AD Shahid Today's Columns

ماہ صیام اور ہمارا کردار از اے ڈی شاہد ( چنتا )

AD Shahid
Written by AD Shahid

کیہندا اے ایمان تے مر جاواں میں
اکٹھا کر کے پیسہ بے ایمانی دا

حاجی صاحب نے دودھ کی دوکان پر بیٹھے ملازم کو سمجھایا کہ، اس دودھ میں گیارہ کلو پانی ملانا، اور یہ جو ساتھ والی گلی سے ماسی رحمتے جو دودھ لینے آتی ہے، اس کو آج بنا پیسے لیے دودھ نہیں دینا، ملازم نے پوچھا کونسی ماسی رحمتے تو حاجی صاحب نے سمجھاتے ہوئے بتایا وہ فضل حسین کی بیوہ جس کا بیٹا پچھلے مہینے وفات پاگیا، وہ اس سے پیسے لیے بنا دودھ نہیں دینا کل کے بھی پیسے رہتے ہیں آج پیسے نہ دے تو بھگا دینا، میں ذرا چوک میں جو محفل میلاد کا اکٹھ ہوا ہے اس میں شرکت کر کے حاضری لگوا آؤں ورنہ کل کو اپنے آقا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھاؤں گا، حاجی صاحب دوکان سے نکلے ہی تھے،تو پیچھے سے نظام دین نے آواز دی کے حاجی صاحب کہاں جا رہے ہیں، تو حاجی صاحب نے کہا نظام دین چوک میں جو اکٹھ ہوا وہاں حاضری لگوانے جا رہا ہوں شاید یہ ادا یہ حاضری پسند آجائو تو بخشش کا سامان پیدا ہو جائو تو نظام دین نے کہا اکٹھے چلتے ہیں میں بھی ادھر ہی کی طرف جا رہا ہوں،نظام دین اور حاجی صاحب نے ایک ساتھ چوک کی طرف پیش قدمی کی تو حاجی صاحب نے دریافت کیا سنائیں گھر بار سب ٹھیک ہے، تو نظام دین نے بتایا کہ اللہ کی بہت مہربانی ہے ایک بیٹا تو خیر سے باہر یورپ کے ایک ملک میں سیٹ ہوگیا ہے مہینے کا دو لاکھ روپیہ بھیج رہا ہے مولا کابڑا ہی کرم ہے، کوئی مہینہ ایسا نہیں گیا جب بیٹا یورو بھیجنا بھولا ہو، ابھی حاجی صاحب اور نظام دین باتیں کرتے ہوئے تیزی کے ساتھ چوک کی طرف بڑھ رہے تھے کہ رفیق سموسے والے کی آواز پر رک گئے، اس سے سلام دعا کی تو رفیق کے دریافت کرنے پر اس کو بتایا اور دعوت بھی دی کہ کاروبار تو دنیا میں چلتے رہتے ہیں آؤ ہمارے ساتھ تم بھی حاضری لگوا کر اپنی آخرت کا سامان کر لو، تو رفیق بولا کیوں نہیں بس پانچ منٹ رکیں پھر ساتھ ہی چلتے ہیں، وہ دونوں رک گئے تو حاجی صاحب نے بتایا کہ جلدی میں کھانا بھی نہیں کھایا اور بھوک بھی محسوس ہو رہی تو رفیق دو سموسے پلیٹ میں ڈال دے، تو رفیق نے حاجی صاحب قریب ہو کر ان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بتایا حاجی صاحب آپ ہی کی دوکان ہے لیکن یہ سموسے آپ کے کھانے کے نہیں یہ کل کے ہیں، حاجی صاحب نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ رفیق کے اس خلوص کا شکریہ ادا کیا، اور پھر تینوں چوک کی طرف چل پڑے تھوڑی دور ہی گئے تو ایک رکشے والا ان کے پاس آکر رکا تو حاجی صاحب نے کہا او شیدے سنا کیا حال ہے کہاں جا رہا،تو شیدے نے کہا میں چوک میں جو آج اکٹھ ہوا ہے وہاں جا رہا ہوں اس میں شرکت کرنے تو اس کی بات سن کر سب نے یک زبان کہا یہ ہوئی نہ بات ہم بھی وہیں جا رہے تو شیدے نے بلا تکلف کہا پھر پیدل کیوں رکشے پر سوار ہوں کچھ ثواب کا موقع ہم کو بھی کمانے دیں،تینوں شیدے کے ساتھ رکشے پر سوار ہو? اور شیدے نے رکشے کو منزل کی طرف بڑھانا شروع کر دیا، ابھی بمشکل دو منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ ایک آدمی سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا ہوا اور رکشے کو روکا وہ کافی گھبرایا ہوا تھا رکشہ رکنے پر اس نے بتایا کہ میری بیوی حاملہ ہے اور ڈیلیوری کا وقت ہے تو تمام سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے کوئی ایمبولینس کوئی گاڑی ادھر تک پہنچ نہیں پا رہی،اور نہ کوئی رکشہ مل رہا آپ کو آتا دیکھا تو میری جان میں جان آئی میری بیوی بہت تکلیف میں ہے میری مدد کریں شہر کے تمام راستے تو بند ہیں اس رکشے پر اس کو گلیوں کے بیچو بیچ ہسپتال منتقل کر دیں،تو شیدے نے صاف الفاظ میں ایک شدید انکار کیا اور حاجی صاحب، فضل دین اور رفیق نے بھی اس انکار میں مزید پختگی پیدا کی کہ ہم جس کام کے لیے جا رہے ہیں اس کے لیے یہ دنیاوی کام کوئی معنی نہیں رکھتے، اس شخص نے تقریباً منت کرنے والے انداز میں کہا کہ میری بیوی شدید تکلیف میں مہربانی کریں تو شیدے کو غصہ آگیا اور باقی تینوں نے بھی اس کی بدتمیزی پر شدید رد عمل دیا،اور شیدے نے رکشے کو آگے بڑھا دیا اور وہ شخص رکشے سے لپک کر اس کو روکنے کی کوشش کرتا رہا لیکن شیدے کے ارادے میں کوئی کمی نہیں آئی، اور کچھ دیر تک وہ چوک میں چلے گئے اور ایک جذبے کے ساتھ انھوں نے اپنی حاضری کو توجہ کا مرکز بنایا اور پوری قوت کے ساتھ وہاں اپنا کردار ادا کیا، اور رات وہیں پر گزاری ان کے اس جزبہ ایمانی کو دیکھ کر مجھے اپنا ایمان مردہ محسوس ہوا اور ان پر رشک آیا یہ ہیں وہ لوگ جن کے ایمان کی بدولت یہ دنیا قائم ہے، اور مجھے یقین ہوگیا کہ صبح ہوتے ہی فرشتے ان پر اپنی رحمت کی ایسی برسات کریں گے جسے ہم گناہکار دیکھتے رہ جائیں گے۔ کتنے افسوس کی بات ہے ماہ رمضان میں جب شیطان کو قید کر لیا جاتا ہے اور تمام مسلمان روزے رکھتے ہیں اور اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو ایسے بے ایمان لوگ ناپ تول میں کمی، اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، ذخیراندوزی اور مہنگائی کر کے گناہ کیمرتکب ہوتے ہیں اور پورے معاشرے کیلئے عذاب بن جاتے ہیں۔ جن کو سیدھے راستے پر لانے کیلئے حکومتی ٹیمیں نہ جانے کتنا سرمایہ خرچ کرکے ان پر کاروائیاں کرتی ہیں اس سرکاری جمع خرچ کا اثر بھی سوسائٹی پر ہی پڑتا ہے۔جسے عام آدمی ٹیکس کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ حدیث پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم واضح ہے کہ ” ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے ”۔
٭…٭…٭

About the author

AD Shahid

AD Shahid

Leave a Comment

%d bloggers like this: