غوث پاکؒ کی زندہ کرامت

0 7

بچپن میں آپ میں سے بیشتر لوگوں نے اکثر گلی محلوں میں بھکاری اونچی آواز میں گاتے دیکھا ہوگا
لے گیارھویں والے دا ناں ڈبی ہوئی تر جائے گی
یہ حضور غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی ایک ایسی کرامت ہے جس کا تذکرہ بہت سی کتابوں میں ملتاہے متعددسنی علماءاور مذہبی اسکالرز نے بھی ا سکو بیان کیا ہے لیکن اولیاءکے منکرین اس بات کوتسلیم نہیں کرتے ۔روایات کے مطابق ایک بار سرکار بغداد حضور غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانیؒ دریا کی طرف تشریف لے جا رہے تھے وہاں کنارے پر انہوں نے ایک نوے سال کی بڑھیا کو دیکھا انتہائی پرسوز اندازمیں زار و قطار رو تے دیکھا آپ نے اپنے ساتھ موجود ایک مرید نے پوچھا یہ بوڑھی عورت کیوں رورہی ہے اس نے بارگاہ غوثیت میں عرض کیا کہ یا حضرت! اس بوڑھی عورت کا اکلوتا خوبرو بیٹا تھا بیچاری نے اس کی شادی رچائی دولہا نکاح کرکے دولہن کو اسی دریا میں کشتی کے ذریعے اپنے گھر لا رہا تھا کہ کشتی الٹ گئی اور دولہا اور دلہن سمیت ساری بارات ڈوب گئی اس واقعہ کو برسوں گزر چکے مگر ماں کو اب بھی اپنے بیٹے اور بہو کا انتظار رہتاہے اس بیچاری کا غم جاتا ہی نہیں روزانہ اس دریا پر آتی ہے اور بارات کو نہ پاکر رو دھو کر چلی جاتی ہے۔ حضور غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو اس بوڑھی عورت پر بڑا ترس آیا آپ ن وہیں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور ر ڈوبی ہوئی کشتی دریا سے برآمد ہونے کی التجا کی ابھی شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے سجدے سے سر بھی نہ اٹھایا تھا کہ یکایک وہ کشتی دولہا دولہن اور باراتی اپنے تمام ساز و سامان سطح آب پر نمودار ہوگئی چند ہی لمحوں میں کنارے آلگی تمام باراتی سرکار بغداد سے دعائیں لیکر خوشی خوشی اپنے گھر پہنچے اس کرامت کا چرچا چہارسو پھیل گیا ک جسے سن کر بے شمار کفار نے آکر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے دست حق پرست پر ایمان قبول کرلیا بیشتر سے زیادہ لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ حضور غوث پاک کی دعا سے جو ڈوبی ہوئی کشتی برآمد کروائی اس کے دولہا حضرت سید کبیرالدین شاہ دولہ دریائی تھے جن کا مزار پرانوار پاکستا ن کے معروف صنعتی شہر گجرات میں مرجع خلائق ہے ایک روایت یہ بھی ہے کہ شاہ دولہ پیر کے نام سے مشہور حضور کبیرالدین دولہا دریائی جب دریا سے باہر آئے تو سرکار غوث پاک کے ہاتھ پر بیعت کی اور سرکار غوث پاک کی اتنی خدمت کی تو سرکار غوث پاک نے اپنا جانشین مقرر فرمایا سرکار غوث اعظم کے وصال کے بعد آپ نے گدی یعنی مسند اپنے پیر بھائی سید منور شاہ آلہ آبادی جو سرکار غوث پاک کے بھانجے ہیں ان کو عطا کر دی اور آپ خانقاہ غوثیہ سے تبلیغ اسلام کرتے ہوئے گجرات پہنچے اور پھر آپ کا وصال ہوا دولے شاہ کے چوہے بھی آپ سے منسوب ہیں جو گلی محلوںمیں آپکو بھیک مانگتے نظر آئیں گے ۔بہرحال ڈوبی ہوئی کشتی پھر سے پانی سے نکالنا یہ حضور غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی ایک زندہ کرامت ہے جب جب کوئی یہ گلیوںمیں ندادے گا لے گیارھویں والے دا ناں ڈبی ہوئی تر جائے گی اس کرامت کی یاڈ تازہ ہوتی رہے گی۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: