Allama Tabassum Bashir Owaisi Today's Columns

رسول اکرم ﷺ کے پسندیدہ مشروبات از علامہ پیر محمد تبسم بشیر او یسی

Allama Tabassum Bashir

رسول اکرم ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ آپ پینے والی چیز کو تین سانسوں میں نوش فرماتے ۔ہر سانس میں منہ سے پیالہ جدا کرتے پھر سانس لیتے اور پیالے کو جب دہن شریف کے قریب لاتے تو بسم اللہ پڑھتے اور جب جدا فرماتے تو حمد بجا لاتے اس طرح تین مرتبہ کرتے ۔آپ ﷺ کے پسندیدہ مشروبات مندرجہ ذیل ہیں ۔
1۔ پانی :رسول اکرم ﷺ ٹھنڈے اور شیرین پانی کو پسند فرماتے تھے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔کہ رسول اکرم ﷺ کے لئے سقیا سے (ٹھنڈا اور ) میٹھا پانی منگوایا جاتا تھا ۔مروی ہے کہ ’’سُقیا‘‘ ایک چشمہ ہے ۔جو مدینہ طیبہ سے دو دن کی مسافت پر واقع ہے ۔(سنن ابی دائود)
اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کو پینے کی چیزوں میں میٹھی چیز( زیادہ ) محبوب تھی ۔(ترمذی شریف)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سید الانبیاء ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک ڈول آبِ زم زم لایا گیا ۔حضور نبی کریم ﷺ نے اسے نوش فرما لیا ۔حالانکہ آپ ﷺ اُس وقت کھڑے تھے ۔(مسلم شریف)
پانی اللہ تعالیٰ کی انمول نعمت ہے ۔اس لئے رسول اکرم ﷺ نے پانی پی کر اللہ کا شکر ادا کیا ۔
2۔ دودھ:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزوں کو رد نہیں کرنا چاہیے ۔1۔تکیہ ۔2۔ دودھ ۔ 3۔خوشبو۔ (شمائل ترمذی)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت رسول مقبول ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے ۔وہ ایک برتن میں دودھ لے کر آئیں ۔حضور اکرم ﷺ نے اُسے نوش فرمایا ۔میں دائیں اور حضرت خالد بن ولید بائیں جانب تھے ۔آپ ﷺ نے (نوش فرمانے کے بعد) مجھے فرمایا کہ اب پینے کا حق تیرا ہے ۔ہاں اگر تو بخوشی قبول کرے تو خالد کو ترجیح دے دے ۔میں نے عرض کیا کہ میں آ پ ﷺ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح نہیںدے سکتا ۔اس کے بعد ارشاد گرامی فرمایا کہ جب کسی شخص کو حق تعالیٰ کوئی چیز کھلائے تو یہ دعا پڑھنی چاہیے ۔
اَللّٰہُمَّ بَارِکَ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعَمْنَا خَیْرًا مِنْہُ ۔فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ ۔’’اور جب کسی کو اللہ تعالیٰ دودھ عطا فرمائے تو کہو۔اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا۔
پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دودھ کے علاوہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو کھانے اور پینے کا کام دیتی ہو۔ (ابو دائود)
حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ۔خدا کی قسم کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،مجھ میں بھوک برداشت کرنے کی بڑی صلاحیت تھی ۔میں بھوک سے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ۔ایک دن سرراہ بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے ۔میں نے اُن سے کلام اللہ شریف کی آیۂ کریمہ پوچھی ،میں نے اُن کو اس لئے مخاطب کیا تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے ۔مگر وہ نہ لے گئے ۔پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ گزرے ، میں نے اُن سے بھی آیت مبارکہ پوچھی یہ بھی اس لئے کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے ،مگر انہوں نے بھی ساتھ نہ لیا ۔پھر حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور مجھے دیکھا تو تبسم فرمایا ۔آپ ﷺ میرے دل اور چہرے کی کیفیت جان گئے اور فرمایا میرے ساتھ چلو ، میں ساتھ ہو لیا ۔یہاں تک کہ اپنے خانۂ اقدس پر تشریف لے گئے ۔میں بھی اجازت لے کر اند ر چلا گیا۔ وہاں دیکھا کہ ایک پیالہ دودھ کا رکھا ہوا ہے ۔آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ دودھ کہاں سے آیا ؟ گھر والوں نے عرض کیا کہ فلاں صحابی نے خدمت عالیہ میں ہدیۃً بھیجا ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا! اے ابی ہریرہ !میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا اصحاب صفہ کو بلا لائو ۔اصحابِ صفہ اہل اسلام کے مہمان تھے ۔جب کوئی صدقہ خدمت عالیہ میں پیش کیا جاتا۔ تو تمام اصحابِ صفہ کو عنایت فرما دیتے۔اگر ہدیۃً ہوتا تو خود بھی تناول فرماتے اور اصحابِ صفہ کو بھی عنایت فرماتے ۔غرض یہ کہ میں بلانے کے لئے چل دیا ۔میں دل میں خیال کرتا تھا کہ اتنے تھوڑے سے دودھ سے اتنے زیادہ آدمیوں کا کیا بنے گا؟ اگر مجھے پیاس بجھانے کو مل جاتا تو ٹھیک تھا ۔اب جب کہ اصحاب صفہ تشریف لائیں گے ۔تو مجھے حکم ہوا کہ ان کو پلائو ۔بہر حال تعمیل ارشادِ گرامی کرتے ہوئے میں اصحابِ صفہّ کو لے گیا ۔سب آکر بیٹھ گئے ۔تو مجھے ارشاد ہوا اے ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ )!میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمایا کہ یہ دودھ اٹھائو اور اصحابِ صفہ کو پلائو میں نے پیالہ لیا اور باری باری ہر آدمی کو پیالہ دیتارہا ۔جب وہ دودھ سے اچھی طرح سیراب ہو جاتا تو پیالہ مجھے واپس لوٹا دیتا ۔یہاں تک کہ تمام اصحاب صفہ سیراب ہو گئے اور میں سید عالم ﷺ تک پہنچا ۔آپ ﷺ نے وہ پیالہ مجھ سے لے کر اپنے دستِ مبارک پر رکھا اور تبسم فرماتے ہوئے میری طرف دیکھ کر فرمایا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے ! اے ابی ہریرہ !اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں ۔میں نے عرض کیا آپ ﷺ نے سچ فرمایا ہے یا رسول اللہ ﷺ ! پھر مجھے ارشاد ہوا کہ بیٹھ جائو اور دودھ پیو۔ میں نے دودھ پیا (پیالہ واپس کرنے لگا تو ) فرمایا اور پیو ۔میں نے اور پیا آپ ﷺ مجھے فرماتے رہے کہ اور پیو اور میں پیتا رہا ۔بالآخر میں نے عرض کیا کہ اب نہیں پی سکتا ۔مجھے اس خدا کی قسم کہ جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ۔اب کوئی گنجائش نہیں ۔یہ کہہ کر وہ پیالہ میں نے خدمت عالیہ میں پیش کردیا ۔ حضور اکرم ﷺ نے وہ پیالہ مجھ سے پکڑا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد دودھ نوش فرما لیا ۔(بخاری شریف)
حضرت نضلہ بن عمر و الغفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کے لئے ایک برتن میں دودھ دو ہا ۔آپ ﷺ نے دودھ نوش فرمایا اور بچا ہوا مجھے عنایت فرمادیا ۔میں نے وہ دودھ پیا تو سیراب ہو گیا ۔میں نے بارگاہ اقدس میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں سات بکریوں کا دودھ پی جاتا تھا مگر سیراب نہ ہوتا تھا ۔(لیکن آج تھوڑا سا پی کر سیراب ہو گیا ۔) (خصائص کبریٰ)
حضرت ام معبد رضی اللہ عنہا کے بھائی جیش بن خالد سے روایت ہے کہ جب رسول مقبول ﷺ نے ہجرت فرما کر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (ان کے آزاد کردہ غلام ) عامر بن فہیرہ اور عبد اللہ لیثی کے ہمراہ ام معبد کے خیمہ کے پاس گزر ے اور ام معبد سے گوشت اور دودھ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی کہ ہم قحط زدہ ہیں ۔کوئی بھی چیز پاس نہیں ۔خیمہ میں ایک طرف ایک کمزور سی بکری کھڑی تھی ۔حضور سرور کائنات ﷺ نے اس بکری کے متعلق دریافت فرمایا تو ام معبد نے عرض کی کہ زیادہ کمزور ہونے کی وجہ سے ساتھ نہیں جا سکی ۔فرمایا کہ کیا اس میں دودھ ہے؟ اُ م معبد نے عرض کیا کہ بھلا اس میں دودھ کہاں؟ فرمایا: کیا تو اجازت دیتی ہے کہ میں اس کا دودھ دو ہ لوں؟ ام معبد نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ،اگر آپ دودھ دیکھتے ہیں تو دوہ لیجئے ۔حضور اکرم ﷺ نے بکری منگوائی اور اس کے تھنوں پر اپنا دستِ مبارک پھیرا ۔پھر بسم اللہ شریف پڑھ کر دعا فرمائی ۔ (تو اسی وقت) بکری کے تھن دودھ سے لبریز ہو گئے اور وہ جگالی کرنے لگی ۔حضور سرورِ دو عالم ﷺ نے اتنا بڑا برتن طلب فرمایا جو کہ ایک پورے قافلے کے لئے کافی ہو ۔پھر اس میں اپنے دست مبارک سے دودھ دو ہا تو وہ برتن دودھ سے بھر گیا ۔آپ ﷺ نے وہ دودھ ام معبد کو پلایا ،یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئیں ۔پھر اپنے ساتھیوں کو پلایا ۔جب سب سیراب ہو گئے تو پھر خود نوش فرمایا ۔پھر دوبارہ اس بکری کا دودھ دوہا اور پھر برتن بھر کر ام معبد کر عطا فرمادیا پھر ام معبد سے (اسلام پر) بیعت لی اور چل دئیے ۔(مشکوٰۃ شریف)
3۔ لسیّ:رسول اکرم ﷺ نے دودھ میں پانی ملا کر لسی بنا کر پی ہے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے بکری کا دودھ دو ہا گیا ۔پھر اس میں اس کنوئیں کا پانی جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا ۔ملایا گیا ۔پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالیہ میں پیش کیا گیا ۔حضور تاجدار انبیاء ﷺ نے نوش فرمایا ۔(نوش فرمانے کے بعد جو دودھ کی لسی بچ گئی وہ بطور تبرک تقسیم فرمانے لگے تو) بائیں طرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دائیں طرف ایک اعرابی بیٹھے ہوئے تھے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! (پہلے) ابو بکر کو دیجئیے (مگر) آپ ﷺ نے اعرابی کو پیالہ پکڑا دیا جو دائیں طرف تھا اور ارشاد فرمایادائیں طرف (کیونکہ ) دایاں مقدم ہے ۔)
دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا’’ دائیں طرف والے زیادہ حقدار ہیں ۔دائیں طرف والے زیادہ حقدار ہیں ۔غور سے سنو دائیں طرف والو کو پہلے دیا کرو ۔‘‘(بخاری شریف)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابو بکر !(ﷺ)تم ہجرت کی رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ۔وہ واقعہ مجھے سنائو۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم ساری رات چلتے رہے ۔اگلا دن بھی چلتے رہے ۔ جب دو پہر کا وقت ہوا اور لوگوں کی آمد و رفت ختم ہو ئی تو ہم ایک لمبے پتھر کے سایہ میں اُترے ۔میں نے اپنے ہاتھوں سے جگہ کو ہموار کیا تاکہ حضور اکرم ﷺ سو جائیں اور میں نگرانی کرنے لگا۔ تو سامنے ایک چرواہا آتا ہوا دکھائی دیا ۔میں نے اس سے کہا کہ تیری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں !میں نے پوچھا کیا دو ہے گا۔اس نے کہا ہاں!پھر اُس نے ایک بکری پکڑی اور پیالہ میں دودھ نکالا ۔میرے پاس ایک برتن تھا کہ جس کے ساتھ آپ ﷺ وضو فرماتے اور پانی اور دودھ نوش فرماتے تھے ۔میں نے دودھ اس برتن میں رسول اللہ ﷺ کے لئے ڈال لیا ۔پھر میں بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا تو ابھی تک محوِ خواب تھے ۔میں نے جگانا مکروہ سمجھا ۔پھر جب حضور نبی کریم ﷺ خود بیدار ہوئے تو میں نے ٹھنڈا کرنے کی غرض سے اس دودھ میں تھوڑا سا پانی ملایا اور عرض کیا یا نبی (ﷺ) آپ اسے نوش فرما لیں ،چنانچہ آپ ﷺ نے نوش فرمایا ،یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔(مسلم شریف)
4۔ پھلوں کا پانی:رسول اللہ ﷺ نے پھلو ں کا پانی بھی پسند فرمایا ہے ۔یعنی انگور یا کھجور میں پانی ڈال کر رکھ دیا جاتا جب اس پھل کا رس پانی میں شامل ہو جاتا تو آپ نوش فرما لیتے جسے نبیذ کہا جاتا ہے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے مین رسول اللہ ﷺ کو پینے کی اشیاء شہد ،نبیذ ،پانی اور دودھ پلایا ۔(مسلم )
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم ایک مشکیزہ میں حضور سرور دو عالم ﷺ کے لئے نبیذ بناتے تھے ۔اوپر کی طرف سے مشکیزہ کا منہ بند کر دیا جاتا تھا اور نیچے اس کا دہانہ تھا ۔ہم صبح اس میں نبیذ ڈالتے تو سرکار کائنات فخر موجودات ﷺ رات کو پی لیتے ۔اگر رات کو ڈالا جاتا تو صبح نوش فرما لیتے تھے ۔(صحیح مسلم شریف)
5۔ حضرت سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ اصحابِ شجرہ میں سے ہیں ۔فرماتے ہیں کہ رسول مقبول ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس ستو لائے گئے ۔انہوں نے ان کو پانی میں گھول کر نوش فرمایا ۔(بخاری شریف)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ستو پینا بھی رسول اکرم ﷺ کی سنت ہے ۔
6۔ شہد:شہد حضور اکرم ﷺ کے پسندیدہ اور مرغوب ترین اشیاء میں سے تھا ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حلوہ اور شہد (بہت) پسند تھا ۔(بخاری)
منقول ہے کہ (عموماً) سرور دو عالم ﷺ علی الصبح شہد میں پانی ملا کر نوش فرمایا کرتے تھے ۔پھر جب اس پر کچھ وقت گزر جاتا اور بھوک محسوس ہوتی تو جو کچھ از قسم غذا موجود ہوتا تناول فرما لیتے ۔(مدارج جلد اول)
حضرت عطا ء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید بن عمیر سے سنا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ حضرت ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد نوش فرمایا کرتے تھے ۔(بخاری)
طبرانی شریف سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے پاس شہد تناول فرمایا کرتے تھے ۔ (تفسیر مظہری)
ابن سعد نے حضرت عبد اللہ بن رافع سے نقل کیا کہ ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرے پاس شہد کی ایک کپنی تھی ۔رسول اللہﷺ اس شہد کو پسند فرماتے تھے اور اس میں سے کچھ نوش فرمایا کرتے تھے ۔(تفسیر مظہری)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ شہد کا استعمال سنت ہے اور اس میں صحت کے لئے بہت سا فائدہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سنتِ رسول ﷺ کے مطابق مشروبات استعمال کر کے اپنی صحت کی حفاظت کرنے کی توفیق دے ۔آمین
شائع فرما کر شکریہ کا موقع دیں

٭…٭…٭

About the author

Allama Tabassum Bashir

Allama Tabassum Bashir

Leave a Comment

%d bloggers like this: