نعت اور آداب نعت

الحمد اللہ نعت خوانی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے ۔اچھی اچھی نیتیں کر کے نعت شریف پڑھنا اور سننا باعث ثواب آخرت اور موجب خیر وبرکت ہے ۔ مگر ہر عمل خیر کے کچھ آداب ہوتے ہیں اسی طرح نعت خوانی کے بھی ہیں ۔ یقینا وہ بڑا خوش نصیب ہے جس کو خوش الحانی کی نعمت ملے اور وہ اس کا سو فیصد درست استعمال کرتے ہوئے اخلاص کے ساتھ نعت خوانی کرے ۔
الحمد اللہ ہمارے یہاں ایک سے ایک خوش آواز نعت خوان کثرھم اللہ تعالیٰ ہیں جو کہ عاشقان رسول کے قلوب کو گرماتے اور انہیں عشق مصطفی ﷺ میں تڑپاتے ہیں ۔ یا اللہ محبوب ﷺ کے ثنا خوانوں کی نظر بد اور حب جاہ وثروت سے حفاظت فرما۔ یا اللہ ان کو ان کے صدقے مجھ گنھگاروں کے سردار عطار بد اطوار کو بخش دے ۔ یااللہ امت مصطفی ﷺ کی مغفرت فرما ۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
کچھ عرصے سے ایک تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے اور وہ یہ کہ مخصوص ٹیکنیک کیساتھ بمع ذکر اللہ ایکو سائونڈ پر کچھ اس طرح نعت خوانی کی جارہی ہے کہ سننے والے کومحسوس ہوتا ہے کہ موسیقی کے ساتھ نعت شریف پڑھی جارہی ہے ۔ بلکہ جس کی نعت خوانی کی طرف توجہ نہ ہوا ور وہ اگر صرف سرسری طور پر ذکر واکی نعت شریف کی آواز سنے تو شاید یہی سمجھے کہ معاذ اللہ گانا بج رہا ہے ۔ یہ بات عاشقان رسول کیلئے کتنے بڑے صدمے کی ہے کہمیٹھے میٹھے آقا ﷺ کی ثنا خوانی کو محض پڑھنے والے کے انداز کے سبب کوئی فلمی گیت سمجھ بیٹھے ۔
مروجہ ذکر والی نعت خوانی کے جواز و عدم جواز میں علماء اہلسنت کا اختلاف چل رہا ہے ۔بعض مباح (جائز)کہہ رہے ہیں اور بعض ناجائز وحرام ۔جب کبھی ایسی صورت پیدا ہو تو عافیت اجتناب (یعنی بچنے )ہی میں ہواکرتے ہے ۔ چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ جلد ۸ ص:۳۰۳ پر فرماتے ہیں :
’’جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہوتو اسکا ترک اولیٰ (یعنی بچنا افضل )ہوتا ہے۔‘‘
دیکھا آپ نے ! سنت ومکروہ میں علماء کا جب اختلاف ہو جائے تو ترک افضل ہو تا ہے ۔ تو پھر ہجاں مباح اور حرام میں تعارض (ٹکرائو)ہووہاں بچنا کیوں نہ افضل ترین ٹھہرے گا ! یہ عمل میں احتیاط کا پہلو ہے اور طلب گا رضائے رب العزت کو مزید دلائل کی حاجت بھی نہیں ۔
فقہی مسائل میں علماء کرام کا اختلاف کوئی نئی بات نہیں اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں مگر ’’مروجہ ذکر والی نعت خوانی ‘‘کم از کم پاک و ہندوالوں کے لئے ایک نیا طریقہ ہے اور اسکی وجہ سے عوام و خواص کے ایک طبقے کو تشویش ہے ۔ جب کسی ایسے کام سے مسلمانوں میں نفرت کی کیفیت جنم لینے لگے جس کا کرنا فرض ،واجب یا سنت مؤکدہ نہ ہوتو اس کا ترک کرنا ہوگا اگر چہ افضل و مستحب ہو ۔
چنانچہ ایک مقدم پر میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت کو اجا گر کرنے کیلئے فرماتے ہیں :
’’لوگوں کی تالیف قلبی (یعنی دلجوئی )اور ان کو مجتمع (متحد)رکھنے کیلئے اجصل کو ترک کرنا انسان کیلئے جائز ہے تاکہ لوگوں کو نفرت نہ ہو جائے جیسا کہ نبی کریم ، رئوف الرحیم ﷺ نے بیت اللہ شریف کی عمارت کو اس لئے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی بنیادوں پر قائم رکا تا کہ نو مسلم ہونے کی وجہ سے اہل قریش اس کی نئی بنیادوں پرکی جانے والی تعمیر کو نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں ۔ تو آپ ﷺنے اجماع (اتحاد)کو قائم رکھنے کی مصلحت کو مقدم سمجھا ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ ج ۷:ص :۶۸۰ رضا فانونڈیشن مرکز الاولیا ، لاہور)
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ ایک مقدم پر مسلمانوں کو آسی ناراضگی اور گروپ بندی سے بچانے کیلئے رقمطراز ہیں
’’ایک نکتہ یا د رکھنا چاہیے کہ اپنے ملک اور چہر میں عام مسلمانوں کی جو وضع (یعنی شہرت)اور انگشت نمائی کا سبب ہوا سے اختیار کرنا مکروہ ہے ۔
چنانچہ علمائے کرام رحمۃ فرماتے ہیں :
’’اپنے چہر کی عادت اور طریقۂ کا رسے باہر ہو جانا وجہ شہرت اور مکروہ ہے ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ :ج:۲۲،ص:۳۹۱)
میرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃ کی خدمت میں مستحب کام کرنے کے بارے میں استفتاء پیش ہوا ، چونکہ فی زمانہ اس امر مستحب پر ہند کے اندر عمل کرنے میں فتنے کا احتمال تھا لہٰذا آپ رحمۃ سے ارشاد فرمایا :جہاں اسکا رواج ہے مستحب ہے ،ان بلاد (ہند کے شہروں)میں کہ اس کا (نام ونشان )نہیں ،اگر واقع ہو (یعنی کوئی کرے )تو جہال (یعنی جاہل لوگ )ہنسیں ، اور مسئلہ شرعیہ پر ہنسنا اپنا دین برباد کرنا ہے ،یہاں اس پر اقدام(یعنی عمل )کی حاجت نہیں ۔ خود ایک مستحب بات کرنی اور مسلمانوںکو ایسی سخت بلا (یعنی شرعیت کے مسائل پر ہنسنے کی آفت )میں ڈالنا پسندہ نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ ۔ج ۲۲ ،ص۶۰۳)
پیش کردہ جزئیات سے اظھر من الشمس وابین من المس (یعنی سورج کی طرح روشن اور شام کی طرح ظاہر ہوا کہ لوگوں کا مروجہ طریقہ جس کی شرعاً ممانعت نہ ہو ،اس سے ہٹ کرکوئی بھی ایسا فعل نہ کیا جائے جس سے لوگوں میں نفرتیں پھیلیں بلکہ کسی مستحب کام سے بھی اگر مسلمانوں میں پھوٹ پڑتی ،فتنے کھڑے ہوتے ہوں ،ناراضگیاں اور دوریاں پیدا ہوتی ہوں ،لوگ بد ظن ہوتے ہوں تو مسلمانوں کی دلجوئی کی خاطر اس مستحب کو ترک کرنا ہوگا ۔ مسلمانوں کو نفرت وحشت سے بچانا بہت ضروری ہے ۔جیسا کہ حضور اکرم ،نور مجسم شاہ بن آدم ،رسول محتشم ﷺ کا ارشاد معظم ہے :بشروا ولا تنفروا۔ ’’یعنی خوشخبری سنائو اور(لوگوں کو )نفرت نہ دلائو۔‘‘
(صحیح البخاری :ج: ۱،ص۴۲،حدیث ۶۹، دارلکتب العلمیہ ، بیروت )
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ کا فرمان عبرت نشان ہے : ’’مسلمانوں کی عاد کے خلاف کام کرنا اور وحشت دلانا یہ جائز نہیں ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ :ج :۲۲،ص:۳۳۹)
مروجہ ذکر والی نعت خوانیاں ہمارے یہاں کے لوگوں کے مزاج کے مطابق نہیں جبھی تو مسلمانوں میں افتراق وانتشار پھیل رہا ہے ،علمائے کرام اور عواک کے درمیان نفرتوںکی دیوار قائم ہو رہی ہے ، آپس میں بغض وعناد کی جڑیں استوار ہو رہی ہیں ، غیبتوں ، چغلیوں ، الزام تراشیوں ،دل آزاریوں اور بد گمانیوں کا ایک طوفان کحرا ہو گیا ہے جس کے سبب کبیرہ گناہوں اور جہنم میں لے جانیوالے کاموں کا ایک بہت بڑا دروازہ کھل چکا ہے ۔ اسکی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ باب المدینہ کراچی میں ہونے والی ایک عظیم الشان محفل نعت میں جب ذکر والی نعت شروع یوئی تو ایک مشہور و معروف محترم سنی عالم اس پر ٹوکا ، اس پر معزز نعت خوان منچ سے اتر کت چل دیئے ۔ دوسرے نعت خوان پڑھنے آئے تب بھی وہی انداز تھا تو چونکہ ان عالم صاحب کے نزدیک ایک گناہ کا کام ہو رہا تھا اسلئے وہاں سے چلا جانا ان کے لئے واجب تھا ، لہٰذا یہ بھی اُٹھے اور محفل سے تشریف لے گئے۔نتیجۃً ان عالم صاحب کے مریدین ومحبین اور ذکر والی نعت شریف کے قائلین وشائقین کے درمیان جھڑپ ہو گئی اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی ۔
دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
آہ ! شیطان نیکیوں کا بھرم دلا کر بھی کیسے کیسے گھنائونے کھیل کھیلتا ہے کہ مسلمانوں کو بسا اوقات نفلی کاموں میں جھونک دیتا ہے ! شریعت اسلامیہ احترام مسلم کرنیوالوں کی پذیرائی اور ایذائے مسلم کے ارتکاب کی سخت حاصؒہ شکنی کرتی ہے ۔ مسلمانوں کو ایذ ا پہنچتی ہو تو سنت عمل بھی بعض صورتوں میںحرام ہو جاتا ہے ۔مثلاً نماز فجر وظہر میں طوال مفصل (سورۃ الحجرات تا سورۃ البروج کو طوال مفصل کہتے ہیں )سے پوری دوسورتیں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ایک ایک سورۃ پڑھنی سنت ہے ۔ایک قول کے مطابق فجر و ظہر میں سورۃ فاتحہ کے علاوہ مجموعی طور پر چالیس یا پچاس اور دوسری روایت کے مطابق ساٹھ سے لیکر سوتک آیتیں پڑھی جائیں التبہ کوئی مریض یا ایسا آدمی نماز میں شامل ہو جس کو جلدی ہے اور دیر ہونے کی صورت میں اس کو تکلیف ہو گی تو ایسی صورت میں تکلیف دہ حد تک طویل قرأت کرنا حرام ہے ۔
مذکورہ مسئلہ اور اسکے متعلق مندرجہ ذیل جزئیہ ذکر والی نعت خوانی کا حکم بیان کرنے کے طور پر نہیں ،محض تخویف (یعنی ڈرانے)کیلئے ہے کہ کہیں نعت خوان ہمارے اسلامی بھائی ایذائے مسلم کے مرتکب نہ ہو رہے ہوں ۔ کیوں کہ بعض اوقات نیکی کا کام نیکی کا کام نظر آنیوالی بات بھی گناہ کاکام ہوتی ہے ۔ جس کا ہمیں علم نہیں ہوتا ۔
چنانچہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ فتاویٰ رضویہ : جلد : ۶ ، ص ۳۲۵پر فرماتے ہیں :
’’یہاں تک کہ اگر ہزار آدمی کی جماعت ہے اور صبح کی نماز ہے اور خوب وسیع وقت ہے اور جماعت میں 999آدمی دل سے چاہیتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار یا ضعیف بوڑھا یا کسی کام کا ضرورت مند ہے اس پر طویل (یعنی طوالت ) کرے ۔بلکہ ہزار میں اس ایک کے لحاظ سے نماز پڑھائے جس طرح مصطفیﷺ نے صرف اس عورت اور اس بچے کے خیال سے نماز فجر معوذتیں (یعنی سورہ الفلق اور سورۃ الناس )میں ہے :اور معاذابن جبل رضی پر طویل میں سخت ناراضی فرمائی ہے یہاں تک کے رخسار مبارک شدت جلال سے سرخ ہوگئے اور فرمایا : کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ؟ کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والاہے ؟ کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے ؟ اے معاذ!
میرے آقا کے ثنا خوانو! اللہ تعالیٰ کا منہ سلامت رکھے ۔ خدا ارمان جایئے ! اور صرف پرانے انداز پر نعتیں پڑھئیے ۔ یقینا دنیا کا کوئی بھی مفتی اسلام مروجہ ذکر والی نعت خوانی کو واجب نہیں کہے گا ، زیادہ سے زیادہ مباح (جائز ) کہے گا ۔ اگر بالفرض کوئی مفتی صاحب مستحب بھی قرار دے دیں تب بھی حالات حاضر کا تقاضا یہی ہے کہ اس امر مستحب کو ترک کر دیا جائے کیوں کہ اس سے مسلمانوں کے مابین نفرت کا سلسلہ چل نکلا ہے اور تنفیر مسلمین سے بچنے کیلئے ضرور تاً مستحب کرترک کردینے کا حکم ہے ۔ جیسا کہ میرے آقا ارلیٰ حضرت رحمۃ مسلمانوں کے درمیان پیاروں ومحبت کی فضاقائم رکھنے وترک غیر اولیٰ پر مدارات خلق وامدارات خلق ومرعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت وایذاء وحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے ۔ (فتاویٰ رضویہ تخریج شدہ ،جلد اول ،ص۱۴)
اس ارشاد رضوی کے بعد سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ کے ماننے والوں کو ذکر والی نعت شریف پڑھنے سے بچناہی چاہئے اس لئے کے ان کا یہ فعل فتنہ نفرت وایزاوحشت کا باعث بن رہا ہے اور بیشمار مسلمانوں کو اس سے سخت تشویش ہے ۔اس ارشاد اعلیٰ حضرت رحمۃ کا مفہوم یہ ہے کہ مستحب عمل کو بھی ترک کرنا پڑے تو کردے ۔ مگر لوگوں کے دلوں کی خوشی کو مقدم رکھے اور فتنہ وفساد کا سبب بننے سے دوررہے ۔ ایک دوسرے کے خلاف چہ مگوئیاں کر کے فتنے کھڑے کرنیوالوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے ۔آپکی خیر خواہی کے جذبے کے تحت سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ کا ایک فتویٰ عرض کرتا ہوں ۔ یہ فتویٰ مذکورہ مسئلے میں شرعی حکم کے طور پر نہیں بلکہ فتنے کے حوالے سے اپنی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دلانے کیلئے ہے ۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ فتنے سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے نفل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پارہ :۳۰،سورۃ البروج کی آیت ۔۱۰میں ارشاد فرماتاہے :
ان الذین فتنو المومنین ولامؤمنٰت ثم لم یتوبو فلھم عذاب جھنم ولھم عذاب الحریق۔
’’بیشک جنہوں نے ایذادی مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو پھر توبہ نہ کی ان کیلئے جہنم کا عذاب ہے اور ان کیلئے آگ کا عذاب ۔‘‘ا س آیت مقدسہ کے تحت مفسر چہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ یہ بھی فرماتے ہیں :
’’مسلمانوں میں فتنہ پھیلانے والا بڑا مجرم ہے ،عالم کو چاہیے کہ ایسا غیر ضروری مسئلہ نہ بیان کرے جس سے فتنہ ہو۔‘‘(نورالعرفان :ص۹۷۵)
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ فتاویٰ رضویہ : ج ۲۱،ص : ۲۵۳پر فرماتے ہیں :مسلمانوں میں بلاوجہ شرعی اختلاف وفتنہ پیدا کرنا نیابت شیطان ہے (یعنی ایسے لوگ معاملے میں شیطان کے نائب ہیں )
حدیث پاک میں ہے :’’فتنہ سورہا ہے اسکے جگانے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ۔‘‘(الجامع الصغیر للسیوطی :ص:۳۷۰، حدیث ۵۹۷۵، دارلکتب العلمیہ ،بیروت)
اسلامی بھائیو! چونکہ بعض علمائے کرام ذکر والی نعت شریف پڑھنے کو جائز اور موسیقی والے انداز کی وجہ سے ناجائزوحرام کہتے ہیں ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: