Mahvish Kiran Today's Columns

درخت ہمارے دوست از مہوش کرن

Mahvish Kiran
Written by Mahvish Kiran

پیارے بچو! کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں ہمیں دنیا میں چاند اور سورج جیسی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں، اسی طرح درخت بھی بہت بڑی نعمت ہیں۔ گرمیوں میں یہ درخت ہمارے راستوں میں سایہ اور ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔ ہم ہر موسم میں درختوں سے طرح طرح کے پھل حاصل کر سکتے ہیں مثلاً آم، سیب، کیلے، جامن، کینو وغیرہ۔ بعض پھل ایسے ہوتے ہیں جو کئی مہینے محفوظ رکھ کر کھائے جاتے ہیں، جیسے کہ بادام، اخروٹ وغیرہ۔
درختوں کے تنوں سے لکڑی حاصل کر کے اس سے مختلف قسم کا فرنیچر بنایا جاتا ہے۔ جس میں میز، کرسیاں، صوفے، بستر، الماریاں وغیرہ شامل ہیں۔ پھر کچھ مخصوص درختوں کی لکڑیوں پر خوبصورت نقش و نگار بنا کر ان کو فرنیچر کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ بیرون ملک برآمد بھی کیا جاتا ہے۔ جس سے ملک کو زرِ مبادلہ ملتا ہے۔
اس کے علاوہ یہ لکڑی ایندھن کے طور پر جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ پہاڑی علاقوں میں سخت سردی سے بچاؤ کے لیے لکڑی کو جلا کر گرمی و حرارت حاصل کی جاتی ہے۔ ان تمام فوائد کے علاوہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ درخت ہوائی آلودگی کو اپنے اندر جذب کر کے ہمیں سانس لینے کے لیے صاف ہوا فراہم کرتے ہیں۔ یعنی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر لے کر آکسیجن کو خارج کرتے ہیں، جس سے ہم با آسانی سانس لینے کے قابل ہوتے ہیں۔
لیکن پتا ہے بچو! اپنے ان بہترین ساتھیوں کا خیال رکھنے کے بجائے ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم اپنے ارد گرد فیکٹریوں کا کچرا، گاڑیوں کا دھواں، گھروں اور دفاتر کا کچرا غرض ہر طرف غلاظت کا ڈھیر لگا کر رکھتے ہیں، کہ درخت بے چارے خود بھی سانس نہیں لے پاتے تو بھلا ہمیں صاف ہوا کیسے دیں گے۔
آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ آئے دن نئی عمارتیں اور سڑکیں بنانے کے لیے درختوں کو تیزی سے کاٹا جا رہا ہے، لیکن اس کو اگانے کے لیے کوئی خاص پیشرفت نظر نہیں آتی۔ پھر اتنا ہی زیادہ ائر کنڈشنرز کا رواج بڑھتا جا رہا ہے۔ ویسے ہی موسم کی گرمی، کچھ مہینوں میں ہیٹ ویوز کا آنا، اور اوپر سے ہر جگہ چلتے اے۔سی کی گرمی بھی باہر فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔ تو کیا اتنی ڈھیر ساری گرمی کا مقابلہ اتنے تھوڑے سے درخت کر سکیں گے؟ ہرگز نہیں اور اتنے سارے لوگ جو ائرکنڈشنرز نہیں لگا سکتے، وہ بھی مزید گرمی کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
تو بچو، ہمیں چاہیے کہ اپنے ان دوستوں کی تعداد میں خوب اضافہ کریں، تا کہ ماحولیاتی آلودگی اور گرمی میں کمی لائی جا سکے۔ اگر ہم سب اپنے حصے کا ایک بیج بھی لگائیں تو سوچیں کہ ہزاروں نئے پودے اُگ آئیں گے۔ آج ہم اور آپ مل کر جو ننھا سا پودا لگائیں گے۔ ان شاء اللہ! وہ کل کو تن آور درخت بن کر خلقِ خدا کو سایہ، ٹھنڈک اور آسانی فراہم کرے گا۔

٭…٭…٭

About the author

Mahvish Kiran

Mahvish Kiran

Leave a Comment

%d bloggers like this: