانے کے ہیں۔
”ہر ابن آدم خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ کر لیتے ہیں“۔(مسنداحمد) اللہ رب العزت نے ہم سے ہر وقت توبہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور رمضان میں تو یہ مطالبہ اور بھی شدید ہو جاتا ہے، کیونکہ رمضان شہر غفران (مغفرت کا مہینہ) ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔“ (الحدید: 21) اپ ﷺ اللہ کے نبی اور معصوم عن الخطا تھے، پھر بھی آپ ﷺ کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے فرمایا کرتے تھے: ”بلاشبہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہوتی ہے اور میں روزانہ اللہ سے سو سو بار مغفرت طلب کرتا ہوں۔“ (مسلم) اسی لیے ہمارے لیے تو انتہائی ضروری ہے کہ ہم اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور کثرت سے استغفار کریں۔
اس ماہ مقدسہ میں وہ کون سے طریقے ہیں، جنہیں اختیار کر کے ہم اللہ سے مغفرت طلب کر سکتے ہیں؟ ان میں سب سے پہلے تو ”تقویٰ اختیار کرنا“ ہے۔ ”اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ تمہیں ایک فیصلہ کی چیز دے گا اور تم سے تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخش دے گا، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔“ (الانفال:29) اور روزے کا اصل مقصد ہی تقویٰ کا حصول ہے۔ ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔“ (البقرۃ: 183)
ماہ صیام میں اللہ سے مغفرت طلب کرنے کے لیے ”ماہ رمضان کے روزے رکھنا“ ہیں۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کی نیت سے رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیے گئے۔“ (بخاری ومسلم) شہر غفران میں مغفرت ”رمضان کی راتوں میں تروایح کا قیام“ سے بھی حاصل ہوتی ہے۔ ”جو شخص رمضان (کی راتوں) میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔“ (بخاری و مسلم)
مغفرت طلب کرنے کا ایک طریقہ ”تلاوت قرآن پاک“ ہے۔ ”قرآن مجید کی ایک سورت ہے، جس کی تیس آیات ہیں۔ وہ آدمی کی اس وقت تک سفارش کرے گی، یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے، اور وہ ہے سورۃ الملک-“ (سنن ترمذی)
اللہ سے مغفرت ”کثرت سے دعا مانگنے سے“ بھی حاصل ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے طلب مغفرت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”اور خدا سے بخشش مانگو، بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔“ (النسا: 106) قرآن کریم میں مغفرت کے لیے انبیا علیہم السلام اور مومنین کی بڑی بیش قیمت دعائیں آئی ہیں۔ رمضان میں ان دعاؤں کو یاد کر لیں اور ان الفاظ کے ساتھ مانگنا اپنا معمول بنائیں۔
طلب مغفرت کے لیے ”تہجد کی نماز“ کی بڑی فضیلت ہے۔اس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور خطائیں دھل جاتی ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے”اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں۔“ (آل عمران: 17) اور رات کے آخری تیسرے پہر ہمارا رب آسمانِ دنیا پر نازل ہوتا ہے (اس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا، وہ اُسی طرح نزول فرماتا ہے جیسا اُس کی شان کے لائق ہے) اور فرماتا ہے:”کوئی ہے جو مجھے پکارے، تا کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے مانگے، تا کہ میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی جو مجھ سے مغفرت مانگے، تا کہ میں اسے بخش دوں؟۔“ (بخاری و مسلم)۔ نبی علیہ السلام نے سید نا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ خطاؤں کو بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے وقت آدمی کی نماز یعنی نماز بھی خطاؤں کو بجھا دیتی ہے۔“ (سنن ترمذی)
مغفرت کا طالب ”رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کی راتوں میں“ اپنے رب کو منا سکتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ (صحیح بخاری) نبی پاک ﷺ نے شب قدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”شب قدر کو جبرائیل امین علیہ السلام فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں اور ہر شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، جو کھڑے‘ بیٹھے کسی بھی حال میں اللہ کو یاد کر رہا ہو۔“ (شعب الایمان) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! اگر مجھے شب قدر کا پتا چل جائے تو کیا دعا مانگوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہو: ”اے اللہ! تو بے شک معاف کرنے والا ہے اور پسند کرتا ہے معاف کرنے کو‘ پس تو مجھے بھی معاف فرما دے“ (ترمذی شریف)
آئیے! ماہ رمضان کی ان گھڑیوں کو غنیمت جانتے ہوئے، اس ماہ مغفرت میں قُرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ آئیے! سچی توبہ اور گناہوں سے باز رہنے کے پختہ عزم کے ساتھ اللہ تعالی سے خلوص دل سے استغفار کریں اور اپنے جسمانی و روحانی امراض کی دوا کریں۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: