Tariq Mahmood Kamboh Today's Columns

تحفظ ناموس رسالتﷺ و تحفظ ختم نبوتﷺ میں بطور مسلم ملک ہمارا کر دار کیا ہونا چاہیئے؟ از طارق محمود کمبوہ ( نقطہ نظر )

Tariq Mahmood Kamboh
Written by Tariq Kamboh

مذہبی جماعت کے رہنماؤں اور حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا، مذہبی جماعت پر پابندی ختم کرنے، گرفتار رہنماؤں کی رہائی، مقدمات ختم کرنے اور فرانسی سفیر کی ملک بدری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لائے جانے کے فیصلے کرلئے گئے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات تمام امت مسلمہ کیلئے انتہائی قابل احترام اور اللہ تعالی ذات مبارکہ کے بعد دنیا و آخرت کی تمام ہستیوں سے عظیم ہیں۔ بلاشبہ ہر مسلمان کا دل آپﷺ کی ناموس کی خاطر دھڑکتا ہے اور آپﷺ شان کیخلاف بولنے والا ہر گستاخ واجب القتل ہے۔ گزشتہ دنوں سے ناموس رسالتﷺ کے معاملہ کو لیکر ملکی حالات انتہائی کشدگی کی جانب بڑھ چکے ہیں۔ حکومت پاکستان اور مذہبی جماعتیں آمنے سامنے ہیں اور اس کشیدگی کے دوران پولیس اور مظاہرین کے افراد کی شہادتیں اور لاتعداد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے دونوں طرف کے حمایتی بھی سرگرم ہیں اور ایک دوسرے پر بھرپور الزام تراشی اور کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ اس بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے۔ گزشتہ دنوں فرانس کی جانب سے نبی اکرمﷺ کی شان گستاخی کی گئی جس پر مذہبی جماعتوں نے ملک بھر میں فرانس مخالف احتجاج کئے اور فرانس کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، مطالبات میں فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ مذہبی جماعت کے فیض آباد دھرنے کے دوران حکومت سے مذاکرات ہوئے جس میں حکومت وقت نے مذہبی جماعت سے فرانسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا تحریری معاہدہ کیا۔ تحریری معاہدہ پر عملدرآمد نہ ہونے پر مذہبی جماعت کے رہنماؤں نے احتجاج کی کال دے رکھی تھی کہ حکومت وقت کی جانب سے مذہبی جماعت کے سربراہ علامہ سعد حسین رضوی کو گرفتار کرلیا جس پر کارکنان مشتعل ہوگئے اور سڑکوں پر نکل آئے۔ یہاں سے کشیدگی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے کیونکہ یہ معاملہ رسولﷺ کی ناموس کا معاملہ ہے لہذا اس کیلئے نکلنے کیلئے کسی جماعت کا کارکن ہونا کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب بھی تحفظ ناموس رسالتﷺ کی بات آتی ہے تو ہر مسلمان اس کیلئے مر مٹنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے کو نظر آیا کہ ہر سیاسی جماعت کے کارکنان اس احتجاج کا حصہ تھے اور سوشل میڈیا پر متعدد حکومتی کارکنان بھی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے دیکھنے کو ملے۔ سوال چونکہ کشیدگی کا ہے اس لئے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ جب بھی کسی بھی جماعت کی جانب سے احتجاج کی کال دی جاتی ہے تو مذکورہ جماعت کے قائدین کی جانب سے کارکنان کو کنٹرول کیا جاتا ہے کہ آپ نے پرامن رہنا ہے کسی کا راستہ نہیں روکنا کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کرنی یا کسی شہری کے جان و مال کو نقصان نہیں پہنچانا۔ لیکن اس جماعت میں شروع سے ہی لیڈرشپ کا شدید فقدان رہا ہے۔ چونکہ جماعت بنتے ہی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی اس لئے ایک دوسرے پر بھی الزام تراشی کا سلسلہ بھی اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا احتجاج کیلئے نکلنے والے لوگ صرف مذہبی جماعت کے کارکن تھے؟ کیا لوگوں کو جلاؤ گھیراؤ کیلئے اُکسانے والوں میں کسی دوسری سیاسی جماعت کے کارکنان شامل نہیں تھے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ وہ صرف ایک مذہبی جماعت کے اراکین ہی تھے۔ جس طرح اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف متحرک ہیں، اپوزیشن میں بیٹھی ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہے کہ حکومت مخالف اٹھنے والی ہر چنگاری کو ہوا دی جائے اور ایسا ہی احتجاج کے دوران بھی دیکھنے کو نظر آیا جس کی چھوٹی سی مثال سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو ہے جس میں ایک شخص لوگوں کو پتھراؤ اور تشدد پر اُکسا رہا ہے اور بعد ازاں گرفتاری پر پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کا کونسلر تھا جس کا احتجاج کرنے والی مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یقیناً ایسے ہی بہت سے لوگ ہوں گے جو اس آگ جنگاری کو ہوا دینے میں شریک ہوئے ہوں گے لیکن مجرم صرف مذہبی جماعت ٹھہری۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانے کے گولی لاٹھی کو پہلے ترجیح دی گئی۔ ناموس رسالتﷺ کا معاملہ جس کیلئے مرنے والے بھی مسلمان اور مارنے والے بھی مسلمان تھے۔ ملک ہفتہ بھر سنگین حالات کی کشمکش میں رہا۔ جو مذاکرات کے قدم حکومت نے خون ریزی کے بعد اٹھائے ہیں کیا وہ پہلے نہیں اٹھائے جا سکتے تھے؟ جو قیمتی جانیں اس کشیدگی کی بھینٹ چڑھ گئیں انکا ازالہ کون کرے گا؟ ایک سفیر کو ملک بدر کرنے سے کیا توہین رسالتﷺ رک جائے گی؟ کل کوئی دوسرا ملک ایسی گھناؤنی حرکت کرے گا تو کل پھر یہی کام کرکے آپ عشق نبویﷺ کا ثبوت دیکر بری ذمہ ہو جائیں گے؟ حکومت وقت ناموس رسالتﷺ کے معاملہ پر احتجاج کرنے والے شہریوں پر طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے تحفظ ناموس رسالتﷺ اور توہین مذہب کا معاملہ عالمی عدالت لیکر جائے اور اس کیلئے سخت سزاؤں کے قوانین بنوائے جائیں تاکہ کوئی بھی مقدس ہستیوں کی توہین کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو۔ ورنہ ہم اپنے آپ کو مارتے رہیں گے اور دشمنان اسلام ہماری بربادی کا جشن مناتے رہیں گے۔

٭…٭…٭

About the author

Tariq Kamboh

Tariq Mahmood Kamboh

Leave a Comment

%d bloggers like this: