Shahroza Waheed Today's Columns

نورِ علم از شہروزہ وحید

Shahroza Waheed
Written by Shahroza Waheed

اللہ رب العزت نے جب انسان کو وجود بخشا اور ساتھ ہی حیوانات و نباتات کو پیدا فرمایاتو انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور علم کی بدولت اشرف المخلوقات کے عہدے پر فائز کیا۔ علم ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں اپنی لاعلمی، غفلت اور اپنی ذات کی مخفی کمزوریوں کا احساس ہوتا ہے۔ علم سے غور و فکر کرنے اور چیزوں کو پرکھنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ حضرت علی المرتضیؓ فرماتے ہیں، ’’علم وہ شجر ہے، جو دل میں اگتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔‘‘ علم کی بدولت انسان مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر نئے ولولے اور جوش کے ساتھ پُر رونق زندگی اور اس کے حسین لمحات بھرپور طریقے سے گزارنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ زندگی میں وہ علم ضرور حاصل کریںجس سے آپ کی زندگی میں بہتری آئے۔ جو آپ سے جڑے لوگوں کو نفع دے۔
علم بڑا خود دار ہے۔ یہ اسی انسان کے دل میں بسیرا کرتا ہے جو اس کی قدر و منزلت سے بخوبی واقف ہو۔ جسے علم کی جستجو اور تلاش ہو، جس نے علم کی پیاس محسوس کی ہو۔علم کی دولت سے سب مالامال ہوتے ہیں لیکن عمل کی طاقت سے چند ایک واقف ہوتے ہیں۔ علم کامیابی کی بلندیوں تک نہیں پہنچاتا بلکہ عمل لے کر جاتا ہے۔ علم تب تک فائدے مند ثابت نہیں ہو سکتا جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے۔ علم، عمل کے بغیر بیکار ہے اور عمل، علم کے بغیر جہالت۔ علم، عظمت و نور بھی ہے اور سکون قلب کا ذریعہ بھی۔ علم، رحمت بھی ہے اور خداوندی کا انمول تحفہ بھی۔
قدرت جب کسی کا دل بدلنا چاہے،کی زندگی بدلنا چاہے،کسی کو بہترین راستے کا مسافر بنانا چاہے تو اسے علم کی روشنی عطا کرتی ہے۔ علم کا کمال ہے کہ یہ جیسے ہی زندگی میں آتا ہے انسان اپنے آپ کو دیکھنے اور جانچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ انسان خود سے سوال کرتا ہے کہ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ میری ذات کیوں وجود میں آئی؟ اللہ تبارک و تعالی نے مجھے کس عظیم مقصد کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا ہے؟ یہ سوالات انسان کو غفلت سے بیدار کرتے ہیں اور یہیں سے شعوری زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ علم سے انسان کے مزاج میں سنجیدگی آجاتی ہے۔ وہ اپنی ذات کے ساتھ مخلص ہو جاتا ہے اور ایک دن اپنی زندگی کا منفرد اور حقیقی مقصد تلاش کر لیتا ہے۔
جس طرح رزق کو پانے کے لیے محنت و مشقت اور تگ و دو کی جاتی ہے، اسی طرح علم کو پانے کے لیے بھی جدوجہد اور طویل سفر طے کرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر علم کے جواہرات ملتے ہیں۔ آپ کے اردگرد بے شمار اہل علم، اسکالرز، ادیب اور قلم کار موجود ہوں گے۔ انہیں تلاش کیجئے اور ان کی فکری مجالس میں شرکت کریں۔ ان سے مفید اور کار آمد علم حاصل کریں جو آپ کے اندر مثبت تبدیلی کا باعث بنے اور آپ کی دنیا اور آخرت میں معاون و مددگار ثابت ہو۔ اگر آپ کے اندر علم کی جستجو ہے،علم کی تڑپ ہے،علم کی پیاس ہے تو اس پیاس کو بجھانے کے لیے اللہ سے نفع بخش علم مانگیں۔ اللہ سے رجوع کریں، مجاہدہ کریں، ریاضت کریں، سجدہ کریں،اس سے جب بھی مانگیں تو اپنی اوقات دیکھ کر نہ مانگیں ہمیشہ اس کی شان کے مطابق مانگیںکیونکہ وہ ذات دے سکتی ہے۔ ہر ناممکن کو ممکن میں بدل سکتی ہے۔
اگر آپ اپنے اندر علم کا دیا جلانا چاہتے ہیں تو تین موئثر طریقوں پر عمل کریں۔ بہترین لٹریچر کا مطالعہ کریں اور مشاہدات و تجربات کی مدد سے علم میں اضافہ کیجیے۔ دنیا میں اتنی حکمرانی بادشاہوں اور شہنشاہوں نے بھی نہیں کی جتنی حکمرانی کتابوں نے کی ہے۔ کتابیں، زندگی کے ہر خاص و عام موڑ پر رہنمائی کرتی ہیں۔ انسان کو خاک سے اٹھا کر عظمت کی معراج تک لے جاتی ہیں۔ انسان کو اپنی ذات سے آشنا کرواتی ہیں اور بلند مقام عطا کرتی ہیں۔ کتابوں کی مدد سے حاصل کیا گیا علم، لمحوں میں زندگی بدل سکتا ہے۔ کسی کا کوئی لفظ، جملہ یا خیال انسان کو سوچنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ مشاہدہ، حصول علم کا ذریعہ ہے۔ مشاہدہ یعنی غوروفکر کرنا یا چیزوں کا بغور معائنہ کرناہے۔ مشاہدے کی آنکھ سے انسان صحیح اور غلط علم کی نشاندہی کر سکتا ہے اور یہ طے کرسکتا ہے کہ جو علم میرے پاس آ رہا ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ مشاہدہ کرنے سے تصورات و نظریات کے متعلق نئے اصول واضع ہوتے ہیں۔ جہاں انسان مشاہدات کے ذریعے چیزوں کو پرکھتا ہے وہیں حصول علم کے لیے تجربات بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں۔ انسان تجربات کی مدد سے زندگی کے نشیب و فراز سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ تجربات اچھے بھی ہو سکتے ہیں اور تلخ بھی۔ استاد یا کتاب سے حاصل کیا گیا علم تو بھول سکتا ہے لیکن جو علم تجربے کے تحت حاصل کیا گیا ہو وہ ہمیشہ ذہن میں موجود رہتا ہے۔
علم یا تو فائدہ دیتا ہے یا نقصان۔ اگر فائدہ دے تو خوشی ملتی ہے اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر نقصان دے تو خفت و شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ کو علم کی طلب ہو گی تو وہ مختلف ذرائع سے آپ تک پہنچ جائے گا لیکن اس کو قبول کرنے سے پہلے اپنے دل کے دروازے پر پاسبان بن کر بیٹھیں۔ اگر قبول کرنے کے قابل ہے تو اسے خوش آمدید کہیں۔ اگر ناقص علم ہے تو اسے نظر انداز کریں۔ اگر ایک عرصے سے آپ کے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اپنی پریشانیوں پر قابو نہیں پا سکے۔ آپ کے دل میں نئی زندگی کی تڑپ پیدا نہیں ہوئی تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا علم درست نہیں ہے۔ کسی بھی صورت اپنے علم پر اکتفا نہ کریں۔ اپنے علم کو حتمی اور کامل نہ سمجھیں۔ ایسے علم کو شک کی نگاہ سے ضرور دیکھا کریں جس میں بہتری کی مزید گنجائش موجود ہو۔

٭…٭…٭

About the author

Shahroza Waheed

Shahroza Waheed

Leave a Comment

%d bloggers like this: