Liaqat Baloch Today's Columns

رمضان کریم ،فضائل قرآن از لیاقت بلوچ

Liaqat Baloch
Written by Liaqat Baloch

قرآن مجید اور رمضان آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ رمضان میں قرآن مجید نازل ہوا، رمضان میں قرآن کی تلاوت کی اپنی اہمیت اور عظمت ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کلام پاک سے بڑھ کر کوئی سفارش کرنے والا نہ ہوگا نہ کوئی نبی ،نہ کوئی فرشتہ اور نہ کوئی اور ۔ “ آپ ﷺ نے قرآن کریم کی بہت بڑی عظمت بیان کردی ، قیامت کی سختی میں ہر کوئی سفارش کا متلاشی ہوگا ایسے وقت سب سے بڑا سفارش کرنے والا اللہ کاکلام قرآن مجید ہوگا ، قرآن کی تلاوت ، قرآن کا فہم ، قرآن کے احکامات کی پابندی اور قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کی جدوجہدکی رب کریم ،اہل ایمان کو توفیق عطا کردے ،آمین۔
رب کریم نے ماہ رمضان کی عظمت و فضیلت کی سب سے بڑی دلیل یہ دی ہے کہ اس مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا جس میں انسانوں اور قوموں کی ہدایت ، رہنمائی ، اصلاح اور فلاح کا مکمل پروگرام دے دیا ۔ اسی لیے اسلام مکمل نظام حیات اور ضابطہ حیات ہے۔ قرآن کریم کی ہدایت اس قدر واضح ، دوٹوک اور روشن ہے کہ اس سے بہتر کوئی اور رہنمائی نہیں ہوسکتی اور نہ ہی کسی فلسفہ حیات سے کوئی قوی دلائل پیش کیے جاسکتے ہیں ، قرآن کی یہ تاثیر ہے کہ جوں ہی قرآن مجید کے مطالب اور دلائل پیش کیے جاتے ہیں تو کوئی بھی ذی شعور اور سلیم الفطرت انسان قرآن کے پیغام اور ہدایت و دلائل سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، انسان انکار کردے تو الگ بات لیکن اس کے پاس سرتسلیم خم کردینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا اسی لیے قرآن مجید اللہ کی طرف سے الفرقان ہے۔
قرآن کریم کے احکامات رسول اللہ ﷺکے اصحاب ؓ پر اثر پذیر تھے ،آپ کی صحبت میںچند ساعتیں گزار لینے والوں پر کئی کئی گھنٹے اس کی تالیفات پڑھنے سے زیادہ مفید ثابت ہوتا، رسول اللہ ﷺ کی مجالس میں حاضر اور اس کی صحبت سے مستفید ہونے والے صحابہ کرام ؓ کسی بھی کتاب سے بے نیاز تھے۔ جس شخص کو یہ صحبت میسر آجاتی وہ رسول اللہ ﷺکے ہاتھوں کی حرکت اور آنکھوں کے اشارات کو دیکھ کر آپ کی مجلس سے پھوٹنے والی روحانی شعاعوں کو محسوس کرلیتاتھا۔ اس صحبت کی برکات ماحول کی اثر پذیری سے ناآشنا شخص صحابہ کرام ؓ کے مقام کو نہیں سمجھ سکتا ، صحابہ کرام ؓ تو پکار اٹھتے ”یارسول اللہ ﷺآپ پر میرے ماں باپ قربان “ یہ ہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺپر وحی کی صورت میں قرآن کا نزول اور اس کے احکامات پر عمل جو ش و خروش پیداکردیتا۔
قرآن کریم کے فضائل ،اثر پذیری کااندازہ لگائیے کہ رسول اللہ ﷺپر وحی کا مسلسل نزول تھا، ہر روز مالک ارض و سماءکی طرف سے انہیں ایک نیا پیغام ملتا ، روزانہ اس پاکیزہ پیغام سے غسل کرکے پاکیزگی حاصل کرتے ۔ کبھی اذان کا حکم آتا اور شروع ہوتی ، کبھی اقامت صلوٰة کا حکم نازل ہوتا ،ایک دن نکاح مشروع ہوتا ، حکم کے ساتھ چار بیویوں تک محدود کردیا جاتا اور قیام عدل کے ساتھ مشروط قرار دیاجاتا ،پھر شراب کی حرمت نازل ہوتی اورشرابوں کے جاموں کوزمین پر پھینک دیاجاتا یہ تو آسمانی احکامات کی چند مثالیں ہیں ،اطاعت ،اتباع اور دل و جان سے عمل کی ہی یہ کیفیات اپنے عروج پر پہنچ گئیں جب قرآن کریم میں حکم آیاکہ ”پس تمہارے پروردگار کی قسم !یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ بھی نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔ ایسے پاکیزہ نفوس کے ذریعے قرآن نے ظلم و جبر کے معاشرے میں خیر ،فلاح ،عدل وانصاف کاانقلاب برپا کردیا ۔ قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺکی رسالت کااہتمام کیا اور صحابہ کرام ؓنے آپ سے صادر ہونے والے عمل کی حفاظت کااہتمام کیا۔
رسول اللہ ﷺنے قرآن کریم کے پیغام کے ذریعے انسانوں کے غیر متمدن معاشرے کو نئی بات ، انقلابی پیغام سے آشنا کردیا ، اس دور کے انسان کو قرآن و سنت کی ہر بات دلکش لگتی تھی ، تہذیب ،تمدن ،ذمہ داریوں کے احساس کا محیر العقول دور کاآغاز ہوگیا ، خیموں میں رہنے والے بدو دنیا کے استاد و راہنما بن گئے ، عرب معاشرہ کے افراد ذہین اور قوی قوت یاد داشت کے مالک تھے ، وہ کوئی بات ایک دفعہ سن لیتے اُن کے ذہن پر نقش ہوجاتی ، اور نہ ہی کبھی بھولتے۔ اگرچہ آ ج کے دور میں کمپیوٹر ،تحریرکے جدید ذرائع نے یاد داشتیں کمزور کردی ہیں لیکن اس کے باوجود حیرت انگیز قوت برداشت ، قوت یاد داشت کے لوگ کل بھی اور آج بھی موجود ہیں جو بہت ہی مختصر مدت میں قرآن کریم حفظ کرلیتے ہیں۔ قرآن کے فضائل میں قرآن کا بڑا معجزہ یہ ہی ہے کہ انسانی سینوں میں قرآن محفوظ ہے اور ماہ رمضان کی برکات کابڑا ذریعہ یہ ہی ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت ، حفاظ کرام قرآن سنا کر دینی محبتوں اور اطاعت کا ماحول بنادیتے ہیں۔
قرآن مجید اور رمضان آپس میں ایسے جڑے ہوئے ہیںکہ رمضان ہو اور تلاوت قرآن نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے ، قرآن مجید رمضان میں ہی نازل ہوا ، نزول کی بابرکت رات ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں ہے۔ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے کہ:” علانیہ اور خفیہ صدقہ کی تشریح فرمادی ۔ “کلام اللہ کااعلانیہ پڑھنے والا ،علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور آہستہ پڑھنے والا خفیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت وہ عظیم صدقہ جاریہ ہے جس کی برکات انسان کی زندگی میں اور موت کے بعد ملتی رہیں گی۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ تم میں سے سب سے بہتر انسان وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔ “ آپ ﷺ نے کتنی بڑی بشارت اور خوشخبری عطا فرمادی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب اہل ایمان کو اس کی قدر اور عمل کی توفیق عطا فرمائے ،آمین۔
قرآن اللہ کے قرب کاذریعہ ہے ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ :”تم لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور اللہ کے ہاں تقرب حاصل کرنے کا اللہ کے حکم کے مطابق قرآن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے ۔“قرآن کریم اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ قرب کاذریعہ ہے ، قرآن کی تلاوت کرنے والا مقام قرب میں ہوتاہے ، قرآن کی تلاوت کے بعد مانگی جانے والی دعائیں بہت جلد قبول ہوتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس شخص کے قلب میں قرآن کریم کاکوئی حصہ نہیں وہ بمنزلہ ویران گھر کی طرح ہے۔ “جس دل میں قرآن کی محبت ، قرب اور اس کا کوئی حصہ نہ ہو حقیقت میں یہ ویران اور تباہ شدہ گھر کی مثال ہے ، وہ شخص بڑا ہی محروم ہے جس کا دل اللہ کی یاد اور اس کے کلام سے خالی ہو۔
انسانوں کی اُخروی بلندی اور پستی قرآن کی وجہ سے ہوگی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”اللہ تعالیٰ اس کتاب یعنی قرآن کریم کی وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کتنے ہی لوگوں کو پست و ذلیل کرتاہے۔ “ حدیث مبارکہ سے یہ امر بالکل واضح ہوگیا کہ قرآن وہ نعمت ہے ، قرآن کے وہ فضائل ہیں جس کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کو دنیا اور آخرت میں ترقیاں اور بلندیاں نصیب کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس قرآن کے چھوڑنے کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ذلیل کرتاہے۔ اہل ایمان کی ، پوری اُمت کی سربلندی ، عزت وتکریم قرآن پر عمل کرنے میں ہے ….رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے :”ہر چیز کے لیے کوئی شرافت اور افتخار پیداکرتاہے جس سے وہ تفاخر کرتی ہے میری اُمت کی رونق اور افتخار قرآن شریف ہے۔ “ اُمت کے لیے رزق ، افتخار، عزت ، وجاہت ہے تو وہ قرآن کریم سے ہی ہے اور آج قرآن و سنت کے احکامات کو چھوڑ کر اُمت اغیار کے ہاتھوں ذلت و رسوائی کاشکار ہے۔
قرآن کے فضائل تو بے پناہ ہیں لیکن اسے درجات جنت کی بلندی کاذریعہ قرار دیاگیاہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :”قیامت کے دن صاحب قرآن کو کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پہ چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے تو دنیا میں پڑھتاتھا پس تیری آخری منزل وہ ہوگی جو تو آخری آیت پڑھے گا ۔ “ تلاوت قرآن کرنے والے کو ایک ایک کلمہ پر درجات کی بلندی نصیب ہوتی ہے ، قرآن کو صحیح طریقہ سے پڑھنا سیکھا جائے ، قرآن کے احکامات کو سمجھا جائے اور قرآن کی ہدایات پر عمل کیاجائے ، قرآن و سنت کے نظام کا نفاذ ہو تو اُمت ذلت ، گمراہیوں ، نفرتوں اور تعصبات کے گہرے کھڈوںسے نجا ت پاسکتی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کے فائدے ”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ جسے قرآن پاک کی تلاوت نے میرے ذکر اور دعا مانگنے میں مصروف رکھامیں اسے مانگنے والے سے زیادہ عطا کروں گا۔ “

٭…٭…٭

About the author

Liaqat Baloch

Leave a Comment

%d bloggers like this: