Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

نواسۂ مصطفیٰ امیر المومنین نواسۂ مصطفیٰ امیر المومنین حضر ت سیدنا امام حسن المجتبیٰ رضی اللہ عنہ از علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی

Allama Tabassum Bashir

نواسۂ مصطفیٰ امیر المومنین
حضرت سیدنا امام حسن المجتبیٰ رضی اللہ عنہ
آپ کے یوم ولادت 15رمضان المبارک کے حوالے سے خصوصی تحریر

آپ 15رمضان المبارک 3ھ میں پیدا ہوئے ۔رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس بچہ کا نام رکھو ۔انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! اس کا نام آپ رکھیں ۔حضور ﷺ نے فرمایا میں اس بچہ کا وہ نام رکھوں گا جواللہ تعالیٰ فرمائے گا ۔تو حضرت جبریل علیہ السلام حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ اس صاحبزادہ کی پیدائش پراللہ تعالیٰ آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس کا نام حضرت ہارون علیہ السلام کے صاحبزادے کے نام پر ’’شبر‘‘ رکھو جس کے معنیٰ ہیں’’ حسن‘‘ ۔تو حضور ﷺ نے آپ کا نام’’ حسن‘‘ رکھا اور کنیت ابو محمد ۔پھر پیدائش کے ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا ،بال منڈوائے اور حکم فرمایا کہ بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی جائے ۔(نزہۃ المجالس وغیرہ)
جب حضور اقدس ﷺ کا وصال ہوا تو اس وقت حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عمر صر ف ساڑھے سات سال تھی اس کے باوجود آپ سے متعدد حدیثیں مروی ہیں ۔ساڑھے سات سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے اس وقت اتنی حدیثوں کا یاد رکھنا اور نقل کرنا آپ کے حافظہ کا کمال ہے ۔
آپ شکل و صورت میں اپنے نانا جان پیارے مصطفیٰ ﷺ سے بہت مشابہ تھے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ کے جسم اطہر سے ناف سے اوپر مشابہ ہیں اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے جسم اقدس کے زیریں حصہ سے بہت مشابہ ہیں۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
ایک سینہ تک مشابہ اک وہاں سے پائوں تک حسن سبطین ان کے جاموں میں ہے نیما نور کا
صاف شکلِ پاک ہے دونوں کے ملنے سے عیاں خط توَ اَم میں لکھا ہے یہ دو ورقہ نور کا
آپ کے فضائل :حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں جن میں سے کچھ پیش کی جاتی ہیں ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ منبر پر رونق افروز ہیں اور حضرت حسن آپ کے پہلو میں ہیں ۔آپ کبھی صحابہ کی طرف توجہ فرماتے اور کبھی ان کی طرف اور فرمایا ۔’’میرا بیٹا یہ سردار ہے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میںمصالحت کرا دیگا ۔ (بخاری شریف صفحہ530جلد1)
حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میںنے دیکھا رسول اللہ ﷺسجدے میں ہوتے اور حضرت حسن آتے تو آپ کی گردن مبارک یا پشت مبارک پر سوار ہوجاتے تو آپ انہیں اتارتے نہیں تھے وہ خود ہی اتر جاتے تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ رکوع کی حالت میں ہوتے تو آپ انہیں اتارتے نہیں تھے وہ خود ہی اتر جاتے تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ رکوع کی حالت میں ہوتے تو اپنے پیروں کے درمیان اتنا فاصلہ کردیتے کہ حضرت حسن ان کے درمیان سے دوسری طرف گزر جاتے ۔(الشرف المؤبد صفحہ60)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے ہیں اور دعا فرما رہے ہیں ۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُحِبُّہٗ فَاَحِبَّہٗ ۔یعنی اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔(بخاری شریف جلد 1صفحہ530)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھائے ہوئے تھے ۔کسی صحابی نے کہا اے صاحبزادے تیری سواری بہت اچھی ہے ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور سوار بھی تو بہت اچھا ہے ۔یعنی اے صحابی ! یہ تو تو نے دیکھا کہ سواری کتنی اچھی ہے لیکن یہ بھی تو دیکھ کہ سوار کتنا اچھا ہے ۔(مشکوٰۃ شریف صفحہ571)
ایک دن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس قریش اور دیگر قبیلوں کے بڑے بڑے لوگ جمع تھے ۔انہوں نے فرمایا مجھے بتائوں ماں اور باپ ،چچا اور پھوپھی ،خالہ اور ماموں نانااور نانی کے اعتبار سے سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے ؟ حضرت مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ سب سے افضل ہیں ۔ان کے والد امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ان کی والدہ سیدۃ النساء حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ ہیں ۔ان کی نانی ام المومنین حضرت خدیجہ بنت خویلد ہیں اور نانا نبی اکرم ﷺ ہیں ۔ان کے چچا حضرت جعفر ہیں جو جنت میں پرواز کرتے ہیں اور پھوپھی حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ہیں اور ان کے ماموں اور خالائیں رسول اکرم ﷺ کے صاحبزادے اور صاحبزادیاں ہیں ۔پھر مالک بن عجلان نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا میں نے صحیح کہا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں۔ اے اللہ ! یہ سچ ہے ۔(برکات آل رسول صفحہ142)
حاکم کی روایت ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بغیر سواری کے پیدل پچیس 25حج ادا فرمائے حالانکہ اعلیٰ قسم کے اونٹ آپ کے ہمراہ ہوتے تھے لیکن آپ ان پر سوار نہیں ہوتے تھے اور پاپیادہ راستہ طے فرماتے تھے ۔(تاریخ الخلفائ)
آپ سخاوت میںبے مثال تھے بسا اوقات ایک ایک شخص کو ایک ایک لاکھ درہم عطا فرما دیتے تھے ۔ابن سعد علی بن زید سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے تین بار آدھا آدھا مال خدا کی راہ میں دیدیا اور دو مرتبہ اپنا پورا مال اللہ کے راستے میں خرچ کر دیا ۔(تاریخ الخلفائ)
آپ بہت بڑے بردبار اور حلیم الطبع تھے ۔اپنی برائی سن کر تو آپ خاموش رہتے لیکن جب غلط بات آپ نے دیکھتے تو فوراً تنبیہ فرماتے ۔یہ آپ کی حق گوئی ہے عیب جوئی نہیں ۔بعض مدعیان علم جو طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہیں اس قسم کی تنبیہ کو عیب جوئی قرار دیتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں حق گوئی اور عیب جوئی کا فرق سمجھنے کی توفیق بخشے۔ آمین
خلافت اور اس سے دست برداری:حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر جلوہ افروز ہوئے ۔چالیس ہزار اہالیان کوفہ نے آ پ کے دست حق پرست پر بیعت کی ۔آپ چھ ماہ تک منصب خلافت پر فائز رہے اس کے بعد جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ آپ کے پاس کوفہ آئے تو مندرجہ ذیل تین شرطوں کے ساتھ آپ نے خلافت ان کے سپرد کرنا منظور فرمایا ۔
(1) بر وقت امیر معاویہ خلیفہ بنائے جاتے ہیں لیکن ان کے انتقال کے بعد امام حسن خلیفۃ المسلمین ہوں گے ۔
(2) مدینہ شریف اور حجاز و عراق وغیرہ کے لوگوں سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زمانہ کے متعلق کوئی مواخذہ اور مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
(3) حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ذمہ جو ہے ان سب کی ادائیگی حضرت امیر معاویہ کریں گے ۔رضی اللہ عنہ
ان تمام شرطوں کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبول کیا تو آپ میں صلح ہو گئی اور اللہ کے محبوب دانائے خفایا و غیوب ﷺ کا وہ معجزہ ظاہر ہوا جو آپ نے فرمایا تھا کہ میر ایہ فرزند ارجمند مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔
حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس صلح کے بعد تخت خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے خالی کر دیا ۔دستبرداری کا یہ واقعہ ربیع الاول ۔ 41ھ میں ہوا ۔(تاریخ الخلفائ)
خلافت سے دستبردار ہونا آپ کے بہت سے ہم نوائوں کو ناگوار ہوا انہوں نے طر ح طرح سے آپ پر ناراضگی کا اظہار کیا یہانتک کہ بعض لوگ آپ کو ’’عار المسلمین ‘‘ کہہ کر پکارتے تو آپ ان سے فرماتے ۔العار خیر من النار۔عارنا ر سے بہتر ہے ۔
امر خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو سپرد کرنے کے بعد آپ کوفہ سے مدینہ طیبہ چلے گئے اور وہیں قیام پذیر رہے ۔جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں آپ پھر خلافت کے خواستگار ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جس وقت عربوں کے سر میرے ہاتھوں میں تھے یعنی اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے وہ مجھ سے بیعت کر چکے تھے اس زمانہ میں ہم جس سے چاہتے ان کو لڑا دیتے لیکن میں اس وقت محض اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے خلافت سے دستبردار ہو گیا اور امت محمدیہ کا خون نہیں بہنے دیا ۔تو جس خلافت سے میں صرف اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے دست بردار ہو گیا ہوں اب لوگوں کی خوشی کے لئے میں اسے دوبارہ نہیں حاصل کرسکتا۔(تاریخ الخلفائ)
آپ کی شہادت:ابن سعد حضرت عمر ان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا کہ ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ’’قل ھو اللہ احد ‘‘ لکھا ہوا ہے ۔جب آپ نے خواب بیان فرمایا تو اہل بیت خوش ہوئے لیکن جب حضرت سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ خواب بیان کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر آپکا یہ خواب سچا ہے تو آپ کی زندگی کے صرف چند روز اور باقی رہ گئے ہیں ۔یہ تعبیر صحیح واقع ہوئی کہ ایسا خواب دیکھنے کے بعد آپ صرف چند روز بقید حیات رہے پھر زہر دے کر شہید کر دیئے گئے ۔(تاریخ الخلفائ)
زہر خورانی کی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے کہ پہلے آپ کو شہد میں ملا کر زہر دیا گیا جس سے آپ کے شکم مبارک میں درد پیدا ہوا ۔رات بھر آپ ماہی بے آب کی طرح ٹرپتے رہے صبح اپنے جد امجد پیارے مصطفیٰ ﷺ کے روضۂ منورہ پر حاضر ہوئے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شفائے کلی عطا فرمائی ۔
دوسری بار آپ کو زہر آلودہ کھجور یںکھلائی گئیں ۔چھ سات کھجوریں کھاتے ہی آپ کو سخت گھبراہٹ پیدا ہوئی ۔اپنے بھائی حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لائے اور رات بھر بیقرار رہے ۔سویرے پھر اپنے نانا جان حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے روضۂ مقدسہ پر حاضر ہوئے اور دعا فرمائی تو اس بار بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے رسول ﷺ کی برکت سے زہر کا اثر جاتا رہا ۔
بیان کیا جاتا ہے کہ اسی طرح آپ کو پانچ بار زہر دیا گیا مگر ہر بار اس کا اثر زائل ہوتا رہا ۔چھٹی بار ہیرے کی کنی پیسی ہوئی آپ کی صراحی میں ڈالی گئی جس کا پانی پیتے ہی ایسا معلوم ہوا کہ حلق سے ناف تک پھٹ گیا اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔آپ بے قراری میں مرغ بسمل کی طرح ٹرپنے لگے مسلسل قے ہونے لگی اور دست بھی جاری ہوا جس کے ساتھ جگر اور انتڑیوں کے ٹکڑے کٹ کر گرنے لگے ۔
وفات کے قریب آپ کے بھائی حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ آپ کو زہر کس نے دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم اسے قتل کرو گے ؟حضرت امام حسین نے فرمایا بیشک میں اسے قتل کروں گا۔ آپ نے فرمایا جس کے بارے میں میرا گمان ہے اگر حقیقت میں وہی زہر دینے والا ہے تواللہ تعالیٰ منتقم حقیقی ہے اور اسکی گرفت بہت سخت ہے ۔اور جس کے بارے میں میرا گمان نہیں ہے اگر وہ زہر دینے والا ہے تو میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کوئی بے گناہ قتل کیا جائے ۔
سبحان اللہ ۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا فضل و کمال کتنا بلند و بالا ہے آپ سخت تکلیف میں مبتلا ہیں ۔اسہال کبدی لاحق ہے ۔آنتوں کے ٹکڑے کٹ کٹ کر نکل رہے ہیں اور نزع کی حالت ہے مگر اس وقت بھی انصاف کا بادشاہ اپنے انصاف و عدالت کا نہ مٹنے والا نقش صفحۂ تاریخ پر ثبت فرماتا ہے اور اسی کی احتیاط اجازت نہیں دیتی کہ جس کے بارے میں گمان ہے اس کا نام لینا گوار ا کیا جائے ۔
وفات کے قریب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضرت امام حسن کو بے قراری اور گھبراہٹ زیادہ ہے تو آپ نے ان کی تسلی کے لئے عرض کیا کہ اے برادر محترم یہ گھبراہٹ اور بے قراری کیسی ہے ؟ آپ تو اپنے نانا جان ﷺ اور اپنے بابا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا رہے ہیں ۔اپنی جدۂ کریمہ خدیجۃ الکبریٰ اور والدۂ محترمہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہما سے ملاقات کریں گے اور اپنے چچا حضرت حمزہ اور جعفر رضی اللہ عنہما سے ملیں گے اور اپنے ماموں حضرت قاسم و حضرت طاہر رضی اللہ عنہما سے بھی ملاقات کریں گے ۔
حضرت امام حسن نے فرمایا اے برادر عزیز! میں ایسے امر میں داخل ہونے والا ہوں کہ جس کی مثل میں ابتک نہیں داخل ہوا تھا اور میں اللہ کی مخلوق میں سے ایسی مخلوق دیکھ رہا ہوں کہ جس کی مثل کبھی نہیں دیکھا ۔(تاریخ الخلفائ)
پینتالیس (45)سال چھ ماہ چند روز کی عمر میں بمقام مدینہ طیبہ 5ربیع الاول 49ھ میں آپ نے وفات پائی اور جنت البقیع میں حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
وہ حسن مجتبیٰ سید الاسخیا راکب دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام
شہد خوارِ لعاب زبان نبی چاشنی گیر عصمت پہ لاکھوں سلام

٭…٭…٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: