Hafsa Riaz Today's Columns

میری آپ بیتی از حفصہ ریاض

Hafsa Riaz
Avatar
Written by Hafsa Riaz

اس سے پہلے کھبی اتفاق نہیں ہوا کہ میں اپنے آپ کو جانچ سکوں کہ کیا میں واقعی پاکستانی ہوں لیکن آج مجھے فخر سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ واقعی میں پاکستانی ہوں۔
آج سے کچھ دن پہلے میرے سمسٹر کا آغاز ہوا تو سوچا کیوں نہ پبلک لائبریری کا کارڈ بنوایا جائے میں لائبریری چل دیا۔ وہاں سے مجھے ایک فارم ملا اسکو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ فارم کو ادارے کے کسی 17 گریڈ کے افسر سے تصدیق بھی کروانا تھا تو باریک بینی کے باوجود جواب ندارد۔ یہ نہیں تھا کہ افسر کی قلت تھی بلکہ بہانوں کی فراوانی تھی آخر کار مجھے ایک شخص مل ہی گیا۔ سلام دعا کے بعد نہ حل ہونے والا مسئلہ پیش کیا گیا افسر کو میری آپ بیتی پہ رحم آ ہی گیا اور وہ آمادہ ہو گئے کہ شاید میں آپ کا مسئلہ حل کر دوں لیکن شاید وہ یہ بات بھول رہے تھے کہ میں پاکستانی ہوں فارم تصدیق کروانے کے چند لمحوں بعد جب انہیں احساس ہوا کہ درخواست دھندہ شخص کہیں پاکستانی تو نہیں تو انکی فرشتہ نما شکل میں فوراً تبدیلی آ گئی اور مجھے سکندر اعظم جیسی نگاہوں سے دیکھنے کے بعد کہا اپنا شناختی کارڈ بتاؤ کارڈ دیکھتے ہی ان کا رنگ زرد پڑ گیا اور مجھے سے سوال کیا کہ تم پاکستانی ہو تو ہم دونوں اس شش و پنج میں پڑ گئے کہ واقعی یہ تو ہم دونوں پاکستانی ہیں۔

پھر انہوں نے مجھ سے ماصومانہ التجا کرتے ہوئے فارم لے لیا کہ معزرت خوا ہوں کہ تم پاکستانی ہو اور میں نے تمھاری مدد کی تو میں خود پھنس جاؤں گا تو میری مدد کون کرنے آئے گا اور اس بات سے مجھے بہت فخر محسوس ہوا کہ میں کتنی بڑی شخصیت ہوں کہ 17 گریڈ کا افسر خوف کھا رہا ہے اس پر ہم دونوں نے قہقہ لگایا اور دونوں نے ہاتھ ملایا کہ ہم دونوں ہی تو پاکستانی ہیں۔
اس اقتباس کو بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر میں پاکستانی ہوں تو یہ جرم نہیں ہے، البتہ کچھ جرائم پیشہ افراد نے اپنے برے رویوں کی وجہ سے بدنام کر رکھا ہے اور ہم ایک آزاد ملک میں رہ کر بھی خود کو آزاد تسلیم کروانے کےلئے گن گانے پڑتے ہیں اس لیئے ہمیں اپنی سوچوں کو بدل کر آگے بڑھنا ہوگا اور جہاں بات آگئی پبلک اداروں کی تو ہمیں ایسے اداروں سے مستفید ہونے کی اجازت دے دینی چاہیے۔ شکریہ

٭…٭…٭

About the author

Avatar

Hafsa Riaz

Hafsa Riaz

Leave a Comment

%d bloggers like this: