Syed Munawar Hasan Today's Columns

رمضان المبارک کے فضائل از سیدمنور حسن

Syed Munawar Hasan
Written by Todays Column

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ مسلمانوں کے معاشرے میں رمضان کی آمد ایک اہم اطلاع اور خوشخبری کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ہر دل کی کلی کھل جاتی ہے ۔ ہر مرجھایا ہوا چہرہ چمک اٹھتاہے ۔ برگ و بار لانے کی کیفیت سے سرشار ہو جاتاہے، یہ چمک دمک اصلاً ایمان کی چمک دمک ہے ۔ جس کے دل کے اندر ایمان کا جتنا ذخیرہ ہو گا ، ایمان کی جتنی جمع پونجی ہو گی ، جس شخص کا اپنے رب کے ساتھ گہرا اور قریبی تعلق ہو گا لازم ہے کہ وہ اس ماہ مبارک کا ٹوٹ ٹوٹ کر انتظار کرے، اور اس سے استفادے کے لیے پروگرام اور منصوبے بنائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھاکہ جب آپ ؐ رجب کا چاند دیکھتے تو یہ دعا فرماتے کہ اللھم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلغ لنارمضان…. ’’اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان کے مہینوں کی برکتیں عطا فرما دیجئے اور رمضان المبارک تک پہنچادیجئے‘‘یعنی یہ جو آپ ﷺکی دعا کے اندر شوق ہے ، انتظار ہے، رمضان کی آمد پر خوشی کا اظہار ہے اور بارگاہ رب العزت میں یہ التجا ہے کہ رمضان المبارک تک پہنچ جایا جائے اس کی برکتوں سے ہمکنار ہوا جائے، اس کی رحمتوں کا سزاوار ہوا جائے ، ظاہر ہے کہ اس کے اندر بڑی معنویت ہے ۔ جو شخص بھی اپنے آپ سے واقف اور اپنی معرفت رکھتاہے اور اپنے شب و روز کے معمولات کے حوالے سے قرآن و سنت کے پیمانے پر اپنے آپ کو جانچتااور پرکھتاہے وہ تو بجا طور پر اس ماہ مبارک کا ہر ہر حوالے سے انتظار کرے گا ،کہ اس کی ہر گھڑی ایک نعمت کی گھڑی ہوتی ہے ،اس کا ہر لمحہ رحمت کا لمحہ ہوتاہے اور اس کی ہر ساعت بندگان رب کی بخشش، مغفرت اور بارگاہ رب العزت میں قربت کا پروانہ لے کر آتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا میں جہاں آپ ؐ کے اشتیاق اور انتظار کااور اس ماہ مبارک کی برکتوں کے بارے میں لوگوں کو متنبہ اور متوجہ کرنے کا اظہار ہوتاہے، وہیں حقیقت یہ ہے کہ دعا کے نتیجے میں انسان اپنے آپ کو اس کھونٹے سے بھی باندھ دیتاہے کہ جس سے بندھے ہونے کے بعد ہی بندگی ٔ رب کے تقاضے پورے ہوتے ہیں ۔ایک طویل حدیث سے بھی اس بات کی ترغیب ملتی ہے کہ اس ماہ مبارک میں جو کچھ پنہاں اور مضمر ہے، انسان اس کو جانے ، اس کویا دہانی و تذکیر کا عنوان بنائے اور جو کچھ اس ماہ مبارک، اس کے شب و روزاور اس کے ہر ہر لمحہ کے اندر موجود ہے ، اس سے مستفیدہونے کے لیے اسے اپنے دامن اور جھولی میں بھرنے کی کوشش کرے ۔ حدیث میں آتاہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لیے تشریف لائے ، اپنی مسجدکے منبر پر تشریف فرماہونے کے لیے آپﷺ نے جب منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا ، آمین ۔ دوسری سیڑھی پر قدم رنجہ فرمایا تو آپﷺؐنے فرمایا ، آمین۔ تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا ، آمین۔ لوگوں کے کانوں نے آپﷺسے تین بار آمین سنا اس کے بعد آپؐ نے خطبہ ارشاد فرمایا، لوگوں کو جو وعظ و نصیحت کرنی تھی اس سے آگاہ فرمایا ۔جب آپ ﷺ منبر سے اتر کر نیچے تشریف لائے تو قدرے تجسس کے ساتھ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ایک بالکل انوکھی سی بات ہمارے کانوں میں پڑی اور آنکھوں کے سامنے سے گزری کہ آپؐ نے تین بار آمین فرمایا اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا اور اس کے بعد ہمارے کانوں نے کچھ نہیں سنا کہ آپ ﷺ کس بات پر آمین فرمارہے تھے ، کیا واقعہ پیش آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے، جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو انہوںنے فرمایا کہ ہلاک ہو جائے برباد ہو جائے وہ شخص جو اپنے بوڑھے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کو اپنی زندگی میں پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوسکے تو بلاشبہ اس کیلئے ہلاکت اور بربادی ہے ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس پر آمین کہا۔ جب میں دوسری سیڑھی پر پہنچا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص کہ جس کے سامنے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام نامی اسم گرامی لیا جائے اور وہ پھر بھی آپ ﷺپر درود نہ بھیجے ۔ آپ ؐ نے فرمایا میں نے آمین کہا ۔ تاوقتیکہ آپﷺ نے تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ ہلاک ہو جائے ،برباد ہوجائے وہ شخص جو رمضان کی برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ پائے اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہو سکے ۔ جس مہینے کا ہر لمحہ برکت ، رحمت اور مغفرت کاہے ،جس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں فراخ اور کشادہ ہو جاتے ہیں،ان میں داخلے کی سہولت مل جاتی ہے تو پھر بھی بخشش نہ کروا سکنا حیران کن ہے ۔ بہت سے لوگ اس حدیث کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل امین ؑ بدعا کر رہے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تصدیق فرما رہے ہیں ۔ اس پر گرہ لگا رہے ہیں اور آمین کہہ کر اس بدعا کا ساتھ دے رہے ہیں، حالانکہ معاملہ ایسا نہیں ہے۔ جب کیفیت یہ ہو کہ چاروں طرف بہار کا سماں ہو ، ہر طرف گل و گلزار کی محفلیں آباد ہوں ،ہر جانب صورت یہ ہو کہ پتھر بھی برگ و بار لا رہے ہوں، چٹانوں سے بھی سبزہ ابل رہاہو ۔ ہر طرف مہک اور خوشبو موجود ہو ۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں گرا پڑا بیج بھی برگ و بار لا رہاہو ۔ اگر کوئی بیج اس موسم میں بھی برگ و بار لانے سے رہ جائے تو اس کی بدنصیبی پر کسی بددعا کی توقطعاً ضرورت نہیں ہے ۔ اس کی ہلاکت تو عرش کے پائے کے اوپر لکھی ہوئی ہے ۔ اس کی بربادی کے افسانے تو چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں ،دراصل اس حدیث کے اندر ایک تنبیہ اور یا دہانی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر رمضان المبارک کی برکتوں کا تذکرہ ہے کہ اس میں گیا گزرا اور چاروں طرف سے گناہوں کے اندرڈوباہوا ، شب و روز اسی ماتم کے اندر گرفتار اور اپنے سراپا ووجود کے اعتبار سے نافرمانی اور نسیان میں گھرا ہواانسان بھی، اس ماہ مبارک کی برکتوں رحمتوں ، بخششوںاور جنتوں کے دروازے کھل جانے سے ، شیاطین کے مقید ہو جانے سے بھی استفادہ نہ کرے اور اپنی طبیعت اور مزاج کے اندر وہ کیفیت پیدا نہ کر ے جو مطلوب ہے، وہ طلب اور جستجو پیدا نہ کرے تو اس کے لیے ہلاکت کے علاوہ کون سا لفظ استعمال کیا جائے، اس لیے یہ مسئلہ کسی کے لیے بددعا کا نہیں ہے، مسئلہ انسانوں کے کردار ان کے افعال اور شب و روز کے معمولات اور زندگی گزارنے کی انہوں نے جو ڈگر اپنائی ہوئی ہے اس کو کوسنے کا اور اس جانب متوجہ کرنے کاہے!۔ ہر طرف یہ صدائیں ہیں کہ کوئی ہے جنت کا طلبگار جسے جنتوں میں داخل کر دیا جائے؟ ۔ کوئی ہے مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہوں کو دھوکر اسے مغفرت کا سر ٹیفکیٹ دے دیا جائے ؟۔ کوئی ہے کہ جس نے طاغوت کی فرمانروائی کے لیے خود کو مختص کیاہو ا تھا اور اپنے اعمال کو نیکیوں سے کہیں دورلے جاکر آباد کیا ہوا تھا؟؟ ، کوئی ہے جو از سر نو لوٹنے اور پلٹنے والا ہو ۔ اپنے رب کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ و استغفار کرنے والا ہو ۔ اس کے دربار میں اپنی پیشانی کو جھکانے والا ہو اور اپنے دل و دماغ کی دنیا میں اپنے رب کی بندگی کا حوالہ مضبوط سے مضبوط تر کرنے والا ہو ۔ یعنی رحمت ، بخشش اور مغفرت کے سارے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ ہر نیکی کا حصول آسان بنا کر اس کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتاہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری شب جس کا امکان ہے کہ ہمیں بھی میسر آئے گی !۔ صحابہ ؓ کومسجد نبوی میں جمع فرمایا، انہیں اپنی خدمت میں حاضری کا موقع دیا اور وہ طویل خطبہ ارشاد فرمایا جس کے ہر لفظ کی تشریح کی جائے تو بھی اس کی تفسیر بیان نہیں ہو سکتی اور ہر لفظ اپنی جگہ معنی و مفہوم کا طالب رہتاہے ۔ آپﷺؐ نے ارشاد فرمایا ’’ اے لوگو ! تم پر ایک نہایت ہی برکت وعزت والا مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے جس کا پہلا عشرہ رحمت ، دوسرا بخشش اور تیسرا جہنم سے آزادی کاہے ۔ دلوں کو متوجہ کرنے او ر رب سے تعلق جوڑنے کا لمحہ ہے ۔ رحمتوں کی بارش ہورہی ہے مغفرتوں کے حوالے مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں ۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ صبر کا مہینہ ہے ۔زندگی کے تمام دائروں میں صبر کی تربیت دینے اور صبر کی کیفیت سے سرشار ہونے کے لیے ،صبر کی خصوصیات اور صفات سے متصف ہونے کے لیے رمضان المبارک کے جو لمحات اس جانب رہنمائی کرتے ہیں کہ صبر کی کیفیت سے جو سرشار اور مالا مال ہو جاتے ہیں وہ دیگر مراحل سے بآسانی گزر جاتے ہیں ۔ آپﷺؐ نے فرمایا کہ صبر کاصلہ جنت ہے ۔ آپ ؐﷺ نے فرمایا کہ اس ماہ مبارک کے دن کے روزے فرض کیے گئے ہیں ۔راتوں کو جاگنے کی اگرچہ فرضیت کا اعلان نہیں کیاگیا مگر اس کی اہمیت اور برکت کا اس خطبے میں واضع اعلان ہے ۔ راتوں کو جاگنا تو ویسے بھی افضل ہے، مگر رمضان کی راتوں کو جاگنے کی فضیلت تو بے حدو حساب ہے ۔آپ ﷺ نے اس کی خصوصی اہمیت وکیفیت سے لوگوں کو آگاہ کیا اور اس میںقرآن پاک سے جڑنے ، قرآن پاک کا ہوجانے، قرآن پاک ہی کو اپنی زندگی کا مرکز و محور بنانے، اسی کو اول و آخر قرار دینے،اس کو سینے سے چمٹا کر اپنے سینے کے اندر محفوظ کر لینے اور اس کے نتیجے میں بالآخر اپنے اعمال کو اس کے رنگ میں رنگ کر مزین کرلینے کی طرف آپﷺ ؐ نے بار بار توجہ دلائی ۔ صیام رمضان کے ساتھ قیام رمضان یہی رمضان کی راتوں کا قیام ہے ۔انہی راتوں میں سے ایک رات لیلتہ القدر بھی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ،یعنی قریباً84سال کی دن رات کی عبادت سے بہتر! جوایک انسان کی زندگی بھر بلکہ عام زندگی سے بھی دس بیس سال زیادہ بنتی ہے کی عبادت ہے جو صرف ایک رات کی عبادت سے حاصل ہوسکتی ہے ۔ دن کے روزے اور رات کا قرآن ، پورے قرآن پاک کو نماز تراویح میں سننا ۔ اسی خطبے میں آپؐﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اس ماہ مبارک میں نفل کی ادائیگی پر فرض کا ثواب اور فرض کے اجر کو سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتاہے ۔ماہ رمضان ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے ،حاجت مندوں کی حاجت روائی ،بے بسوں اور ناکسوں کی دلجوئی ،سب کواپنا بنانے اور ہرایک کے دکھوں مصیبتوں پریشانیوں کو مل کردور کرنے کا موسم ہے ۔اس ماہ رمضان میں ایک بار پھر ہمیں اس عہد کو زندہ و تابندہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ستائسویں رمضان المبارک کو اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو خطہ زمین نعمت کے طور پر عطا فرمایا تھا ،ہم پاکستان کو اس کے حصول کے مقصد تک پہنچا کر دم لیں گے اور اس سلسلے میں پیش آمدہ مشکلات کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے ملک میں نفاذ اسلام کے ایجنڈے کی طرف آگے بڑھتے رہیں گے ۔

٭…٭…٭

About the author

Todays Column

Todays Column

Leave a Comment

%d bloggers like this: