Javid Iqbal Gujjar Today's Columns

عالمی یوم ثقافتی ورثہ اور ہماری ذمہ داریاں از جاوید اقبال گجر

Javid Iqbal Gujjar
Written by Todays Column

ہم مناظر قدرت و مظاہر فطرت سے مالا مال ایک ایسے پر کشش سیارے پر زندگی گزار رہے ہیں جہاں ایک طرف قدرت کی صناعی کے دلکش و رنگارنگ مناظر ہیں تو وہیں انسانی عقل و کاریگری سے تخلیق پانے والے محیرالعقول عجائبات بھی ہیں۔ قدرتی و انسانی تخلیق کے نادر شاہ پاروں ، روایات اور یادگاروں کو بحثیت مجموعی ثقافتی ورثہ کہا جاتا ہے۔ ثقافتی ورثہ دراصل ملکوں کی جغرافیایء حدود سے بالا تر انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ قدیم تہذیبوں کے آثار قدیمہ بلندوبالا اہرام،حیرت انگیز مقبرے و مندر،خوبصورت محلات،مضبوط قلعے ، دلکش مساجد، منقش دیواریں،شاندار پل اور تراشیدہ غاریں ہمیں ان تخلیق کاروں کی یاد دلاتے ہیں جو ہم سے پہلے مختلف ادوار اور مختلف معاشروں میں رہتے رہے اور اپنی انتھک محنت اور لاجواب کاریگری سے عظیم شاہکار تخلیق کیے۔آج ہم ان فن پاروں کا نظارہ کرکے نہ صرف اپنی شاندار تاریخ پر فخر کرتے ہیں بلکہ ان کے تخلیق کاروں کے لیے ہمارے دلوں میں عقیدت و احترام ہے۔
تاریخ انسانی میں بیشمار تہذیبوں نے جنم لیا، سلطنتوں نے عروج پایا،اپنی عظمت کا ڈنکا بجایا اور پھر قانون قدرت کے ہاتھوں بے بس ہو کر کسی نہ کسی سبب زوال کا شکار ہو گئیں۔ اس سطح ارضی نے کبھی نیل کنارے مصریوں کی شان و شوکت دیکھی تو کبھی دجلہ و فرات کنارے آباد بابل و نینوا تہذیب کی خوشحالی۔ کبھی اشوریوں کے فنون لطیفہ کا چرچا رہا تو کبھی مایا اور ایزٹک تہذیب کے علم ریاضی اور علم فلکیات کی شہرت، کبھی چینیوں نے عروج پایا تو کبھی قدیم وادی سندھ میں ایک متمدن اور صاف ستھری تہذیب نے جنم لیا، کبھی یونانی علم و حکمت اور طاقت کا مرکز بنے تو کبھی رومی، کبھی سلطنت ایران نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا تو کبھی مسلمانوں کے جاہ و جلال سے دنیا لرزتی رہی۔ تہذیبیں منہدم ہو گئیں لیکن ورثے میں فن تعمیر،ریاضی،فلکیات اور زراعت کی ایسی پر شکوہ یادگار یں چھوڑ گئیں کہ دیکھنے والوں کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
ہمارے لیے ایک شاندار دنیا چھوڑ کر جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کے بنائے فن پاروں کی اہمیت و تحفظ کا شعور اجاگر کرنے کی غرض سے ہر سال دنیا بھر میں18 اپریل کو بین الاقوامی یادگاروں اور سا ئٹس کے دن یا عالمی یوم ثقافتی ورثہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ قدیم تہذیبوں کے آثار،عمارتیں اور یادگاریں ہمارے اور دنیا کے لیے ایک اثاثہ ہیں۔ ثقافتی ورثہ کا عالمی دن جغرافیایء حدود سے بالا تر تمام قوموں اور انسانوں کو اپنے ثقافتی ورثہ کو قائم رکھنے اور اس کی حساسیت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ تا کہ خطرات میں گھرے انسانی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ثقافتی ورثے کے تحفظ کا نظریہ پہلی بار1962 میں وینس میں منعقدہ بین الاقوامی کانگریس میں سامنے آیا جس کے نتیجے میں یونیسکو نے یادگاروں اور سائیٹس کی بین الاقوامی کونسل قائم کی۔ 18اپریل 1982 کو یادگاروں اور سائٹس کی بین الاقوامی کونسل نے عالمی یوم ثقافتی ورثہ منانے کی تجویز دی جسے 1983 میں یونیسکو نے منظور کر لیا۔ عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سر گرم اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو اب تک دنیا کے 1121 مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے چکا ہے۔ ان میں 869 ثقافتی و تعمیراتی عجائبات ہیں جبکہ 213مسحور کن قدرتی شاہکار ہیں۔ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل 53 ایسی یادگاریں ہیں جن کی بقا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
پاکستان کے 6 تاریخی مقامات کو یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے چکا ہے۔ جن میں موہنجوداڑو کے آثار قدیمہ،ٹیکسلا کے کھنڈرات،تخت بائی کے کھنڈرات ،شالیمار باغ و شاہی قلعہ لاہور، ٹھٹھہ کے شہر مکلی کا تاریخی قبرستان اور روہتاس قلعہ جہلم شامل ہیں جبکہ ہڑپہ اور مہر گڑھ کے کھنڈرات ، رنی کوٹ قلعہ جامشورو جسے عظیم دیوار سندھ بھی کہا جاتا ہے اور بادشاہی مسجد لاہور سمیت 26 ایسے مقامات ہیں جن کی فہرست پاکستان یونیسکو کو فراہم کر چکا ہے تا کہ انھیں بھی عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا جا سکے۔
سال 2021 کے عالمی ثقافتی ورثہ ڈے کا مرکزی خیال ” پچیدہ ماضی متنوع مستقبل” ہے۔ تھیم کا مقصد دنیا کو بحثیت انسان ثقافتی تنوع کے احترام کی ضرورت و اہمیت کا احساس دلانا اور ماضی کی عظیم الشان ثقافتوں کے خوبصورت خزانوں کو آنے والی نسلوں اور صدیوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے۔ کیونکہ قدیم تاریخی یادگاریں صرف حیرت انگیز عمارات یا تفریحی مقامات ہی نہیں بلکہ تاریخ کی ہزار ہا جلدوں کو اپنے اندر سموئے قدیم و دلکش زندگیوں کی عکاس بھی ہیں۔ ہم سب کی اجتماعی کاوشیں شاندار ورثے اور متنوع ثقافت کے تحفظ میں مدد فراہم کر سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں منایا جانے والا ثقافتی ورثے کا عالمی دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے شاندار ماضی کی انمول نشانیوں کی حفاظت میں کردار ادا کریں۔ انہیں کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں اپنے آس پاس کے تاریخی مقامات کا دورہ کریں اور عوام الناس میں ان مقامات کی اہمیت کا شعور اجاگر کریں۔تا کہ ان قیمتی خزینوں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: