M Sarwar Siddiqui Today's Columns

جسم فروشی سے بڑاجرم از ایم سرور صدیقی ( جمہور کی آواز )

M Sarwar Siddiqui
Written by M Sarwar Siddiqui

ماہ ِ صیام کا مقدس مہینے میں جہاں پوری دنیاکے مسلمان رحمتیں سمیٹ رہے ہیں وہاں کچھ ایسے بھی ہیں جو دونوںہاتھوں سے نوٹ اکٹھے کرنے کیلئے حدسے گذرجاتے ہیں حقیقت میں تو یہ مہینہ خود احتسابی کا بھی ہے یہ کہتے ہوئے درویش کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ایک دل آویز مسکراہٹ لیکن لہجہ انتہائی سنجیدہ۔۔اس نے کہا اگر خودکا محاسبہ کرنا پڑ جائے تو بتائیے بجل پھر اچھے گوشت کے پیسے وصول کرکے ہڈیاں ،چھچھڑے اور چربی کے ساتھ ساتھ آلائشیں بھی ساتھ تول دینے والے قصائی کی کیا حالت غیر نہ ہوجائے گی درویش کی بات سن کر سب کو چپ لگ گئی جیسے سناٹا چھاگیاہواس نے کہا ماہ ِ رمضان میں مساجد عبادات کرنے والوںسے بھرجاتی ہے لیکن ایک روپے کی چیز 10کی فروخت کرنے والے کی ادا کو کیا کہئے دل احساس سے عاری ہونے پر سمجھ لیا جائے کہ اکثریت فیشن کے طور مساجد جاتی ہے بلاشبہ دلوںکے بھید اللہ خوب جانتاہے پھر اگریہ عبادات، نبی ٔ مکرم ﷺ سے عشق کا دعویٰ اور اللہ سے لو لگانے کی کوشش سے ہماری عادات اور دلوںمیں نرمی پیدانہیں ہوتی تو پھر یہ سب کچھ عبث ہے ۔یہ سوچناپڑے گا کہ ریڑھی والوں کو تنگ کرکے مفت سبزیاں اور پھل گھر لے جانیوالے پولیس کانسٹیبل اور کارپوریشن کے اہلکار روزہ کیسے افطارکریں گے؟ کوئی کچھ نہیں جانتا۔یاپھر خالص دودھ کے نام پرسٹارچ لگا کر پانی اور پاؤڈر کی ملاوٹ کرنے والا دودھ فروش کیسے مال کمائے گا یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کسی بے گناہ کے ایف آئی آر میں ناکردہ گناہ لکھنے والا انصاف پسند ایس ایچ او کیا کرے گا؟یہ کوئی بتائے گا کہ 500 یونٹ کو 1500 یونٹ لکھنے والا میٹر ریڈر کیاکرے گا یا یاپھرگھر بیٹھے کر حاضری لگوا کرحکومت سے مفت کی تنخواہ لینے والے سرکاری ملازم ،یا قومی اداروں میں بھرتی ہونے والا سیاستدانوںکے چہیتے کو کام کرناپڑجائے تو ان پر کیا بیتے گی۔ ناپ تول میںکمی کرکے دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر پورا پیسہ لینے والے دکاندار یا اچھی قیمت لے کر گلاسڑا فروٹ فروخت کرنے والے کدھرجائیں گے۔اس بات کی چرچا بھی ضروری ہے کہ معمولی سی رقم کے عوض سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنیوالے وکیل خوداحتسابی کیلئے کون سافارمولا ایجادکریں گے ۔ درویش نے کہا آج رات سوتے وقت تنہائی میں اپنے آ پ سے ایک سوال ضرورکرنا کہ عبادت کے باوجود آپ کا دل سخت کیوں ہے؟دلوںمیں نرمی سے مزاج خوشگوارہوجاتاہے سخت دل والے کبھی جائے نماز میں اللہ کے حضوردعاکرتے وقت تھوڑا سا رولیاکریں اس سے دلوںکی کثافت دھل جاتی ہے ورنہ عام آدمی کڑھتا رہتاہے اپنے آفیسر کے لئے رشوت وصول کرنے ولا فرنٹ مین معمولی سا چپڑاسی یاپھر کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میچ فکسنگ کر کے ملک کا نام بدنام کرنیوالے کھلاڑیوںکا ضمیر جاگے گا؟۔ سیاست سیاست کھیلتے ہوئے کروڑوں کا بجٹ غبن کرکے دس لاکھ کی سڑک بنانے وا لے ارکان ِ اسمبلی یا وزیر مشیر،میگاپراجیکٹ میں اربوں روپے سے بیرون ممالک جائیداد بنانے والے حکمران توبہ تائب ہوجائیں گے یا لاکھوں کی کرپشن کرکے ہزار وںکے ترقیاتی کام کروانے والے بلدیاتی نمائیدے اورہزاروں کا غبن کرکہ چند سو میں ایک نالی پکی کرنے والا ضمیر فروش کونسلر یا پھر دوائوں اور لیبارٹری ٹیسٹ پر کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والے ڈاکٹر وں کا کیا بنے گا ؟۔اکثرخیال آتاہے اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا ،حکمرانوںکی کاسہ لیسی کرنے والے صحافیوں کا چولہا کیسے جلے گا؟پھر مذہب کا لبادہ اوڑھ کردین فروش ملاں کیا کرے گا؟ یہ سوال تو دل میں ترازو ہے کہ اگر ان سب لوگوںنے خود کا محاسبہ نہیں کیا تو پھر معاشرہ کیسے بہتری کی طرف جاسکتا ہے روزے کے نام پر فقط بھوکا پیاسارہنا تو اللہ کو گوارانہیں اگر ہم برائیاںنہیں چھوڑتے تو یہ خودفریبی کے مترادف ہے اور اللہ سے تو کوئی چیزمغفی یا پوشیدہ نہیں وہ تو دلوں کے بھید اور نیتوںکوبھی خوب جانتاہے۔درویش نے کہا عبادات سے اللہ دلوںکو پھیردیتاہے نرمی اور گداز پیدا ہونا یقینی بات ہے ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہر شخص دوسروںکی اصلاح چاہتاہے دن رات دوسروںکو سکون غارت کرنے والے بھی اللہ سے جنت کے طلبگار ہیں ۔ہے نہ خودفریبی صرف اپنی اصلاح کرنے والے خود احتسابی کرسکتے ہیں کیونکہ خود احتسابی سوئے ہوئے ضمیرکو جگادیتی ہے۔مفت کی تنخواہ لینے والے سرکاری ملازم، ناپ تول میںکمی کرنے والے،سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنیوالے ،ملاوٹ کرنے والے،مفت سبزیاں اور پھل گھر لے جانیوالے،بے گناہوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے والے،اچھی قیمت لے کر گلاسڑا فروٹ فروخت کرنے والے،دین فروش ملاں،قلم کو بیچ کر مال بنانے والے،فارماسوٹیکل کمپنیوں سے کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والے ڈاکٹر،کرپٹ حکمران اور اپنے اختیارات سے تجاوزکرنے والوںکو خاص طورپر خوداحتسابی کی ضرورت ہے جو ایسا نہ کرے اس کی زندگی میں ماہ ِصیام آئے نہ آئے کیا فرق پڑتاہے اس کا مطلب ہے اس کا ضمیر ملامت نہیں کرتا اورجس کا ضمیر ملامت نہ کرے وہ ضمیرفروش ہے یادرکھو ضمیرفروشی توجسم فروشی سے بڑا جرم ہوتاہے۔

٭…٭…٭

About the author

M Sarwar Siddiqui

M Sarwar Siddiqui

Leave a Comment

%d bloggers like this: