Ali Jaan Today's Columns

رمضان المبارک کی فضیلت اورذخیرہ اندوز از علی جان ( مستقبل جاں )

Ali Jaan
Written by Ali Jaan

اللہ تعالیٰ نے انسان کو روح اور جسم کا مجموعہ بنایا ہے۔ جس طرح انسان کھانے پینے کی کمی سے جسمانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے اس طرح روحانی غذا کی کمی سے روحانی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جہاں دنیا میں انسان کے لئے طرح طرح کی اشیائے خورد نوش پیدا کی ہیں وہاں ہماری روحانی قوت کے لئے بھی بہت احکامات ارشاد فرمائے ہیں۔ انہی عبادات میں روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کو جسمانی و روحانی دونوں قوتوں کی مضبوطی عطاء کرتا ہے۔ کہ انسان اس عظیم عبادت پر عمل کرکے اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرسکتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے۔ترجمہ:۔اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔ایمان والوں سے ارشاد ہے کہ روزے صرف تم پر ہی فرض نہیں ہوئے بلکہ تم سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ البتہ ان کی نوعیت مختلف تھی اور تم پر اس لئے فرض کئے گئے کہ تم متقی اور پرہیز گار ہو جاؤ تقویٰ کے معنی ہیں احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم ہو جائے دل سراپانیاز بن کر بارگاہ رب العزت میں جھک جائے اور اعضائے بدن اطاعت و فرمانبرداری کی مجسم تصویر بن جائے۔روزہ رکھنے سے صبروتحمل کی عادت پڑتی ہے، روزہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکرکا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور روزہ کے ذریعے خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا موقع ملتا ہے۔ روزے سے انسان کی عقل کو نفس پر پورا پورا غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ روزہ سے جہاد کی تربیت حاصل ہوتی ہے اور روزہ سے چشم بصیرت کھلتی ہے۔حضور نبی کریم ؐ کا ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔عمران خان کی حکومت کی خوش قسمتی کہیں یابدقسمتی کہ جب سے خان صاحب نے کرسی پربراجمان ہوئے تب سے کروناایک خطرناک اژدھے کی طرح پھن پھیلا کے بیٹھ گیاجس وجہ سے غربت مہنگائی بے روزگارکے انبارلگ گئے جس وجہ سے خان سے کروناسے پیچھاچھڑانے میں ناکام ہیں اورلوگ اس کروناکی وجہ سے مہنگائی اوربے روزگاری نے آڑے ہاتھوں لیاہواہے جس وجہ سے لوگ خودکشیوں پرمجبورہیں۔رمضان المبارک کی برکات توہرایک کوحاصل ہوتی ہیں مگرمہنگائی کی وجہ سے کئی خاندان بھوکے رہتے ہیں جس سے ان کے 12مہینے روزے ہیں اسی ہفتے کی وفاقی ادارہ شماریات نے ہفتہ وار مہنگائی کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق زندہ مرغی، آلو، ٹماٹر، دودھ، گھی، مٹن، خوردنی تیل اور دہی سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح 18.43 فیصد تک پہنچ گئی۔زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 27 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ آلو کی فی کلو قیمت میں بھی 3 روپے 87 پیسے کا اضافہ، ٹماٹر کی فی کلو قیمت بھی 3 روپے 33 پیسے بڑھ گئی ، دودھ، گھی، مٹن، خوردنی تیل اور دہی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے مطابق عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے رواں سال مارچ کے مہینے میں جون 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور دودھ کے نرخوں میں اضافہ ہے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس، جو اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے کے مطابق ان کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطاً 118.5 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جبکہ فروری میں یہ 116.1 پوائنٹس پر تھا ایف اے او نے بیان میں کہا کہ سال 2020 میں دنیا بھر میں ریکارڈ اناج کی کاشت کاری کی گئی جبکہ ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں سال بھی پیداوار میں مزید اضافے کا امکان ہے ماہانہ بنیادوں پر ایف اے او کا اناج کی قیمتوں کا انڈیکس مارچ کے مہینے میں 1.7 فیصد تک گر گیا ایف اے او کے خوردنی تیل کی قیمت کے انڈیکس میں 8 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد اس نے جون 2011 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل 10ویں ماہ سے اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس میں 3.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں پرمہنگائی کی بات ہے وہ توجینے نہیں دیتی بچی کچھی کسرذخیرہ اندوزی کرنے والے پوری کردیتے ہیں جوایک گھمبیرمسئلہ بن چکاہے ذخیرہ اندوزوں کے بارے میں ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے۔‘‘ (رواہ ابن ماجہ والدارمی)ہمارے معاشرہ میں ہر سطح پر یہ عجیب وغریب وباپھیل چکی ہے کہ جہاں رمضان المبارک قریب آیا وہاں عام ضرورت کی اشیاء کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیںہم خودکومسلمان توکہلواتے مگرعمال دیکھیں توکافربھی شرماجائیں کافرکی پیسی جیسی اشیاسوروپے سے سترتک ملتی ہے اورہم مسلمانون کی کھجورسوروپے والی پانچ سو تک ملتی ہے حالانکہ ہر وقت اور ہر قسم کی ذخیرہ اندوزی اسلام میں ممنوع نہیں بلکہ اس کے لیے خاص لفظ ’’احتکار‘‘ کا استعمال کیا گیا ہیں یعنی ’’اشیاء ضرورت کا اس لیے ذخیرہ کرلینا تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کئے جائیں جسے عرف عام میں مہنگائی کہتے ہیں‘‘ بالفاظ دیگر مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ اندوزی احتکار ہے۔صاحب ہدایہ کتاب البیوع میں لکھتے ہیں ’’احتکار (ذخیرہ اندوزی) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ یا کوئی اور جنس بڑی مقدارمیں اس لیے اکٹھی کرلے یا دوسرے سے خرید کر اس لیے جمع کرلے کہ بازار میں اس کی کمی واقع ہو اور مہنگائی ہوجائے اور تمام خریدار، ضرورت مند اسی کی طرف رجوع کریں اور خریدارمجبورہوکر ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو اس کی مقررکردہ قیمت ادا کرے۔ رحمت کے آثار یہ ہیں کہ اس رزق میں برکت ہو‘ ایسے رزق کمانے والے کو حقیقی سکون نصیب ہو اورپھر اس حلال روزی کمانے والے کے دل میں نیک کاموں کا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا شوق پیدا ہو لیکن جب معاشرہ پر لعنت پڑنے لگے تو اس کے اثرات اس انداز میں نظر آتے ہیں کہ ہزاروں روپے کمائے جارہے ہیں لیکن زبان پر یہ الفاظ سننے میں آتے ہیں ’’اتنا کماتے ہیں پتہ نہیں کہاں جاتا ہے۔‘‘ اس کی وجہ برکت کا ہاتھ اٹھ جانا ہے‘ پھر حرام مال کمانے کے بعد سکون ختم ہوا‘ عبادات کا شوق ہی نہ رہا‘ نیک کاموں کی طرف دل مائل ہی نہیں ہوتا یہ تمام لعنت کے آثار ہیں۔‘‘حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ’’جو شخص چالیس دن ذخیرہ اندوزی کرے اور ذخیرہ اندوزی کا مقصد مہنگائی ہوتو وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہے۔ (رواہ رزین)حضرت ابواْمامہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’جو شخص چالیس دن تک غلہ مہنگائی کے خیال سے ذخیرہ کرے پھر(غلطی کا احساس ہونے پر) وہ تمام غلہ صدقہ کردے پھر بھی اس کی غلطی کا کفارہ ادا نہیں ہوتا۔‘‘(رواہ رزین)حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ترجمہ:’’وہ ذخیرہ اندوز بندہ برا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بھاؤ سستا کردے تو غمگین ہوجاتا ہے اور جب مہنگا کردے تو خوش ہوجاتا ہے۔‘‘اور پھر اتنا گھٹیا اور برا کام اور وہ بھی رمضان المبارک کے بابرکت دنوں میں‘ ان مبارک لمحوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان اس کے اندر ثواب کمائے روزہ داروں کے روزے کھلوائے، غریبوں کی مدد کرے، روزہ داروں کے لیے سہولت پیدا کرے اور اپنے گناہوں کو دھلوائے، اپنی مغفرت کا سامان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل کی اس بدعا پر آمین بھی فرمائی کہ’’برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔‘‘ہم مسلمان ہیں اوراپنے اللہ اوررسول کریم ؐ کوسامنابھی کرناہے اس لیے اپنے اعمال درست کریں تاکہ ان کے سامنے سرخروہوسکے۔

٭…٭…٭

About the author

Ali Jaan

Ali Jaan

Leave a Comment

%d bloggers like this: